سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی مثالی حکمرانی

امیرالمومنین، خلیفة المسلمین، شہیدِ محراب و منبر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اُمت کے بڑے فقیہ، مجتہد اور عالم تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہا آپ کے علم و فضل کی شہادت دی احادیث مبارکہ میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حق بات کو عمر کی زبان اور دل میں رکھ دیا ہے۔ (مسند احمد) (2) ”میں ایک مرتبہ سو رہا تھا کہ میرے سامنے دودھ کا پیالہ لایا گیا میں نے اسے پی لیا یہاں تک کہ سیرابی میرے ناخنوں سے ظاہر ہونے لگی پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر بن خطاب کو دے دیا صحابہ کرام نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس کی تعبیر کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی تعبیر علم ہے۔” (بخاری)۔ (3) اگر (بفرضِ محال) میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے۔ (ترمذی) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو متعدد اُمور میں اولیت کا شرف حاصل ہے: (1) علانیہ ہجرت فرمائی (2) امیر المومنین کے لقب سے مشہور ہوئے (3) سنِ ہجری کا آغاز کیا (4) نمازِ تراویح باجماعت رائج کی (5) قرآنِ مجید کو جمع کرنے کا مشورہ دیا (6) بوڑھے اور نادار ذمیوں سے جزیہ (ٹیکس) ساقط کیا (7) ہر شخص کیلئے اسلامی فوج میں بھرتی کو لازمی قرار دیا (8) راتوں کو لوگوں کے احوال معلوم کرنے کیلئے گشت کا سلسلہ شروع کیا (9) مجاہدین کے ناموں اور وظائف کیلئے رجسٹر مرتب کیا (10) راستوں میں مسافرخانے اور شہروں میں مہمان خانے تعمیر کرائے (11) جیل خانہ پولیس کا محکمہ اور فوجی چھاونیاں قائم کیں (12) نئے شہر بسائے تاکہ بڑے شہروں کی طرف آبادی کا بہائو کم ہو (13) مردم شماری کی تاکہ آبادی کے تناسب سے منصوبہ بندی اور وسائل کی تقسیم ہو۔

اپنے عمال کے بارے میں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا: خدا کی قسم! میں نے اپنے عمال کو تم پر اس لیے مقرر نہیں کیا کہ وہ تم پر ظلم کریں تمہارے مال چھین لیں، میں نے انہیں اس غرض سے تم پر مقرر کیا ہے کہ وہ تمہیں دین کی تعلیم دیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں سکھائیں۔ لہٰذا جس شخص کے ساتھ اس کے برعکس سلوک کیا جائے تو وہ فوراً مجھے اطلاع دے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں عمر کی جان ہے! میں ضرور انصاف کروں گا اور ظالموں سے قصاص لوں گا۔ یہ سن کر حضرت عمرو بن عاص نے عرض کی: امیر المومنین آپ اپنی اس بات پر غور فرمائیںجسے آپ عامل بنائیں گے وہ مسلمانوں میں سے ہی ہوگا اگر اس نے رعایا میں سے کسی کی تادیب کی تو کیا آپ اس سے قصاص لیں گے فرمایا: ہاں! قسم بخدا میں اس سے ضرور قصاص لوں گا آگاہ ہو جاؤ! کسی مسلمان کو نہ مارنا کسی مسلمان کی تذلیل نہ کرنا انہیں فتنے میں مبتلا نہ کرنا انہیں سرحدوں پر جمع کرکے نہ رکھنا کہ تم انہیں ان کے بیوی بچوں کے پاس واپس لوٹنے سے روکو انہیں ان کے حقوق پیہم ادا کرتے رہنا۔ (مسنداحمد)

