ترقی یافتہ دنیا کا المیہ ہو یا پاکستان کا بحران، ذہنی سکون کے بغیر خوش حالی ادھوری ہے۔ دنیا آج ترقی کی جس منزل پر کھڑی ہے انسانی تاریخ میں شاید اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ انسان نے چاند کو تسخیر کر لیا، مصنوعی ذہانت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا کر انسان آج AI کی مدد سے بے شمار کام لے رہا ہے۔ تیز رفتار ابلاغ کی یہ صورتحال ہے کہ چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغام پہنچانے کے قابل ہو گیا ہے۔ انسان نے علاج کی ایسی سہولیات حاصل کر لی ہیں جن کا کبھی تصور بھی ممکن نہ تھا مگر اس سب کے باوجود ایک سوال آج پوری انسانیت کے سامنے کھڑا ہے: کیا انسان اتنی ترقی کے بعد واقعی خوش بھی ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ بظاہر ترقی یافتہ اور خوش حال معاشروں میں بھی ذہنی بے سکونی، ڈپریشن، اضطراب، تنہائی اور مایوسی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
عوامی رائے جانچنے والی معروف کمپنی ایپسوس کے تعاون سے ہونے والے ایک سروے میں 18 ممالک کے 19 ہزار افراد کی آرا کا جائزہ لیا گیا۔ سروے کے نتائج نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ معاشی ترقی اور جدید سہولیات کے باوجود ذہنی صحت کا بحران دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ روزمرہ زندگی کا دباؤ، معاشی مشکلات، کام کا غیر معمولی بوجھ، سماجی تنہائی، خاندانی نظام کی کمزوری اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی اس بحران کے اہم اسباب میں شامل ہیں۔یہ صورت حال پاکستان کے لیے بھی ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ ہمارے ہاں ذہنی صحت کا مسئلہ شاید اس لیے زیادہ سنگین ہے کہ ہم نے ابھی تک اسے باقاعدہ مسئلہ تسلیم ہی نہیں کیا۔ ہم جسمانی بیماری پر فوراً ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، لیکن ذہنی پریشانی، ڈپریشن یا شدید اضطراب کا شکار شخص اگر ماہرِ نفسیات سے رجوع کرے تو اسے بعض اوقات عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ کسی کو ”پاگل” کہہ دینا ہمارے معاشرے میں آج بھی آسان ہے مگر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ذہنی بیماری بھی دوسری بیماریوں کی طرح ایک قابلِ علاج طبی مسئلہ ہے۔
پاکستان میں ذہنی صحت کی صورت حال کو مکمل طور پر جانچنے کے لیے جامع اور مسلسل قومی سطح کے اعداد و شمار کی ضرورت ہے، تاہم مختلف تحقیقات اور ماہرین کی آرا اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ملک کی ایک بڑی آبادی ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ خواتین، نوجوان، بے روزگار افراد، معاشی مشکلات سے دوچار خاندان، گھریلو تنازعات کا شکار افراد اور مسلسل دباؤ میں زندگی گزارنے والے شہری اس بحران سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ہمارے مسائل کی فہرست طویل ہے۔ بدقسمتی سے ملکی حالات ایسے پیدا کر دیے گئے ہیں کہ ہر تیسرا بندہ مضطرب اور بے چین ہے۔ مہنگائی نے عام آدمی سے ذہنی سکون چھین لیا ہے، بے روزگاری نے نوجوانوں کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے، تعلیمی دباؤ نے طلبہ کی زندگی کو امتحانات اور مقابلے کی دوڑ میں تبدیل کر دیا ہے۔ والدین کی غیر حقیقی توقعات نے نوجوانوں کو ڈپریشن میں مبتلا کر دیا ہے۔ ملازمت کا دباؤ لوگوں کا سکون چھین رہا ہے۔ خاندانی تنازعات نے خوف اور عدم برداشت کو فروغ دیا ہے۔ گھریلو تشدد نے خواتین کو عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کر دیا ہے۔ منشیات، نیند کی کمی اور سماجی تنہائی بھی ذہنی صحت کو متاثر کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا نے ایک نیا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔
نوجوان دوسروں کی زندگی کی خوبصورت تصویریں دیکھ کر اپنی پوری زندگی کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں۔ انہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ سوشل میڈیا پر اکثر زندگی کا صرف خوب صورت رخ دکھایا جاتا ہے، مشکلات اور ناکامیاں سامنے نہیں لائی جاتیں۔ دوسروں سے مسلسل موازنہ، ”لائکس” اور ”فالوورز” کی دوڑ اور مصنوعی کامیابی کا تصور نوجوانوں میں احساسِ کمتری اور اضطراب پیدا کر رہا ہے۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں ذہنی صحت کے علاج کی سہولیات ہماری ضرورت کے مقابلے میں بہت محدود ہیں۔ ماہرینِ نفسیات اور سائیکاٹرسٹس کی تعداد کم ہے، سرکاری شعبے میں سہولیات ناکافی ہیں اور دیہی علاقوں میں صورت حال مزید تشویش ناک ہے کہ وہاں کے باشندوں کو نفسیاتی بیماریوں کے بارے میں علم ہی نہیں ہے۔ ایسی صورت میں سرکاری سطح پر یا این جی اوز کے ذریعے کوئی آگاہی مہم چلانے کی کبھی ضرورت محسوس ہی نہیں کی گئی۔ ہمارے ہاں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ مالی وسائل نہ ہونے یا سماجی بدنامی کے خوف سے علاج تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ذہنی صحت کو صحت کے مجموعی نظام کا لازمی حصہ بنایا جائے، نہ کہ اسے ایک الگ اور نظر انداز شدہ شعبہ سمجھا جائے۔
