مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کا داخلہ پھر بند،صہیونی حملوں میں8شہید

مقبوضہ بیت المقدس /غزہ/تل ابیب:جمعرات کے روز سینکڑوں یہودی آباد کاروں نے قابض اسرائیلی فورسز کے سخت سیکورٹی حصار میں مسجد اقصیٰ کے مبارک صحنوں میں دراندازی کی، جو نام نہاد ہیکل کی تباہی کی یاد منانے کے موقع پر کی گئی اشتعال انگیز کارروائی ہے۔

اس دوران انہوں نے اس کے صحنوں میں اشتعال انگیز چکر لگائے اور تلمودی رسومات ادا کیں۔قابض فورسز نے اس موقع پر مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کے داخلے پر سخت ترین اقدامات نافذ کیے جو ہیکل نامی انتہا پسند گروپوں کی طرف سے اس مناسبت کے دوران مسجد پر دھائووں کو تیز کرنے کے لیے دی گئی اپیلوں کے ساتھ بیک وقت سامنے آئے۔

گورنری نے اس بات کی تصدیق کی کہ قابض فورسز نے مسجد اقصیٰ کے دروازوں پر اور قدیم شہر کے گرد و نواح میں سخت اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور نمازیوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روک رہی ہیں۔

دریں اثناء فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں فائر بندی کے معاہدے کے نفاذ کے بعد سے شہداء کی مجموعی تعداد بڑھ کر 1185 ہو چکی ہے، اس کے علاوہ قابض اسرائیلی عسکری جارحیت کے تسلسل کے نتیجے میں 3816 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

وزارت صحت نے ایک بیان میں بتایا کہ غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں نے گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 8شہداء کے جسدخاکی وصول کیے ہیں ۔اس کے علاوہ 6 زخمی بھی لائے گئے۔وزارت صحت نے اس بات کی تصدیق کی کہ متعدد شہداء اور متاثرین اب بھی ملبے کے نیچے اور سڑکوں پر پڑے ہیں۔

وزارت نے واضح کیا کہ غزہ پر سات اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی جارحیت کے مجموعی شہداء کی تعداد بڑھ کر 73,311 اور 173,924 زخمیوں تک پہنچ گئی ہے۔

علاوہ ازیںمقبوضہ مغربی کنارے میں قابض صہیونی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو فلسطینی نوجوانوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا۔

فلسطینی اتھارٹی کی جنرل اتھارٹی برائے سول امورنے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مقبوضہ نابلس کے مشرق میں واقع قصبے بیت فوریک میں قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے فائرنگ کے نتیجے میں دو نوجوان محمود حسین نصر اللہ حننی اور محمد سامر ملیطات جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں۔

یہ پیش رفت قابض اسرائیلی میڈیا کی طرف سے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے کہ نابلس کے مشرق میں قصبے بیت فوریک کے قریب قابض فوج کے اہلکاروں کو نشانہ بنا کر چاقو سے حملہ کرنے کی مبینہ کوشش کرنے والے دو نوجوانوں پر گولیاں برسائی گئیں جہاں موقع پر موجود فورسز نے شک اور حملے کی کوشش کے بہانے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے ۔

دوسری جانب غزہ میں شہری دفاع کے ادارے نے اس وحشیانہ جرم کی شدید مذمت کی ہے جو قابض اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی خاندان کے گھر پر گذشتہ روز فجر کے وقت بمباری کر کے انجام دیا جس کے نتیجے میں گھر کے تمام افراد جھلس کر شہید ہو گئے۔

ادارے نے اس بات کی تصدیق کی کہ ہدف بننے والے گھر میں ایک پورا خاندان موجود تھا، قابض اسرائیل کے فضائی حملے نے اس گھر میں آگ بھڑکا دی جس کے نتیجے میں ماں، باپ اور ان کے بچے زندہ جل کر شہید ہو گئے جبکہ بچاؤ کا عملہ ان تک پہنچنے اور انہیں بچانے سے قاصر رہا۔

ادھرجمعرات کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے مشرق میں یہودی آباد کاروں نے زرعی اراضی کو نذر آتش کر دیا جس کے باعث ان علاقوں میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر الخلیل کے شمال میں واقع شہر حلحول کے علاقے واد قبون میں جنازرہ خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک باغ میں تقریباً چار ہزار کلوگرام انگور کی فصل کو تباہ کر دیا جسے زمین کے مالکان نے ایک المناک نقصان قرار دیا۔

قابض اسرائیلی فوج نے جمعرات کو فجر کے وقت مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر چھاپہ مار مہم کے دوران 22 فلسطینی شہریوں کو حراست میں لے لیا جن میں نابلس کے سابق میئر، رہا ہونے والے اسیران اور بچے شامل ہیں۔

مقبوضہ بیت المقدس کے مشرق میں ایک فلسطینی گھر پر یہودی آباد کاروں کی طرف سے حملہ کیا گیا۔ اس کی کھڑکیاں توڑ دیں اور اس کے سامان کی توڑ پھوڑ کی۔

ادھرقابض اسرائیلی حکام نے غزہ کے 35 مظلوم اسیران کو مختلف ادوار تک قید میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے عملے کے ذریعے رہا ہونے والے ان مظلوم اسیران کے غزہ کے جنوب میں واقع شہر خان یونس کے ناصر ہسپتال پہنچنے کی اطلاع دی ہے۔

ریڈ کراس نے اعلان کیا کہ اس نے آج کرم ابو سالم کراسنگ سے 35 زیر حراست مظلوم شہریوں کو خان یونس کے ناصر ہسپتال منتقل کرنے میں سہولت فراہم کی ہے۔

فلسطینی اسیران کے اداروں کی جانب سے جولائی کے اوائل تک جاری ہونے والے تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ قابض صہیونی عقوبت خانوں میں فلسطینی اسیران اور نظربندوں کی تعداد تقریباً 9400 تک پہنچ چکی ہے جن میں غزہ سے تعلق رکھنے والے 1320 نظربند شامل ہیں جنہیں قابض حکام نام نہاد غیر قانونی جنگجو قرار دیتے ہیں۔

حماس نے کہا ہے کہ مقبوضہ نابلس کے مشرق میں پیش آنے والا چاقو کا حملہ جس کے نتیجے میں ایک یہودی آباد کار زخمی ہو گیا، پورے فلسطین پر قابض دشمن کی جاری جارحیت کے خلاف غم و غصے کی لہر اور اس کے ردعمل کے فریم ورک کے تحت سامنے آیا ہے۔

حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ بہادرانہ کارروائی جو مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور نابلس کے مشرق میں یہودی آباد کاروں کے حملوں کے بعد سامنے آئی ہے اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فلسطینی عوام اس جارحیت پر خاموش نہیں رہیں گے اور دشمن کو معاف نہیں کریں گے جب تک قابض دشمن ارضِ مقدس پر موجود ہے مزاحمت زندہ رہے گی۔