پاکستان میں اس وقت ورچوئل اثاثہ جات کو فروغ دیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں پہلے آرڈیننس اور پھر ایک ایکٹ آچکا ہے۔ پاکستان کا مجازی(ورچوئل)اثاثہ جات ایکٹ بنیادی طور پر دو عالمی ریگولیشن کا ملغوبہ ہے جس میں دو عالمی ریگولیشن سے اکثر مواد لیا گیا ہے اور پھر مزید اپنی طرف سے بھی مواد ڈالا گیا ہے۔ان ریگولیشن میں پہلی یورپی یونین کی میکا ریگولیشن ہے اور دوسری دبئی کی ورچوئل اثاثوں کی ریگولیشن ہے۔
پاکستانی ایکٹ کا ایسا ملغوبہ تیار کرنے سے ان عالمی ریگولیشن کی اصل روح مسخ ہوگئی ہے اور اس سے پاکستان میں ایک ایسی ریگولیشن وجود میں آئی ہے جو کہ ان عالمی ریگولیشن کے مقاصد سے بالکل ہٹ گئی ہے اور سمجھ نہیں آتا کہ ایسی ریگولیشن کیوں تیار کی گئی ہے؟ آسان الفاظ میں اگر کوئی شخص بریانی تیار کرے تو اس کا ایک مقصد ہے اور اگر کوئی شخص نہاری تیار کرے تو اس کا ایک الگ مقصد ہے، مگر اگر کوئی بریانی اور نہاری کو مکس کردے تو اس سے کیا وجودمیں آئے گا؟ پھر بریانی اور نہاری میں تربوز بھی ڈال دیا جائے تو جو اس کھانے کا حشر ہوگا بس وہی حشر مختلف ممالک کے ریگولیشن سے استفادہ کر کے اس میں اضافہ کر کے پاکستان میں مجازی (ورچوئل)اثاثہ جات ایکٹ نافذ کرکے کیا گیا ہے۔
جب کوئی ملک اپنے قوانین بناتا ہے تو قوانین کی شقیں اپنے ملک کے حالات کے موافق بناتا ہے مگر پاکستان کے مجازی (ورچوئل)اثاثہ جات ایکٹ میں سطور کی سطور یورپی یونین کی میکا ریگولیشن سے بِعینہ نقل کی گئی ہیں یعنی قانون کی بھی چربہ سازی کی گئی ہے اور پھر دبئی کی ورچوئل اثاثوں کی ریگولیشن سے بھی کچھ مواد نقل کیا گیا ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر کوئی قانون بنانا بھی ہے تو پاکستان کے اسلامی تشخص اور اسلامی ملک ہونے کو سامنے رکھا جاتا، پاکستان بھر کے دارالافتا ؤںکی آرا کو سامنے رکھتے ہوئے قانون سازی کی جاتی مگر ایسا ہرگز نہیں کیا گیا اور پاکستان بھر کے مستند دارالافتاؤں اور جید مفتیانِ کرام کی کرپٹو کرنسی سے متعلق آرا کو بالائے طاق رکھ کر ایک ایسا قانون بنایا گیا ہے جو کہ سراسر مفتیانِ کرام کی آرا سے مخالفت میں ہے اور پھر ستم ظریفی یہ کہ پاکستان کے اس ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ میں غیر شرعی قوانین کو اختیار کرکے یہ تحریر کیا گیا کہ ایک شریعہ ایڈوائزی کمیٹی بنائی جائے گی جو کہ شریعت سے متعلق امور پر رہنمائی فراہم کرے گی اور پھر وزیر خزانہ نے اسمبلی سے پاس بل میں اپنے نوٹ میں شریعہ کمپلائنٹ ورچوئل اثاثوں کی سروسس بنانے کا عندیہ دیا ہے۔
عملی طور پر اس ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ کے نفاذ سے پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے نظام کو رائج کرنے کے لیے پیش رفت شروع ہوچکی ہے۔اس سلسلے میں یہ اقدامات کیے جاچکے ہیں۔اول ، حکومتِ پاکستان نے دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی کی خریدوفروخت کے ایکسچینج بائنائنس اور ایک دوسرے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج یعنی ایچ ٹی ایکس کو این او سی جاری کیے ہیں۔این او سی کے اجرا سے یہ دونوں کرپٹو کرنسی ایکسچینج باقاعدہ طور پرورچوئل اثاثہ جات ایکٹ کے تحت پاکستان میں کام کرنے کے لیے لائسنس کی درخواست جمع کروائیں گے۔دوم، ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک نے دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی کی خریدوفروخت کے ایکسچینج بائنائنس سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔سوم، سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)کرپٹو کرنسی اور ٹوکنائزیشن پر عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے لیکچر منعقد کروارہی ہے تاکہ کرپٹو کرنسی کو پاکستان میں مزید فروغ ہو۔