بھارتی آبی دہشت گردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟

گزشتہ سے پیوستہ:
کیا بھارت واقعی پانی روک سکتا ہے؟: حقیقت یہ ہے کہ آج کے دن تک بھارت کے پاس وہ ڈیم اور ذخائر موجود ہی نہیں جو سندھ، جہلم اور چناب کا پانی روک سکیں۔ ان تینوں دریاؤں سے پاکستان کو سالانہ 135ملین ایکڑ فٹ پانی آتا ہے جبکہ بھارت ان پر پونے چار ملین ایکڑ فٹ کے قریب ہی ذخیرہ کرسکتا ہے۔ اتنے بڑے بہاؤ کو روکنے کے لیے درجنوں بڑے ڈیم چاہئیں جن کی تعمیر میں برسوں لگتے ہیں۔ امریکی معروف تھنک ٹینک سی ایس آئی ایس کا تجزیہ بھی یہی ہے کہ قریبی مدت میں بھارت یہ صلاحیت نہیں رکھتا۔ قدرت کا فیصلہ بھی ہمارے حق میں ہے، ان دریاؤں کا بڑا حصہ گلیشیئر پگھلنے سے آتا ہے، ڈھلوان ہماری طرف ہے اور مون سون کے ریلے کسی ڈیم کے قابو میں نہیں آتے۔ تو کیا مطمئن ہو کر بیٹھ جائیں؟ ہرگز نہیں۔ اوپر بیان کردہ منصوبے بتا رہے ہیں کہ اصل خطرہ پانی کی مکمل بندش نہیں، پانی کے وقت سے کھیلنا ہے۔ آسان لفظوں میں اسے یوں سمجھیں کہ بھارت کا ہتھیار نلکا بند کرنا نہیں نلکے کو جھٹکے دینا ہے اور یاد رکھیں اگلے پانچ سے دس برسوں میں اگر بھارت ذخیرے کی صلاحیت بڑھانے میں کامیاب ہوگیا تو یہ جھٹکے بندش میں بدل سکتے ہیں۔ اصل معرکہ آج نہیں آنے والے برسوں کا ہے اور تیاری آج کرنی ہے۔

پاکستان کے پاس کیا راستے ہیں؟: پہلا محاذ قانونی ہے اور خوشخبری یہ ہے کہ اس محاذ پر پاکستان مسلسل جیت رہا ہے۔ عالمی ثالثی عدالت پہلے قرار دے چکی ہے کہ معاہدے میں یکطرفہ معطلی کی کوئی گنجائش نہیں، پھر رواں سال مئی میں اس نے ذخیرے کی حد سے متعلق فیصلے میں پاکستانی مؤقف کی تائید کی۔ خود عالمی بینک کے سربراہ اجے بنگا، جو بھارتی نژاد ہیں، کہہ چکے ہیں کہ معاہدے میں معطلی کی سرے سے کوئی شق موجود ہی نہیں۔ بھارت ان فیصلوں سے انکاری ہے مگر عالمی برادری کے سامنے اس کا چہرہ بے نقاب ہورہا ہے۔ پاکستان کی دلیل وزنی ہے کہ اگر ایک ایٹمی طاقت عالمی معاہدے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر سرخرو ہو گئی تو دنیا بھر کے آبی معاہدوں کی ساکھ ختم ہو جائے گی۔ ترکیہ، شام اور عراق کے درمیان دجلہ فرات کا جھگڑا ہو یا مصر اور ایتھوپیا کا دریائے نیل کا تنازع، ہر جگہ پانی کے بہاؤ میں نیچے واقع ملک یہی سوال پوچھیں گے کہ کیا معاہدے اب کاغذ کے ٹکڑے ہیں؟ دوسرا محاذ دفاعی ڈیٹرنس کا ہے۔ اس پر زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں، مئی 2025ء کے ٹکراؤ میں بھارت دیکھ چکا کہ پاکستان کی پہنچ کہاں تک ہے۔ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کہہ چکے ہیں کہ پانی کے مسئلے پر جنگ تک ہوسکتی ہے۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے بھی اس حوالے سے بڑا سخت اور مضبوط موقف لیا ہے۔ سی ایس آئی ایس جیسے عالمی تھنک ٹینک بھی لکھ رہے ہیں کہ اگر بھارت پاکستانی آبی سپلائی سے عملاً کھیلنے لگا تو پاکستان بھارتی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے پر مجبور ہوگا اور دہلی کا جوا اُلٹا پڑ سکتا ہے۔ سچ تو مگر یہ ہے کہ اصل جنگ نہ عدالتوں میں لڑی جائے گی نہ میزائلوں سے۔ اصل جنگ سیمنٹ، سریے اور نہروں کی ہے اور یہی تیسرا، سب سے اہم محاذ ہے۔

