کیا اللہ کے نازل کردہ احکام کے برعکس کوئی فیصلہ صادر کرنا، یا سیاسی مصلحت کے تحت شرعی قانون کے خلاف حکم دینا، کسی انسان کو دائرہ ایمان سے یکسر محروم کر سکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس نے تاریخِ اسلام میں ایک بڑے فکری معرکے کو جنم دیا۔ قدیم و جدید خوارج کا بنیادی المیہ یہ ہے کہ وہ ایمانی اور فقہی مسائل میں گہرائی، سیاق و سباق اور نیتوں کے احوال کو یکسر نظر انداز کر کے صرف لفظی جکڑ بندیوں کے اسیر ہو گئے۔ ان کی اسی سوچ کا ایک ہولناک مظہر ان کا وہ موقف ہے جو انہوں نے ”الحکم بغیر ما نزل اللہ” یعنی اللہ کے نازل کردہ احکام کے علاوہ فیصلہ کرنے کے معاملے پر اپنایا۔ ان کا غیر لچکدار عقیدہ یہ ہے کہ جو کوئی بھی زندگی کے کسی بھی معاملے میںخواہ وہ سیاسی ہو، سماجی ہو یا انفرادی اللہ کی شریعت کے علاوہ کسی دوسرے قانون یا مصلحت کے تحت فیصلہ کرتا ہے، وہ دائرہ اسلام سے مکمل طور پر خارج ہو جاتا ہے اور ہمیشہ کے لیے جہنم کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
خوارج نے اپنے اس متشدد تکفیری موقف کی عمارت کو قرآن کریم کی ان آیات پر کھڑا کیا جن میں اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والوں کو کافر، ظالم یا فاسق کہا گیا ہے، بالخصوص سورہ المائدہ کی وہ آیات جن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ (ترجمہ) ”جو شخص اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں۔” امام ابو بکر الجصاص لکھتے ہیں: خوارج نے اس قرآنی آیت کی من مانی اور فاسد تاویل کرتے ہوئے ہر اس حاکم یا قاضی کو کافر قرار دے دیا جو کسی بھی وجہ سے اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ کرنا چھوڑ دے، خواہ وہ دل سے اس الہی حکم کا منکر اور جاحِد نہ بھی ہو۔
علماء نے خوارج کے اس نظریے کا نہایت باریک بینی اور فقہی بصیرت کے ساتھ محاکمہ کیا اور واضح کیا کہ ”الحکم بغیر ما نزل اللہ” یعنی اللہ کی شریعت کے علاوہ فیصلہ کرنے کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی احوال، نیتوں اور دلی عقائد کے بدلنے سے بالکل بدل جاتا ہے، خلاف شریعت ہر فیصلہ انسان کو اسلام سے خارج نہیں کرتا۔ علامہ ابن ابی العز حنفی اس کلامی نکتے پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں: یہاں ایک نہایت اہم اور باریک فقہی معاملہ ہے، اور وہ یہ کہ اللہ کے نازل کردہ احکام کے علاوہ فیصلہ کرنا کبھی تو ایسا کفرِ اکبر بن جاتا ہے جو انسان کو ملتِ اسلامیہ سے مکمل طور پر خارج کر دیتا ہے، لیکن کبھی یہ محض ایک عملی نافرمانی اور گناہ ہوتا ہے، خواہ وہ گناہِ کبیرہ ہو یا صغیرہ۔ اور بعض احوال میں یہ عمل کفرِ مجازی یا کفرِ اصغر یعنی دائرہ اسلام سے نہ نکالنے والا چھوٹا کفرکہلاتا ہے اور اس پورے معاملے کا دار ومدار اور تفریق بالکل فیصلہ کرنے والے حاکم یا قاضی کی قلبی حالت اور نیت پر ہوتی ہے۔
اس زریں اصول کے مطابق اللہ کے قانون کے علاوہ فیصلہ کرنا صرف اسی صورت میں انسان کو دائرہ اسلام سے خارج (کفرِ اکبر) کرتا ہے، جب اس کے پیچھے کچھ مخصوص قلبی امراض اور عقائد موجود ہوں۔ ان میں سے پہلی صورت یہ ہے کہ انسان شریعت کے علاوہ کسی دوسرے انسانی قانون یا فیصلے کو دل سے اچھا، بہتر اور شریعت سے برتر سمجھے۔ خلاصہ یہ ہے کہ خوارج کو ان کے باطل استدلال پر یہ محققانہ جواب دیا گیا کہ قرآنی آیت میں جس کفر کا ذکر ہے، اس سے مراد اللہ کے حکم کو سرے سے چھوڑ دینا، اسے باطل قرار دینا، اس سے دل موڑ لینا اور اس الٰہی حکم کو چھوڑ کر کسی دوسرے انسانی ضابطے کو زیادہ اچھا اور موزوں سمجھنا ہے۔ یہی وہ صورت ہے جس پر آیت کی عبارت دلالت کرتی ہے اور اس کے کفرِ اکبر ہونے میں امت کے اہل سنت علما کے درمیان کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ اصل جھگڑا اور خوارج کی غلطی تو ملتِ اسلامیہ کے ان گناہگاروں کو اس حکم میں گھسیٹنا ہے جو اپنے گناہوں اور غلط فیصلوں پر نادم ہوتے ہیں، اللہ کے حضور ان کے برا ہونے کا اعتراف کرتے ہیں، اس کے عذاب سے لرزتے ہیں اور اس کے نازل کردہ دین کی سچائی پر تصدیق کا مہر لگاتے ہوئے اس کی مغفرت کی امید رکھتے ہیں؛ ایسے خطا کار لوگ ہرگز ان منکرین میں شامل نہیں ہیں جنہوں نے سرکشی کی بنیاد پر اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کیا۔