چہارم، لاہور کی نجی یونیورسٹی میں حکومتی سطح پر کانفرنس منعقد کروائی گئی ہے تاکہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو فروغ دیا جائے۔اب کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج کو پاکستان میں جب کام کرنے دیا جائے گا تو کیسے مختلف اقسام کی کرپٹو کرنسیوں کے پیچھے حقیقی اثاثہ جات پلک جھپکتے آجائیں گے؟ کیسے دنیا کا سب سے بڑا کرپٹو کرنسی ایکسچینج محض حکومت کے اس ایکٹ اور شریعہ کمپلائنس سرٹیفیکیٹ سے جائز ہوجائے گا؟ کیسے بٹ کوائن اور اسٹیبل کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی اس مجازی اثاثہ جات ایکٹ کے نفاذ سے پاکستان میں ان کی ماہیت و حقیقت بدل جائے گی؟
سب سے اہم بات یہ ہے کہ چونکہ پاکستان بھر کے جید مفتیانِ کرام اور دارالافتا وںنے کرپٹو کرنسی کو ناجائز قرار دیا تھا اور شرعا مال ماننے سے انکار کیا تھا لہذا پاکستان کے ورچوئلاثاثہ جات ایکٹ میں کرپٹو کرنسی کی اصطلاح سے ہی جان چھڑائی گئی ہے اور اس کے بجائے ورچوئل اثاثوں کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے جبکہ حقیقتاً ورچوئل اثاثوں کی آڑ میں کرپٹو کرنسی کو ہی فروغ دیا جارہا ہے جس کی چند عملی مثالیں قارئین کی خدمت میں پیش کردی گئیں ہیں۔نیز بعض لوگ ٹوکنائزیشن کی اصطلاح بھی استعمال کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اس کے پیچھے حقیقی اثاثے ہیں مثلا بٹ کوائن کو کرپٹو کرنسی کہنے کے بجائے ورچوئل اثاثہ، ورچوئل ٹوکن کہا جائے گا تو کوئی بھی چوکنا نہیں ہوگا جبکہ بٹ کوائن وہی کی وہی کرپٹو کرنسی ہی رہے گی۔
کرپٹو کرنسی کے مجوزین حضرات نے پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو رواج دینے کی بھر پور کوششیں کیں مگر حضرات مفتیانِ کرام اور پاکستان بھر کے دارالافتاوں نے ان کی یہ کوشش ناکام بنادی الحمدللہ۔عرصہ دراز سے کرپٹو کرنسی کے مجوزین یہ کہتے آرہے تھے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو رائج کرنے کے لیے صرف قانون سازی کر دی جائے تو کرپٹو کرنسی کی اپنی ذات میں کوئی خامی نہیں اور اگر حکومتی ریگولیشن آجائے گی تو کرپٹو کرنسی جائز ہے۔اب جبکہ اس مجازی (ورچوئل)اثاثہ جات ایکٹ کے نفاذ سے پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے بارے میں قانون سازی کی جاچکی ہے تو اس سے یہ مقاصد حاصل کی گئے ہیں:(١)کرپٹو کرنسی کے اصطلاح استعمال نہ کی جائے گی ، (٢)بلکہ کرپٹو کرنسی کی اصطلاح کے بجائے ورچوئل اثاثوں کی اصطلاح استعمال کی جائے گی، (٣)یہ دعوی کیا جائے گا کہ ان ورچوئل اثاثوں کے پیچھے حقیقی اثاثہ جات موجود ہیں، (٤)ٹوکنائزیشن کی اصطلاح بھی استعمال کی جائے گی (٥)شریعہ ایڈوائزی کو اس ضمن میں فروغ دیا جائے گا اور اس سلسلے میں بعض شریعہ ایڈوائزی کمپنیاں اور ان سے منسلک بعض شریعہ ایڈوائزر پیش پیش ہیں ۔ خلاصہ کلام یہ کہ اس ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ کے نفاذ سے پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو ہی رواج دیا جارہا ہے اور مزید دیا جائے گا، بس نام کی تبدیلی کردی گئی ہے اور صارفین کی حقوق کی تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے یعنی اب کرپٹو کرنسی کی کمپنیاں اور ایکسچینج پاکستان میں کام کریں گے تاکہ حکومت کو ٹیکس بھی دیا جاسکے اور منی لائنڈرئنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے بچا جاسکے۔
