غزہ:غزہ میں اسرائیلی جارحیت جاری،القسام بریگیڈ کے کمانڈر،ان کی اہلیہ اور6سالہ بیٹی سمیت مزید8افراد شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے دیرالبلاح پرفضائی حملے میں القسام بریگیڈکے کمانڈر عمراحمد ابوقاسم کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے، فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں عمر ابو قاسم، ان کی اہلیہ اور 6 سالہ بیٹی شہید ہو گئے جبکہ ان کا کمسن بیٹا زخمی حالت میں بچ گیا۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ عمر ابو قاسم جنگ کے دوران غزہ میں اسرائیلی فوج پر حملوں میں ملوث تھے۔ تاہم اس دعوے پر فلسطینی مزاحمتی تنظیم کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ادھرفلسطینی طبی ذرائع کے مطابق خان یونس کے مغرب میں اصداء کے قریب صہیونی طیاروں نے ایک جیپ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں انس محمود احمد حمدان شہید ہو گئے جبکہ ایک خاتون اور ایک بچے سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے۔
جمعرات کی صبح غزہ شہر کے مغرب میں واقع بندرگاہ کے علاقے میں بے گھر افراد کے خیمے پر صہیونی طیاروں کے حملے میں نہاد ریاض عروقی شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔غزہ شہر کے جنوب مشرق میں واقع محلہ الزیتون کے جنوب میں مفترقِ دولہ کے قریب صہیونی توپ خانے کی گولہ باری سے ابراہیم رضوان خطاب شہید ہو گئے۔
یہ حملہ اس وقت ہوا جب صہیونی ٹینکوں نے محلے کے مشرق میں واقع شارع السکہ میں پیش قدمی کی۔اسی دوران فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے محلہ الزیتون میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں پانچ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی جبکہ ایک صہیونی ہیلی کاپٹر نے بھی غزہ شہر کے مشرقی علاقوں کی جانب فائرنگ کی۔
شمال مشرقی غزہ میں محلہ التفاح کے مفترقِ سنافور کے قریب اسرائیلی بمباری سے محمد عاہد الریفی اور سہیل صلاح اہدیبی شہید ہو گئے اور کئی دیگر افراد زخمی ہوئے۔مزید برآں وسطی غزہ میں دیر البلاح کے علاقے البرکہ میں واقع ایک گھر اور نصیرات کیمپ کے مغرب میں ایک اور گھر کو صہیونی طیاروں نے نشانہ بنایا جس سے متعدد شہری زخمی ہوئے۔
اسرائیلی طیاروں نے البریج کیمپ پر بھی فضائی حملہ کیا جبکہ توپ خانے نے البریج کیمپ کے شمال اور المغازی کیمپ کے مشرق میں گولہ باری کی۔ اسی طرح دیر البلاح کے مشرق میں واقع علاقے ابو العجین میں قابض فوج نے دھویں کے بم برسائے۔
خان یونس شہر کے شمال میں واقع قصبے القرارہ اور شہر کے شمال میں مدینہ حمد کے مشرق میں شاہراہ صلاح الدین کے گردونواح میں بھی توپ خانے سے گولہ باری کی گئی۔شمالی غزہ کے قصبے بیت لاہیہ میں مدرسة ابو تمام کے قریب صہیونی بکتر بند گاڑیوں کی پیش قدمی بھی دیکھی گئی۔
دریں اثناء مغربی کنارے کے جنوب میں واقع شہر الخلیل میں ایک یہودی آباد کار نے گاڑی تلے روند ایک بچہ زخمی کردیا۔چھ سالہ بچہ مخلص عمار محمود السلایمہ الخلیل کے پرانے شہر میں سلایمہ محلے کے داخلی راستے پر واقع 160 نمبر فوجی چوکی کے قریب ایک یہودی آباد کار کی گاڑی کی زد میں آ کر زخمی ہوا۔
واقعے کے بعد یہودی آباد کار موقع سے فرار ہو گیاجبکہ ریڈ کراس کی ایمبولینس نے بچے کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کردیا۔
ادھرقابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس کے سلوان قصبے کے علاقے حی العین میں ایک فلسطینی شہری کو اپنے گھر کا ایک حصہ خود مسمار کرنے پر مجبور کردیا۔
القدس گورنری نے بتایا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیل کی بلدیہ نے فلسطینی شہری محمد العباسی کو بغیر اجازت تعمیر کے بہانے اپنے گھر کا ایک حصہ مسمار کرنے پر مجبور کیا تاکہ وہ ان بھاری اخراجات سے بچ سکیں جو بلدیہ کی طرف سے لگائے جاتے اگر اس کا عملہ خود مسماری کا عمل مکمل کرتا۔
