گنج پن کے علاج میں اہم پیش رفت

نیویارک: گنج پن کے علاج میں نئی سائنسی پیش رفت نے مستقل حل کی اُمید روشن کر دی ہے، ابتدائی تجربات کے نتائج حوصلہ افزا قرار دیے جا رہے ہیں، جبکہ ماہرین جدید تحقیق کے ذریعے بالوں کی غیر فعال جڑوں کو دوبارہ فعال کرنے اور نئی جڑیں تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

سائنس دانوں نے ایک نئے تجرباتی علاج پر تحقیق شروع کر رکھی ہے، جس کا مقصد بالوں کی غیر فعال فولیکلزجڑوں کو دوبارہ متحرک کرنا ہے۔ جانوروں پر کیے گئے تجربات میں اس طریقہ علاج سے بالوں کی افزائش میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے، جبکہ انسانوں پر (کلینیکل)ابتدائی تجرباتی مرحلہ جاری ہے۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں افراد بالوں کے جھڑنے اور موروثی گنج پن کا شکار ہیں، تاہم موجودہ ادویہ صرف محدود حد تک مؤثر ثابت ہوتی ہیں اور علاج روکنے پر بال دوبارہ جھڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس کے محققین نے ایک نیا مرکب تیار کیا ہے، جو اسٹیم سیلز کو دوبارہ فعال کر کے بالوں کی قدرتی نشوونما بحال کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

تحقیقات میں ڈی آکسی رائبوز نامی قدرتی شکر کو بھی موثر قرار دیا گیا ہے، جو بالوں کی جڑوں تک خون اور غذائی اجزا کی بہتر فراہمی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

علاوہ ازیں جاپانی اور امریکی سائنس دان لیبارٹریوںمیں مصنوعی بالوں کی جڑیں تیار کرنے میں بھی کامیابی حاصل کر چکے ہیں، جس سے مستقبل میں شدید گنج پن کے شکار افراد کے لیے مستقل علاج کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تمام تحقیقات ابھی تجرباتی مراحل میں ہیں، تاہم مصنوعی ذہانت، اسٹیم سیل ریسرچ اور ری جنریٹو میڈیسن میں ہونے والی پیش رفت اس شعبے میں غیر معمولی امکانات پیدا کر رہی ہے اور آنے والے برسوں میں گنج پن کے زیادہ موثر اور دیرپا علاج متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