کراچی:وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 2026-27 ء کے لیے 3.652 کھرب روپے کا صوبائی بجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کردیاجس میں242 ارب روپے کے خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں7 فیصد اضافہ، کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے مقرر کرنے، زرعی شعبے میں ٹیکس ریلیف اور کوئی نیا ٹیکس عائد نہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
بدھ کو بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سندھ کا تیرہواں بجٹ پیش کر رہے ہیں جو ان کے لیے اعزاز اور بڑی ذمہ داری ہے جبکہ مسلسل گیارہ بجٹ پیش کرنا ان کیلئے ایک ریکارڈ اور اعزاز کی بات ہے۔
انہوں نے اپنے مرحوم والدین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دی ہوئی اقدار آج بھی ان کی رہنمائی کرتی ہیں۔بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی اخراجات 3.652 کھرب روپے اور آمدنی 3.41 کھرب روپے متوقع ہے جس کے باعث 242 ارب روپے کا خسارہ سامنے آئے گا۔
حکومت نے بتایا کہ ترقیاتی حجم میں اضافہ جاری ہے اور رواں مالی سال کے مقابلے میں ترقیاتی اخراجات میں 210 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے7 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے جو یکم جولائی سے نافذ ہوگا، جبکہ ایڈہاک ریلیف الائونس 2022 ء اور 2025 ء کو ضم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
کم از کم اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 43 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے۔حکومت نے اعلان کیا کہ آئندہ مالی سال میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا جبکہ مختلف شعبوں بشمول تعلیم، زراعت، انشورنس اور اوورسیز روزگار کے شعبوں میں ٹیکس ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
زرعی سپر ٹیکس کی حد 150 ملین سے بڑھا کر 500 ملین روپے جبکہ شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔ترقیاتی پروگرام کے لیے 400 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بلدیاتی ترقی کے لیے 121.6 ارب روپے، آبنوشی و نکاسی آب کے لیے 40.9 ارب روپے، ٹرانسپورٹ کے لیے 39.5 ارب روپے، آبپاشی کے لیے 30.9 ارب روپے، تعلیم کے لیے 25.9 ارب روپے اور صحت کے لیے 17.4 ارب روپے شامل ہیں۔
سماجی تحفظ کے لیے 13.2 ارب روپے کا خصوصی پیکیج بھی بجٹ کا حصہ ہے جس میں بے نظیر ہاری کارڈ، خواتین زرعی ورکرز پروگرام، بیوائوں اور یتیموں کی امدادی اسکیمیں شامل ہیں۔دستاویز کے مطابق کراچی کے لیے بجٹ میں 100 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے جبکہ شہر میں مجموعی طور پر 816 ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔
اہم منصوبوں میں اسٹریٹجک سیوریج پلان S-III، لیاری ٹرانسفارمیشن پیکیج، گرین لائن اور یلو لائن بی آر ٹی، شاہراہ بھٹو، ملیر ایکسپریس وے، نئے فلائی اوورز اور واٹر سپلائی و نکاسی آب کے منصوبے شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے خطاب میں کئی بڑے اسٹریٹجک منصوبوں کا اعلان کیا جن میں کیٹی بندر اکنامک کوریڈور، سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر، گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر انیشیٹو اور ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام شامل ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد سندھ کو خطے میں تجارت، مالیات، ٹیکنالوجی اور توانائی کا مرکز بنانا ہے۔
انہوںنے کہاکہ سولر انرجی کے شعبے میں حکومت نے 2 لاکھ 75 ہزار غریب گھرانوں کو مفت سولر ہوم سسٹم فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے جس پر 18 ارب روپے لاگت آئے گی جبکہ متوسط طبقے کے لیے رعایتی سولر فنانسنگ اسکیم بھی متعارف کرائی جائے گی۔
زرعی شعبے میں چھوٹے کسانوں کے لیے زرعی کلسٹرز کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ انہیں جدید سہولیات تک رسائی حاصل ہو سکے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں 900 ارب روپے سے زائد ترقیاتی اخراجات کیے گئے اور ایک ملین سے زائد گھر سیلاب متاثرین کے لیے مکمل کیے گئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم، گاڑیوں کی چوری اور حادثات میں نمایاں کمی آئی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت کا مقصد ایک ایسا سندھ بنانا ہے جہاں ہر بچے کو تعلیم، ہر شہری کو صحت اور ہر نوجوان کو روزگار کے مساوی مواقع میسر ہوں اور یہ بجٹ اسی وژن کی عملی تصویر ہے جو ترقی، فلاح اور استحکام کی سمت ایک واضح روڈ میپ فراہم کرتا ہے۔