دوسری صورت جس میں یہ عمل کفرِ اکبر بن جاتا ہے، وہ اللہ کے حکم کا صریح انکار (جحود)کرنا یا شریعت کا استخفاف اور مذاق اڑانا ہے۔ امام ابو بکر جصاص سورہ المائدہ کی آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ اس الٰہی فرمان کا مقصد یا تو شرک اور حق کا صریح انکار کرنے والا کفر ہے، یا پھر بغیر انکار کے محض نعمت کی ناشکری والا کفر ہے۔ امام جصاص کے کلام کا مغز یہ ہے کہ اگر آیت سے مراد اللہ کے حکم کا دل سے انکار کرنا ہو، یا اللہ کی شریعت کے علاوہ کوئی دوسرا فیصلہ صادر کرنا اور پھر کذب بیانی کرتے ہوئے یہ دعوی کرنا ہو کہ یہی اللہ کا اصلی قانون ہے، تو ایسا کفر انسان کو ملت سے خارج کر دیتا ہے اور اس کا مرتکب اگر پہلے مسلمان تھا تو وہ مرتد ہو جائے گا۔ اسی حقیقی معنی پر ان مفسرین کے اقوال محمول ہیں جنہوں نے فرمایا کہ یہ آیت اگرچہ بنی اسرائیل کے مخصوص پس منظر میں نازل ہوئی تھی، لیکن اس کا اصولی ضابطہ ہم پر بھی نافذ ہوتا ہے، یعنی امتِ مسلمہ میں سے بھی جو کوئی اللہ کے قائم کردہ حکم کا انکار کرے گا یا کسی دوسرے انسانی قانون کے مطابق فیصلہ کر کے یہ جھوٹا ڈھونگ رچائے گا کہ یہ اللہ کا قانون ہے، تو وہ اسی طرح کافرِ مطلق ہو جائے گا جیسے بنی اسرائیل اپنی اسی قبیح حرکت کی وجہ سے دائرہ ایمان سے خارج ہوئے تھے۔ اسی تائید میں علامہ ابو البرکات النسفی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: جو شخص بھی اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرے، جبکہ اس کے دل میں اس حکم کی توہین، ناقدری اور استخفاف کا جذبہ ہو، تو ایسے لوگ کافر ہیں۔ اس سلسلے میں ترجمانِ قرآن حضرت عبداللہ بن عباس کا وہ زریں اصول کلمہِ حق ہے کہ جس نے اللہ کے حکم کا دل سے انکار کرتے ہوئے اس کے خلاف فیصلہ کیا وہ کافر ہوا، اور جو منکر تو نہیں ہے لیکن عمل میں مغلوب ہو کر کوتاہی کر گیا، وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں بلکہ فاسق اور ظالم ہے۔ اسی حقیقت کو علامہ ابن ابی العز نے ان الفاظ میں پرویا ہے کہ اگر کوئی یہ عقیدہ رکھ لے کہ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا سرے سے واجب ہی نہیں ہے اور انسان کو اس معاملے میں مکمل اختیار حاصل ہے، یا وہ اللہ کا حکم ہونے کا سو فیصد یقین رکھنے کے باوجود دنیاوی گھمنڈ میں اس کی توہین اور استخفاف کرے، تو یہ کفرِ اکبر ہے۔
اس تفسیری تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے مفسرِ حنفی قاضی ابو السعود اس قرآنی وعید کی بلاغت اور اس کے پس منظر کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ کا یہ فرمان کہ ‘جو کوئی بھی اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرے’ اپنے اندر ایک عام اصول رکھتا ہے، جس میں سب سے پہلے وہی یہودی اور اہلِ کتاب شامل ہیں جن کے احوال کے پس منظر میں یہ بات کہی گئی۔ یعنی جو کوئی بھی اللہ کے احکام کی توہین کرتے ہوئے اور ان کا صریح انکار کرتے ہوئے فیصلہ کرنا چھوڑ دے جیسا کہ ان یہودیوں کے اللہ کی آیات میں دانستہ تحریف کرنے سے بالکل واضح ہوتا ہے تو ایسے ہی لوگ پکے کافر ہیں، کیونکہ انہوں نے الٰہی شریعت کا مذاق اڑایا۔ اسی تفسیری تاثر کو قاضی ثناء اللہ پانی پتی مظہری نے امام عکرمہ کے حوالے سے اپنی تفسیر میں مختصر اور جامع انداز میں واضح کیا ہے کہ کفر کا یہ صریح حکم اسی وقت لاگو ہوگا جب فیصلہ نہ کرنے یا تبدیل کرنے کے پیچھے دل میں توہین، استخفاف اور جحود (انکار) کا عنصر موجود ہو۔ (جاری ہے)

