کرپٹو کرنسی پر حضرت شیخ الاسلام کا فتویٰ اور ادبِ اختلاف

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد دینِ اسلام کی امانت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سنبھالی۔ پھر تابعین، تبع تابعین اور ان کے بعد ہر دور کے ائمہ، محدثین، فقہاء اور علمائے ربانیین نے قرآن و سنت کی تعلیمات کو محفوظ رکھنے، ان کی تشریح کرنے اور پیش آنے والے نئے مسائل میں امت مسلمہ کی رہنمائی کرنے کی عظیم ذمہ داری ادا کی۔ یہی وہ مبارک سلسلہ ہے جس نے چودہ صدیوں سے دین کی اصل روح کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ عامة المسلمین کو جب بھی کوئی نیا دینی، معاشی، سماجی یا سائنسی مسئلہ درپیش آتا ہے تو قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کے اصولوں کی روشنی میں اس کا شرعی حکم بیان کرنا اور امت کو صحیح راہ دکھانا علمائے کرام کا فرضِ منصبی ہے۔ الحمدللہ ہر دور میں اہلِ علم نے تقویٰ، دیانت، اخلاص اور للہیت کے ساتھ یہ ذمہ داری نبھائی ہے اور آج بھی عصر حاضر کے نت نئے مسائل میں امت کی رہنمائی کا یہی فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

موجودہ دور میں کرپٹو کرنسی بھی انہی جدید اور پیچیدہ مسائل میں سے ایک ہے جس نے پوری دنیا میں علمی، معاشی اور شرعی سطح پر ایک وسیع بحث کو جنم دیا ہے۔ چونکہ یہ ایک نیا مالیاتی نظام ہے، اس لیے دنیا بھر کے ماہرینِ معیشت، ماہرینِ قانون اور فقہائے کرام اس پر مسلسل تحقیق کر رہے ہیں۔ اس موضوع پر اہلِ علم کی آرا مختلف ہیں۔ بعض اسے مخصوص شرائط کے ساتھ قابلِ قبول قرار دیتے ہیں، جبکہ متعدد ماہرین اسے کرنسی، زرِ ضمانت اور مستحکم مالیاتی اثاثہ تسلیم نہیں کرتے۔پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ محقق اور کمپیوٹر سائنسدان ڈاکٹر مبشر حسین رحمانی سمیت متعدد ماہرین کا موقف ہے کہ کرپٹو کرنسی میں شدید غیر یقینی کیفیت، قیاس آرائی اور سٹے بازی کے ایسے عناصر پائے جاتے ہیں جو اسے جوا سے قریب کر دیتے ہیں، اس لیے اسے حقیقی کرنسی یا قابلِ اعتماد زرمبادلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح دنیا کے مختلف اسلامی مالیاتی اداروں اور متعدد فقہی فورمز نے بھی اس موضوع پر مختلف زاویوں سے آرا پیش کی ہیں۔