حکومت کو چاہیے کہ ذہنی صحت کو قومی ترجیحات میں شامل کرے۔ صحت کے بجٹ میں اس شعبے کے لیے مناسب وسائل مختص کیے جائیں، ہر ضلع کے بڑے سرکاری اسپتال میں نفسیاتی علاج اور مشاورت کی سہولت فراہم کی جائے، بنیادی صحت کے مراکز تک ذہنی صحت کی خدمات پہنچائی جائیں اور ماہرین کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ ٹیلی مینٹل ہیلتھ اور آن لائن مشاورت کی سہولیات بھی ان علاقوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں جہاں ماہرین دستیاب نہیں۔تعلیمی اداروں میں بھی انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ہر بڑے اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں تربیت یافتہ کونسلر یا ماہرِ نفسیات کی دستیابی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ اساتذہ کو بھی تربیت دی جائے کہ وہ طلبہ کے رویوں میں غیرمعمولی تبدیلی، مسلسل اُداسی، تنہائی، خوف، غصے یا شدید اضطراب کی علامات کو پہچان سکیں۔ بچوں کو صرف نمبر لینے والی مشینیں سمجھنے کے بجائے ان کی ذہنی اور جذباتی ضرورتوں کو بھی اہمیت دینا ہو گی۔
تعلیم کا مقصد صرف امتحان پاس کرنا نہیں بلکہ ایک متوازن، بااعتماد اور ذمہ دار انسان تیار کرنا بھی ہے۔خاندان ذہنی صحت کی حفاظت کا سب سے مضبوط قلعہ بن سکتا ہے۔ والدین بچوں کو صرف ان کے نمبروں، ملازمت یا آمدنی سے نہ پرکھیں۔ ان کے ساتھ بیٹھیں، ان کی بات سنیں، ان کے مسائل کو اہمیت دیں۔ گھر میں ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں بچے خوف کے بغیر اپنے جذبات بیان کر سکیں۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھیں، بزرگوں کو تنہائی کا شکار نہ ہونے دیا جائے اور خاندان کا کوئی فرد ذہنی دباؤ میں ہو تو اسے طعنہ دینے کے بجائے سہارا دیا جائے۔ماہرینِ نفسیات اور سائیکاٹرسٹس کی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ انہیں علاج کے ساتھ ساتھ معاشرے میں ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ مریضوں کی رازداری، عزت اور وقار کا تحفظ کیا جائے اور علاج کو عام اور قابلِ رسائی بنایا جائے۔ مذہبی رہنما، علماء اور روحانی شخصیات بھی معاشرے میں یہ شعور اجاگر کر سکتی ہیں کہ ذہنی بیماری شرمندگی کی بات نہیں اور علاج کروانا کسی کمزوری کی علامت نہیں۔
ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں بھی کچھ ایسی عادات اپنانا ہوں گی جو ذہنی صحت کو بہتر بنائیں۔ مناسب نیند، متوازن غذا، روزانہ چہل قدمی یا ورزش، سوشل میڈیا کا محدود اور ذمہ دارانہ استعمال، مطالعہ، فطرت کے قریب وقت گزارنا، دوستوں اور خاندان سے مثبت تعلق، تنہائی سے بچاؤ اور اپنے جذبات کسی قابلِ اعتماد شخص سے شیئر کرنا ذہنی صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔ اگر ذہنی دباؤ مسلسل برقرار رہے یا روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو ماہرِ نفسیات سے مشورہ کرنے میں ہرگز تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ ذہنی صحت صرف فرد کا مسئلہ نہیں، پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ ایک پریشان انسان اپنے گھر، کام کی جگہ اور معاشرتی تعلقات پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔ ایسے واقعات آئے روز ہونے لگے ہیں کہ غربت سے تنگ آ کر گھر کے سربراہ نے پورے خاندان کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔ اس لیے حکومت، خاندان، تعلیمی اداروں، میڈیا، مذہبی رہنماؤں اور ماہرینِ نفسیات سب کو مل کر اس خاموش بحران کا مقابلہ کرنا ہو گا۔دنیا نے ترقی کے نام پر انسان کو بہت کچھ دیا مگر اب وقت آ گیا ہے کہ انسان کو سکون بھی دیا جائے۔ ہمیں ایسی ترقی نہیں چاہیے جس میں عمارتیں بلند ہوتی جائیں اور انسان اندر سے ٹوٹتے جائیں۔ ایسی معیشت، ایسی تعلیم، ایسی سیاست اور ایسا معاشرہ کس کام کا جو انسان کو خوشی، اطمینان اور ذہنی تحفظ نہ دے سکے۔

