گداگری اور ہمارا رویہ

آج کل ہماری مسجدوں، مذہبی مقامات اور دینی اجتماعات کی ایک پہچان گداگروں کا ازدحام اور ایک خاص لَے اور دْھن میں ان کی طرف سے سوالیہ کلمات کی تکرار بھی ہے، ان میں بعض کے اندر الحاح کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے اور آپ کیلئے ان کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جانا دشوار ہوتا ہے، بعض کی جرأت رندانہ بھی قابل دید ہوتی ہے، اگر آپ نے انھیں بھیک نہیں دی یا بھیک کی مطلوبہ مقدار نہیں دی، تو ان کی خشمگیں نگاہ کو سہے بغیر چارہ نہیں، کچھ ایسے فرزانے بھی ہیں، جو آپ کو دوچار صلواتیں سنانے سے بھی نہیں چوکتے، وہ اس طرح سوال کرتے ہیں کہ ناواقف آپ کو ان کا مقروض سمجھ بیٹھے، مذہبی مقامات کے علاوہ سیاحتی مقامات، ریلوے اسٹیشن، بس اسٹینڈ اور ٹریفک سگنل کی جگہیں جہاں گاڑیوں کے رکنے کی نوبت آتی رہتی ہے، اس گروہ کے پسندیدہ اور مستجاب مقامات ہیں، اس لئے یہاں ان کی وافر تعداد نہ صرف موجود ہوتی ہے بلکہ کمالِ اخلاص اور کمالِ استقامت کے ساتھ صبح کی پو پھٹنے سے لے کر رات گئے تک اپنے محاذ پر ڈٹی رہتی ہے، پولیس والوں کا محصول اور گاہے ڈنڈوں کے ذریعہ ان کی تنبیہ اور دینے والوں کی ڈانٹ ڈپٹ ان کو نہ ملول خاطر کرتی ہے اور نہ ان کے پائے استقامت میں کوئی تزلزل آنے دیتی ہے، اس لحاظ سے ثابت قدمی میں وہ ایک نمونہ کا درجہ رکھتے ہیں۔

یہ گداگر بھی انواع و اقسام کے ہیں، کچھ صحت مند و توانا، کچھ واقعی مریض اور زیادہ تر مصنوعی مریض، مریض اور معذور عام طور پر بیکار شمار کیے جاتے ہیں لیکن اس میدان میں وہ نہایت کار آمد اور مفید ہیں ؛ اسی لئے بہت سے صحت مند بھکاری نابینا اور معذور فقیروں کا تعاون حاصل کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد سے پتھر دلوں کو موم بنانے کا کام انجام دیتے ہیں، ان میں بچے بھی ہیں، جوان بھی اور بوڑھے بھی، مرد بھی ہیں اور خواتین بھی، کم سن لڑکیاں بھی جوان لڑکیاں اور سن رسیدہ عورتیں بھی گداگری کے اس پیشہ میں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں، ایسے گروہ بھی پکڑے گئے ہیں، جو دیہاتوں اور دور دراز علاقوں سے بچوں کو پکڑ کر لاتے ہیںاور انھیں کسی قدر معذور بناکر ان سے گداگری کراتے ہیں، زمانہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ گداگری کیلئے بھی جدید ذرائع کا استعمال شروع ہو گیا ہے ؛ چنانچہ بعض فقراء انٹر نیٹ کی مدد سے عالمی سطح پر اپنی رسائی کو وسیع کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گداگروں کا یہ گروہ اس کو ایک آسان اور سہولت بخش ذریعہ معاش تصور کرتا ہے، چند ماہ پہلے اخبارات میں یہ خبر آئی تھی کہ حیدرآباد (دکن) میں گداگروں کی آمدنی کا اوسط تین تا چار ہزار روپے ماہانہ ہے، خاص خاص مواقع جیسے رمضان المبارک اور عید وغیرہ میں اس میں خاصا اضافہ ہوجاتا ہے، اس کانتیجہ یہ ہے کہ یہ اس پیشہ سے دستبرادار ہونے کو کسی طور تیار نہیں ہیں، اگر آپ انھیں کام کرنے کو کہیں، یا خود اپنے یہاں کام کرنے کی دعوت دیں تو وہ ایسا منھ بنائیں گے کہ گویا آپ نے ان کی بے عزتی کی ہے، غرض وہ اپنے پیشہ پر قانع بھی ہیں اور مطمئن بھی اور انھیں اس پر نہ کوئی حجاب ہے اور نہ عار، اس بات سے مزید دکھ ہوتا ہے کہ ان میں بہت ہی قابل لحاظ تعداد ہمارے مسلمان بھائیوں کی ہے اور جس اْمت کو سب سے بڑھ کر غناء اور استغناء کی تعلیم دی گئی ہے، وہی اس اخلاقی بیماری میں پیش پیش ہے۔