اسی پس منظر میں گزشتہ دنوں استادِ محترم شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ نے جدید معاشی ماہرین کی تحقیقات، اسلامی فقہ کے اصولوں اور شرعی دلائل کی روشنی میں اپنی رائے پیش کرتے ہوئے کرپٹو کرنسی کو ناجائز قرار دیا۔ یہ ان کی ذاتی خواہش یا سیاسی رائے نہیں تھی بلکہ ایک فقیہ، مفتی اور عالمِ دین کی حیثیت سے ان کی شرعی ذمہ داری کا تقاضا تھا۔ ایک ایسا ثقہ عالم دین اور دینی مقتدا جس نے اپنی پوری زندگی قرآن، سنت، فقہ، اسلامی معیشت اور امت کی رہنمائی میں صرف کی ہو اور ہمیشہ دیانت کے تقاضوں کے مطابق اعتدال اور توازن کے ساتھ اپنی رائے دی ہو، اس کی علمی رائے کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس مسئلے پر دیگر اہلِ علم کی مختلف آرا موجود ہیں۔ بعض علماء کرپٹو کرنسی کو مخصوص شرائط کے ساتھ جائز قرار دیتے ہیں اور ان کے اپنے علمی دلائل ہیں۔ اختلافِ رائے ہمیشہ سے علمی روایت کا حصہ رہا ہے۔ فقہ اسلامی کی تاریخ ایسے بے شمار اختلافات سے بھری ہوئی ہے جن کے باوجود علمائے کرام نے ایک دوسرے کے احترام کو کبھی مجروح نہیں ہونے دیا۔ اس لیے اگر کوئی مفتی یا محقق کرپٹو کرنسی کے بارے میں مختلف رائے رکھتا ہے تو اسے علمی انداز میں پیش کرنا اس کا حق ہے، لیکن اس اختلاف کو تمسخر، طنز اور کردار کشی کا ذریعہ بنانا کسی بھی طور مناسب نہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ کے فتویٰ کے بعد جہاں بہت سے لوگوں نے علمی انداز میں موافقت یا اختلاف کیا، وہیں ایک ایسا طبقہ بھی سامنے آیا جس نے علم اور دلیل کی بجائے طنز، تمسخر اور غیر سنجیدہ گفتگو کا راستہ اختیار کیا۔ اختلافِ علمی کی بجائے شخصیات کو نشانہ بنایا گیا اور ایسے الفاظ استعمال کیے گئے جو نہ علمی روایت سے مطابقت رکھتے ہیں اور نہ ہی اسلامی اخلاقیات سے۔انہی افراد میں سابق وفاقی وزیر فواد چودھری صاحب بھی شامل ہیں، جنہوں نے حضرت مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ کے بارے میں نامناسب طرزِ گفتگو اختیار کیا۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ انہوں نے کسی جید عالمِ دین کو ہدف بنایا ہو۔ اس سے قبل بھی جب وہ حکومتی منصب پر فائز تھے تو اس وقت کے چیئرمین رویتِ ہلال کمیٹی حضرت مفتی منیب الرحمن صاحب کی ذات کو تمسخر کا نشانہ بنایا تھا، جس کا حضرت مفتی صاحب نے نہایت وقار، متانت اور علمی انداز میں جواب دیا تھا۔ اب ایک مرتبہ پھر جدید مالیاتی مسئلے پر ایک علمی فتویٰ سامنے آنے کے بعد اسی طرزِ عمل کا اعادہ کیا گیا۔

یہ امر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی عالم کے فتویٰ سے اختلاف کرنا ہر صاحبِ علم کا حق ہے، لیکن اس اختلاف کے بھی آداب ہیں۔ اگر دلائل سے اختلاف کیا جائے، علمی نقد پیش کیا جائے اور مہذب انداز اختیار کیا جائے تو یہی علمی روایت ہے لیکن اگر کسی عالم کی نیت پر حملہ کیا جائے، اس کی شخصیت کا مذاق اڑایا جائے یا عوام میں اس کے مقام کو مجروح کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ نہ صرف اخلاقی انحطاط کی علامت ہے بلکہ معاشرے میں علمی اقدار کو نقصان پہنچانے کے مترادف بھی ہے۔آج ہماری ضرورت یہ ہے کہ ہم دلیل کو دلیل سے جواب دیں، شخصیت کو نشانہ نہ بنائیں۔ علمائے کرام علم و دینی سیادت میں انبیائے کرام علیہم السلام کے وارث اور انبیائے کرام علیہم السلام کے کار منصبی کے امین ہیں۔ ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کی عزت و توقیر کو مجروح کرنا کسی مہذب معاشرے کی روایت نہیں۔

اگر کسی مسئلے میں مختلف آرا موجود ہوں تو عوام کو چاہیے کہ معتبر اہلِ علم سے رجوع کریں اور علمی اختلاف کو ذاتی دشمنی یا سیاسی کشمکش میں تبدیل نہ کریں۔پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جہاں دینی رہنمائی کا نظام ہمیشہ علماء کے ذریعے ہی مضبوط رہا ہے۔ جدید مسائل میں بھی امت کو انہی اصولوں کی ضرورت ہے جن کی بنیاد قرآن، سنت اور فقہ اسلامی پر قائم ہے۔ اگر ہم اہلِ علم کی آرا کو سنجیدگی سے سننے کے بجائے ان کا تمسخر اڑانے لگیں گے تو اس کا نقصان صرف علماء کو نہیں بلکہ پوری قوم کی علمی اور دینی روایت کو پہنچے گا۔ اختلافِ رائے علم کی علامت ہے، مگر اختلاف کا ادب علم سے بھی بڑی نعمت ہے۔ یہی اسلامی تہذیب کا حسن ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو معاشرے میں احترام، اعتدال اور فکری توازن کو برقرار رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات سمجھنے، اہلِ علم کا احترام کرنے اور ہر اختلاف کو اخلاق، علم اور دیانت کے دائرے میں رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!