رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
تقریباً 4برس تک نسبتاً خاموش رہنے والا یمن ایک مرتبہ پھر جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ جولائی کے آغاز میں پیدا ہونے والی نئی کشیدگی نے اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو 2022ءکی جنگ بندی کے بعد قائم ہونے والا نازک توازن کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے برسوں بعد براہ راست ایک مسافر طیارے کی صنعاءآمد، حوثی قیادت کی سعودی عرب کو کھلی دھمکیاں، سعودی قیادت میں قائم اتحاد کا سخت ردعمل، یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا ہنگامی اجلاس اور مختلف قبائل کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کررہی ہیں کہ یمن دوبارہ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اس بحران کے پس منظر میں یمن کی ایک دہائی پر محیط خانہ جنگی، علاقائی طاقتوں کی رسہ کشی، معاشی تباہی، قبائلی سیاست اور عالمی بحری تجارت کے مفادات بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کے ماہرین اس نئی صورتحال کو نہایت حساس قرار دے رہے ہیں۔
حوثی تحریک شمالی یمن کے صوبہ صعدہ سے ابھری۔ 1990ء کی دہائی میں یہ ایک مذہبی و سماجی تحریک تھی جس کے بانی حسین بدرالدین الحوثی تھے۔ ابتدا میں اس تحریک کا مقصد ’زیدی‘ مکتب فکر کی مذہبی شناخت کا تحفظ تھا لیکن وقت کے ساتھ یہ ایک منظم عسکری قوت میں تبدیل ہوگئی۔ 2004ءسے 2010ءتک حوثیوں اور اس وقت کے صدر علی صالح کی حکومت کے درمیان متعدد جنگیں ہوئیں مگر کوئی بھی فریق فیصلہ کن کامیابی حاصل نہ کرسکا۔ 2011ءمیں عرب بہار کے نتیجے میں یمن میں سیاسی بحران پیدا ہوا، صدر علی صالح اقتدار عبدربہ منصور ہادی کے حوالے کرنے پر مجبور ہوئے، لیکن نئی حکومت نہ تو سیاسی استحکام قائم کرسکی اور نہ ہی معاشی مسائل پر قابو پاسکی۔ اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حوثیوں نے 2014ءمیں دارالحکومت صنعاءپر قبضہ کرلیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مرحلے پر سابق صدر علی صالح کے وفادار فوجی یونٹس نے بھی حوثیوں کی مدد کی۔ چند ہی ماہ بعد صدر ہادی عدن اور پھر سعودی عرب منتقل ہوگئے جس کے بعد مارچ 2015ءمیں سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ مل کر فوجی اتحاد تشکیل دیا تاکہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو دوبارہ اقتدار میں لایا جاسکے۔ 10سال گزرنے کے باوجود نہ سعودی اتحاد حوثیوں کو مکمل طور پر شکست دے سکا اور نہ ہی حوثی پورے یمن پر قبضہ کر سکے۔
آج یمن عملاً دو حکومتوں میں تقسیم ہے؛ شمالی اور مغربی یمن کے بڑے حصے جن میں صنعا، صعدہ، عمران، ذمار، حجہ، الحدیدہ اور دیگر اہم علاقے شامل ہیں حوثیوں کے کنٹرول میں ہیں۔ دوسری طرف عدن میں قائم صدارتی قیادت کونسل، جس کی سربراہی رشادالعلیمی کررہے ہیں، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی نمائندگی کرتی ہے اور اسے سعودی عرب، اقوام متحدہ اور بیشتر عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے۔
حالیہ بحران کا آغاز اُس وقت ہوا جب ایران سے ایک مسافر طیارہ براہِ راست صنعاءپہنچا۔ یمنی حکومت نے اسے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ایران اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز کرتے ہوئے براہ راست حوثیوں سے روابط مضبوط کررہا ہے۔ دوسری جانب حوثیوں کا موقف تھا کہ سعودی اتحاد نے اس طیارے کو روکنے کی کوشش کی جس کے بعد ان کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دھمکی دی کہ اگر دوبارہ یمنی فضائی حدود میں مداخلت کی گئی تو سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، اقتصادی مراکز اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ جواب میں سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے واضح کیا کہ اگر سعودی عرب یا اس کے مفادات کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا جواب ”غیرمعمولی طاقت“ سے دیا جائے گا۔ سعودی موقف یہ بھی ہے کہ حوثی اپنی داخلی ناکامیوں، معاشی بحران اور عوامی بے چینی سے توجہ ہٹانے کے لیے بیرونی محاذ کو دوبارہ گرم کررہے ہیں۔ درحقیقت حوثیوں کو اس وقت کئی داخلی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے زیر انتظام علاقوں میں تنخواہوں کی ادائیگی ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے، معیشت شدید دباو¿ میں ہے، بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور عام شہری مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اس کے باوجود حوثیوں نے گزشتہ برسوں میں اپنی عسکری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ان کے پاس بیلسٹک و کروز میزائل، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون، بحیرہ احمر میں حملہ کرنے کی صلاحیت اور ایک منظم کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم موجود ہے جس نے انہیں ایک روایتی ملیشیا سے کہیں زیادہ طاقتور بنا دیا ہے۔
دوسری طرف قانونی حکومت کی اپنی مشکلات ہیں۔ اگرچہ اسے عالمی سطح پر قانونی حیثیت حاصل ہے لیکن اس کے اندر مختلف سیاسی اور عسکری دھڑے موجود ہیں۔ اصلاح پارٹی، جنوبی عبوری کونسل، قومی مزاحمتی فورسز، قبائلی ملیشیائیں اور سرکاری فوج ہر معاملے پر یکساں موقف نہیں رکھتیں۔ یہی اختلافات گزشتہ برسوں میں حوثیوں کے لیے سب سے بڑی سیاسی سہولت ثابت ہوئے۔ ان دنوں یمن کے مختلف قبائل کی سرگرمیوں پر بھی خاص نظر رکھی جا رہی ہے۔ مارب، الجوف، شبوہ اور بعض دیگر علاقوں میں قبائلی اجتماعات اور عسکری تیاریوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ یمن کی سیاست اور جنگ میں قبائل ہمیشہ فیصلہ کن کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ قبائل کی اصل طاقت ان کی مقامی جغرافیے سے واقفیت، پہاڑی جنگ کا تجربہ، ذاتی اسلحہ، تیز نقل و حرکت اور سماجی ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے۔ تاہم ان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ طویل عرصے تک ایک مرکزی قیادت کے تحت متحد رہنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں بھی کئی مرتبہ قبائل نے حوثیوں کے خلاف مزاحمت کی، لیکن مستقل اتحاد نہ ہونے کے باعث فیصلہ کن کامیابی حاصل نہ کرسکے۔
کچھ عرب مبصرین کا خیال ہے کہ اگر اس مرتبہ سعودی عرب، قانونی حکومت، مختلف قبائل اور دیگر حکومت نواز عسکری قوتیں ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کرلیں تو حوثیوں پر عسکری دباو نمایاں حد تک بڑھ سکتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ حوثیوں کے پاس اس وقت دارالحکومت صنعا، اہم سرکاری ادارے، ٹیکس وصولی کا نظام، الحدیدہ کی بندرگاہ اور ہزاروں تربیت یافتہ جنگجو موجود ہیں۔ اس لیے یہ تصور کہ حوثی حکومت جلد ختم ہوجائے گی زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ حوثیوں کی ایک بڑی طاقت ان کی بیرونی حمایت بھی ہے۔ ایران انہیں خطے میں اپنے اہم اتحادیوں میں شمار کرتا ہے اور گزشتہ برسوں میں ٹیکنالوجی، تربیت اور عسکری مہارت کی منتقلی کے متعدد الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ دوسری طرف امریکا اور مغربی ممالک بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہازرانی کے تحفظ کو اپنی اوّلین ترجیح قرار دیتے ہیں۔ اگر حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ شروع ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف یمن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بحیرہ احمر، خلیج عدن اور عالمی تجارتی راستوں تک پھیل سکتے ہیں۔ عسکری اعتبار سے حوثی اب بھی یمن کی مضبوط ترین منظم قوت ہیں۔ اگر سیاسی استحکام کا جائزہ لیا جائے تو قانونی حکومت اب بھی اندرونی اختلافات سے دوچار ہے۔ اگر قبائل متحد نہ ہوئے اور حکومت نواز دھڑے ایک مشترکہ کمان کے تحت نہ آئے تو حوثیوں کو فوری طور پر اقتدار سے ہٹانا انتہائی مشکل ہوگا۔س
البتہ اگر مستقبل میں کئی عوامل ایک ساتھ متحرک ہوجائیں مثلاً سعودی عرب دوبارہ بھرپور عسکری مہم شروع کرے، قبائل وسیع پیمانے پر متحد ہوجائیں، قانونی حکومت داخلی اختلافات ختم کرلے، ایران کی امداد کم ہوجائے اور حوثیوں کے زیر انتظام علاقوں میں عوامی بے چینی شدت اختیار کرجائے تو حالات یکسر تبدیل ہوسکتے ہیں۔ فی الحال ان تمام عوامل کا ایک ساتھ جمع ہونا یقینی نظر نہیں آتا۔ اسی لیے بیشتر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے مہینوں میں مکمل امن کے امکانات کم اور عسکری کشیدگی کے امکانات زیادہ ہیں۔ ایسے موقع پر ایک معمولی واقعہ بھی بڑے تصادم کا آغاز بن سکتا ہے۔