اسلام سے پہلے بعض مذاہب میںمذہبی لوگوں کیلئے کسب ِمعاش کی اجازت نہیں تھی اور ان کا گزر اوقات اسی طرح ہوتا تھا، کہ وہ لوگوں کے سامنے دست ِسوال دراز کریں اورلوگوں کی نذر و نیاز پر زندگی گزاریں، ہندو بھائیوں کے یہاں برہمن کے حقوق میں یہ بات شامل تھی کہ لوگ اسے دان کیا کریں، بدھشٹوں کے یہاں مذہبی رہنماؤں اور بھکشوں کو کسبِ معاش کی ممانعت ہے اور وہ لوگوں کی دکھشناپر زندگی گزارا کرتے تھے، عیسائیوں کے یہاں جب رہبانیت اور ترکِ دنیا کے فلسفہ نے قبول عام حاصل کیا تو نہ صرف مذہبی رہنما بلکہ عوام میں بھی زاہد قسم کے لوگوں نے اس بات کو ضروری سمجھا کہ وہ کسب ِمعاش چھوڑ دیں اور لوگوں کے دیئے ہوئے پر اپنی زندگی گزاریں ؛ لیکن اسلام نے اول روز سے ہی کسب ِمعاش کو ضروری قرار دیا، قرآن نے کہا کہ اللہ کی بندگی سے فارغ ہونے کے بعد کسب ِمعاش کی کوشش کرنی چاہیے اور مال کو فضل الٰہی سے تعبیر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خود تجارت فرمائی، حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور اکابر صحابہ نے تجارت کی، حضرت علی اوربہت سے صحابہ نے محنت ومزدوری کر کے اپنی ضروریات پوری کیں اور تلاشِ رزق کی تحسین فرمائی گئی۔

اسلام نے توکل کی تعلیم ضرور دی لیکن لوگوں نے جو بے عملی اور فرائض سے پہلو تہی کو توکل کا نام دے رکھا تھا، اس کی اصلاح بھی فرمائی، اسلام نے بتایا کہ توکل یہ نہیں ہے کہ اسباب دنیا کو ترک کر دیا جائے بلکہ توکل اسباب کو اختیار کرنے کے بعد نتائج کو اللہ پر چھوڑ دینے کا نام ہے ؛ اس لئے کسب ِمعاش توکل کے منافی نہیں، گداگری پیدا ہی اس لئے ہوتی ہے کہ انسان کسب ِمعاش کی تگ و دو سے دل چرانے لگے، اس کے سدباب کیلئے آپ نے ایک طرف کسب ِمعاش کی اہمیت کو واضح فرماکر گداگری کے اصل سبب کو ختم کرنا چاہا۔

اور دوسری طرف گداگری کی مذمت فرمائی اور اسے سختی سے منع کیا، ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں آئے اور کچھ سوال کیا، آپ نے ان سے فرمایا کہ : تمہارے پاس کیا کچھ سامان ہے ؟ اس نے کہا میرے پاس تو محض ٹاٹ اور پیالہ ہے، آ پ نے وہ دونوں چیزیں منگوائیں اور ان کی ڈاک لگائی، ایک صاحب نے ایک درہم قیمت لگائی، دوسرے شخص نے دو درہم، آپ نے اسے دو درہم میں فروخت کر دیا، پھر ایک درہم میں کلہاڑی کا پھل منگایا اورکلہاڑی بنا کر اسے حوالہ کر دیا اور ایک درہم اسے دے کر ارشاد ہوا کہ اس سے اپنی ضرورت پوری کریں اور کلہاڑی سے لکڑی کاٹ کر لائیں اور فروخت کریں اورایک ماہ تک پھر کہیں بھیک مانگتے ہوئے نظر نہ آئیں، ان صاحب نے اس ہدایت پر عمل کیا اور ایک ماہ کے بعد اس حال میں تشریف لائے کہ کئی درہم ان کے پاس موجود تھے اور وہ گداگری کو چھوڑ چکے تھے۔ (سنن ابی داؤد ) آپ نے فرمایا ” یہ بات کہ تم اپنی پیٹھ پر لکڑی کے گٹھے کاٹ کر لاؤ اور اسے فروخت کرو، اس سے بہتر ہے کہ تم لوگوں کے سامنے دست ِسوال پھیلاؤ، وہ چاہیں تو دے دیں، چاہیں تو نہیں دیں۔ ” ( بخاری)

اس طرح کے بعض اور واقعات بھی منقول ہیں، حضرت ابو ہریرہ راوی ہیں کہ دو شخص خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور کچھ طلب کیا، آپ نے مشورہ دیا کہ جنگل جاؤ لکڑی کاٹو اوراسے فروخت کرو، انھوں نے ایسا ہی کیا، پہلے لکڑیاں بیچ کر کھانے کی اشیاء خریدیں، پھر سونا خرید کیا، پھر سواری کیلئے گدھے خرید کیے اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم میں برکت رکھی ہے۔ (مجمع الزوائد )

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سوال کرنے سے صحابہ کو اس درجہ منع فرمایا اور اس کی تعلیم دی کہ وہ معمولی چیزیں مانگنے سے بھی احتراز کرتے تھے، حضرت ابو بکر کا حال یہ تھا کہ اگر اونٹنی کی لگام نیچے گر جاتی، تو اونٹنی کو بٹھاتے اور خود لگام لیتے، لگام بھی دوسروں سے مانگنے کے روادار نہیں ہوتے۔ (مجمع الزوائد)یہ رسول اللہ کی تربیت کا نتیجہ تھا، حضرت ابو ذر غفاری اور حضرت ثوبان دونوں کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے عہد لیا کہ کسی سے سوال نہ کریں، یہاں تک کہ اگر کوڑا نیچے گر جائے تو وہ بھی دوسرے سے نہ مانگیں۔ (مجمع الزوائد) (جاری ہے)