اصل حل ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے!: بھارت جو کچھ کر رہا ہے اُس کا ایک ہی بھرپور، ٹھوس جواب ہے، پاکستان اپنے گھر کو درست کرے۔ چار کام فوری توجہ مانگتے ہیں۔ پہلا کام پانی کا ذخیرہ بڑھانا ہے۔ مہمند اور دیامر بھاشا ڈیم دو ہزار اٹھائیس اور دو ہزار انتیس تک مکمل ہوئے تو ہماری گنجائش میں نو ملین ایکڑ فٹ کا اضافہ ہو گا۔ دیامر بھاشا دنیا کے بلند ترین ڈیموں میں ہوگا۔ یہ منصوبے اب قومی سلامتی کے منصوبے ہیں، ان کی تکمیل میں ایک دن کی تاخیر بھی جرم ہے۔ اگر بھارت پانی کو ہتھیار بنانا چاہتا ہے تو پاکستان کو نئے بڑے ڈیمز کو اپنی دفاعی ڈھال بنانا ہوگا۔ دوسرا کام ڈیٹا کی خودانحصاری ہے۔ بھارت نے دریاؤں کا ڈیٹا دینا بند کر دیا تو ہمیں اپنا سیٹلائٹ اور ٹیلی میٹری نظام بنانا ہو گا تاکہ چناب میں آنے والے ہر جھٹکے کی پیشگی خبر ہو۔ یہ معلومات اب ہماری آپریشنل ضرورت ہیں۔

تیسرا اور کڑوا کام اپنے پانی کا حساب ہے۔ ہم دنیا کے ان ملکوں میں ہیں جو فی ایکڑ سب سے زیادہ پانی بہاتے ہیں اور پیداوار سب سے کم لیتے ہیں۔ ہماری کچی نہریں پانی کا بڑا حصہ راستے ہی میں پی جاتی ہیں۔ ہمیں چند ایک کام ہر حال میں کرنے ہوں گے۔ آب پاشی کے جدید طریقے جیسے ڈِرپ اریگیشن، نہروں کی پختگی، لیزر لیولنگ اور چاول گنے جیسی بہت زیادہ پانی لینے والی فصلوں پر نظرثانی۔ یہ سب کچھ اتنا پانی بچا سکتا ہے جتنا بھارت اپنی کسی چھیڑ چھاڑ سے روک ہی نہیں سکتا۔ ماہرین کی رائے کے مطابق صرف نہروں اور کھالوں کو پختہ کرنے سے کالا باغ ڈیم کے ذخیرہ جتنا پانی بچایا جاسکتا ہے۔ سوچیں، جو ملک اپنا آدھا پانی ضائع کرتا ہو، وہ دشمن سے قطرے قطرے کا حساب کس منہ سے مانگے گا؟ چوتھا کام داخلی آبی انصاف ہے۔ صوبوں کے درمیان 1991ء کے آبی معاہدے پر شفاف عملدرآمد ہو، تاکہ بھارت کو ہماری صفوں میں دراڑ ڈالنے کا موقع نہ ملے۔ سوال یہ ہے کہ آخر سندھی قوم پرستوں کو پنجاب پر غلط الزام لگانے کا موقعہ ہی کیوں ملے؟ کیوں نہیں اس قدر ٹرانسپرنٹ نظام بنا دیا جاتا کہ انگلی اٹھانے کی کسی کی جرات ہی نہ ہو۔ منٹو کے افسانے کا کردار کہتا تھا کہ جس نے پانی بند کیا وہ یزید تھا، شاید کوئی اور آئے جو کھولے۔ ہمیں مگر کسی کے کھولنے کا انتظار نہیں کرنا، اپنے حصے کے پانی کی حفاظت خود کرنی ہے، عدالت میں دلیل سے، سرحد پر عزم سے اور اپنی زمین پر ڈیموں اور پختہ نہروں سے۔ دشمن کو غصے سے نہیں، تیاری سے جواب دیا جاتا ہے۔ اللہ ہمارے دریاؤں کو ہمیشہ رواں رکھے اور ہمیں اتنی توفیق دے کہ ہم ان کے ایک ایک قطرے کی قدر کرنا سیکھ لیں۔ آمین!