گورنری نے مزید وضاحت کی کہ جس حصے کو مسمار کرنے پر مجبور کیا گیا اس کا رقبہ 25 مربع میٹر تھا اور اس میں ان کے تین بچے رہائش پذیر تھے، یہ کارروائی 14 سالہ عدالتی تعاقب کے بعد ہوئی جس کا اختتام ان کے گھر کے خلاف حتمی مسماری کے حکم پر ہوا۔
علاوہ ازیںانسانی حقوق کے ذرائع نے الخلیل کے شمال میں واقع قصبے بیت امر سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ اسیرہ اور نرس شہد محمد احمد عادی کی جانب سے ایک انتہائی تکلیف دہ اور ہولناک گواہی نقل کی ہے۔
یہ گواہی دامون عقوبت خانے میں قید فلسطینی خواتین کے خلاف قابض اسرائیل کی جیل انتظامیہ کی انتقامی کارروائیوں اور غیر انسانی خلاف ورزیوں کی شدت کو بے نقاب کرتی ہے، جو اب قرآن مجید کو ضبط کرنے، وحشیانہ جسمانی تشدد اور پولیس کتوں کے ذریعے خوف و ہراس پھیلانے کی حد تک پہنچ چکی ہے۔
گواہی کا آغاز اس ملاقات کی تفصیلات سے ہوتا ہے جو آج اس اسیرہ کے ساتھ ہوئی، جنہیں گذشتہ 25 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے ملاقات کے لمحے کا ہولناک منظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایک اسیرہ کو سیاہ رنگ کے استعمال شدہ پلاسٹک کے کچرے والے تھیلے سے آنکھوں پر پٹی باندھ کر لایا گیا اور دوسری کو ایک ایسے پرانے میڈیکل ماسک کے ساتھ لایا گیا جسے درجنوں بار استعمال کیا جا چکا تھا۔
یہ تذلیل آمیز سلوک اس بات کا عکاس ہے کہ قابض اسرائیل فلسطینی اسیر خواتین کی عزتِ نفس کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہا ہے۔حالیہ انتقامی اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے اسیرہ شہد نے بتایا کہ پرسوں آدھی رات کو جب وہ تہجد کی نماز ادا کر رہی تھیں تو قابض اسرائیلی فوج نے ان کے کمروں (6، 7 اور 8) پر دھاوا بول دیا۔
انہوں نے اسیر خواتین کی آنکھوں پر پٹیاں باندھیں اور انہیں تذلیل آمیز انداز میں زمین پر لٹا دیا۔ اس کے بعد کمروں سے قرآن مجید چھین لیے گئے۔ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا تاکہ اسیر خواتین کو قید کے دوران ان کے بنیادی مذہبی اور روحانی حقوق سے محروم کیا جا سکے۔
اسیرہ نے اپنی گرفتاری کی پہلی رات سے جاری مسلسل تکالیف کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں ‘صورف،جبع کے کیمپوں میں دیگر قیدیوں کے ہمراہ شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہاں سے انہیں شارون جیل منتقل کیا گیا جہاں انتہائی سرد موسم کے باوجود انہیں اپنی عبایا اتارنے پر مجبور کیا گیا اور اسرائیلی فوجی خواتین کی جانب سے تذلیل آمیز سلوک کیا گیا۔
اسیرہ شہد نے دامون عقوبت خانے کے کمروں میں بگڑتی ہوئی رہائشی صورتحال کے بارے میں بھی بتایا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو موسمِ گرما کے مناسب کپڑوں سے محروم رکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ان میں جلد کی بیماریاں پھیل رہی ہیں اور انہیں کوئی طبی سہولت میسر نہیں ہے۔ اس کے علاوہ شیریں، نداء اور آیہ جیسی دیگر اسیر خواتین کو بھی من مانی تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب حماس نے مغربی کنارے میں بسنے والے فلسطینی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آباد کاری کے نشانے پر موجود تمام دیہاتوں اور قصبوں میں بھرپور عوامی اجتماع کریں، میدان میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں اور آباد کاروں کے حملوں اور ان کی دہشت گردی کا ہر ممکن ذرائع سے مقابلہ کریں۔
حماس نے کہا کہ قابض فوج اور آباد کاروں کے منصوبوں کو ناکام بنانے اور زمین پر قبضے اور جبری نقل مکانی کے عزائم کو شکست دینے کے لیے میدان میں نکلنا ضروری ہے۔
جمعرات کے روز اپنے بیان میں حماس کے رہ نما عبدالرحمان شدید نے زور دیا کہ آباد کاروں کی دہشت گردی فلسطینی عوام کے حوصلے توڑنے یا انہیں ان کی زمین سے بے دخل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمت اور اپنے اصولوں پر ثابت قدمی ہی جارحیت کے خلاف سب سے طاقتور ہتھیار ہے جو قابض فوج کے انخلاء اور تمام آباد کاری و یہودیت کے منصوبوں کو ناکام بنانے تک جاری رہے گی۔

