آئی ایم ایف دبائو، ایف بی آرنے گھٹنے ٹیک دیے

اسلام آباد:عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف)کی شرائط پر عملدرآمد کرتے ہوئے ایف بی آر نے سرکاری افسران کے اثاثوں تک بینکوں کی رسائی کے اعداد و شمار جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ایف بی آر مراسلے کے مطابق اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے مقاصد کے لیے بینکوں کو ایک مخصوص ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے گریڈ17 سے22 کے سرکاری عہدیداروں کے اثاثہ جات کے گوشواروں تک رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔

آئی ایم ایف کے بینچ مارک کی شق38ایف) کے تحت ایف بی آر کو جون2026 ء تک اپنی ویب سائٹ پر اس رسائی کے اعداد و شمار شائع کرنا بھی لازم قرار دیا گیا ہے تاکہ شفافیت کو فروغ دیا جاسکے اور بینکوں میں اس سہولت سے متعلق آگاہی پیدا ہو۔

دسمبر2025 ء سے مئی2026 ء تک بینکوں کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستوں اور ان کی منظوری یا مسترد کیے جانے کی تفصیلات ایف بی آر کی ویب سائٹ پر شائع کی جائیںگی۔6 ماہ کے عرصے میں مجموعی طور پر2,628 درخواستیں موصول ہوئیں،ان درخواستوں میں سے 2,205 منظور جب کہ 423 مسترد کی گئیں۔