آپ کسی شخص کو عامل مقرر کرتے ہوئے اس سے چار باتوں پر حلف لیتے تھے: (1) گھوڑے پر سوار نہ ہونا (2) لباسِ فاخرہ نہ پہننا (3) عمدہ اور اعلیٰ کھانے نہ کھانا (4) اپنے دروازوں کو بند نہ رکھنا اور دربان مقرر نہ کرنا کہ لوگ اپنی حاجتوں کیلئے نہ آسکیں۔ ایک دفعہ حضرت عمر بازار میں جا رہے تھے ایک طرف سے آواز آئی: عمر! کیا عمال کیلئے کچھ اصول وضوابط مقرر کرکے تم اپنے آپ کو عذابِ الٰہی سے بچا سکتے ہو تمہیں خبر ہے کہ مصر کا عامل عیاض بن غنم باریک کپڑے پہنتا ہے اس کے دروازے پر دربان مقرر ہے حضرت عمر نے محمد بن مسلمہ کو بلایا اور کہا: عیاض کو جہاں پائو ساتھ لے آو۔ محمد بن مسلمہ نے وہاں پہنچ کر دیکھا تو واقعی دروازے پر دربان تھا اور عیاض باریک کپڑے کی قمیص پہنے بیٹھے تھے اسی حالت میں انہیں ساتھ لے کر مدینہ طیبہ آئے۔ حضرت عمر نے وہ قمیص اتروا کر اون کی قمیص پہنائی اور بکریوں کا ایک ریوڑ منگوا کر حکم دیا: انہیں لے جاکر جنگل میں چراؤ۔ عیاض کو انکار کی مجال نہ تھی لیکن بار بار یہ کہتے: اس سے مر جانا ہی بہتر ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: تجھے اس سے عار کیوں ہے تیرے باپ کا نام غنم اسی وجہ سے پڑا تھا کہ وہ بکریاں چراتا تھا۔ (ازال الخفاج)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوعبیدہ کو لکھا: اپنے اوپر پانچ باتوں کو لازم کر لو تمہارا دین سلامت رہے گا: (1) جب تمہارے سامنے مقدمے کے فریقین حاضر ہوں تو معتبر لوگوں کی گواہیوں اورپختہ قسموں پرخاص توجہ دو۔ (2 ) کمزوروں کو اپنے قریب بٹھاؤ یہاں تک کہ انہیں بولنے کا حوصلہ ملے اور ان کے دل میں جرا ت پیدا ہو۔ (3) غریبوں کا خیال رکھو انہیں دیر تک انتظار نہ کراؤ کہ وہ مایوس ہوکر واپس لوٹ جائیں۔ (4) حبِ مال اور نفسانی خواہشات سے اپنے نفس کو محفوظ رکھو۔ (5) حتی الامکان فریقینِ مقدمہ کے درمیان مصالحت کی کوشش کرو۔ (کتاب الخراج لِلاِمام ابی یوسف)

آپ کے عہد خلافت میں ایک شخص آپ کی خدمت میں اپنی فریاد لے کر حاضر ہوااورکہا:امیر المومنین! مصرکے گورنر عمرو بن العاص کے بیٹے محمد بن عمرو نے میری پشت پر آٹھ کوڑے مارے ہیں وہ کہتا ہے: میں گورنر کا بیٹا ہوں آپ نے حکم دیا : محمد بن عمرو کو گرفتار کرکے لائو اور عمرو بن العاص کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا۔ محمد بن عمرو گرفتار کر کے لائے گئے۔ آپ نے اس سے کہا: گورنر کے بیٹے محمد بن عمرو کی پشت پر آٹھ کوڑے مارو اس شخص نے گورنرکے بیٹے کی پشت پرکوڑے مارے۔ اس کے بعد آ پ نے گورنر مصر عمرو بن عاص کو ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: تم نے لوگوں کوکب سے اپنا غلام سمجھنا شروع کر دیا ہے ان کی ماؤں نے تو انہیں آزاد جنا تھا۔ (کنزالعمال)

آپ ذمیوں کے ساتھ نیک برتاؤ کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے گشت کے دوران ایک دروازے پر ایک ضعیف العمر نابینا دیکھا آپ نے اس کی پشت پر ہاتھ رکھ کر پوچھا: تم اہل کتاب کے کس گروہ سے تعلق رکھتے ہو اس نے جواب دیا: میں یہودی ہوں۔ حضرت عمر نے پوچھا: گداگری کی نوبت کیسے آئی یہودی نے کہا: اس کا سبب جزیہ بڑھاپا اور روزی کی مجبوری ہے۔ یہ سن کر آپ اس کا ہاتھ پکڑ کر گھرلائے اس کی ضرورت پوری کی اور بیت المال کے خازن کو لکھا: اس قسم کے دوسرے حاجت مندوں کی تفتیش کرو یہ انصاف نہیں ہے کہ ہم جوانی میں ان سے جزیہ وصول کریں اور بڑھاپے میں انہیں بھیک مانگنے کیلئے چھوڑ دیں۔ اس کے بعد آپ نے ایسے تمام لوگوں کا جزیہ معاف کرکے وظیفہ بھی مقرر کردیا۔ (کتاب الخراج)

آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کا بے حد احترام کرتے اور وظائف میں انہیں ترجیح دیتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب مدائن فتح ہوا تو حضرت عمر نے سارا مالِ غنیمت مسجد نبوی میں فرش پر ڈال دیا سب سے پہلے حضرت امام حسن تشریف لائے۔ آپ نے انہیں ایک ہزار درہم دیے پھر حضرت حسین تشریف لائے انہیں بھی ایک ہزار درہم دیے پھر آپ کے بیٹے عبداللہ آئے تو آپ نے انہیں پانچ سو درہم دیے انہوں نے کہا: امیر المومنین! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں جوان تھا میں آپ کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوتا تھا جبکہ حضرات حسن وحسین اس وقت چھوٹے بچے تھے آپ نے انہیں ہزار درہم دیے اور مجھے صرف پانچ سو میرا حق ان سے زیادہ ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: بیٹے! پہلے وہ فضیلت تو حاصل کرو جو حسنین کریمین کو حاصل ہے پھر مجھ سے ہزار درہم کا مطالبہ کرنا۔ ان کے والد علی المرتضی والدہ فاطمة الزہرا نانا رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نانی خدیجة الکبری چچا جعفرِ طیار پھوپھی ام ہانی ماموں ابراہیم بن رسول اللہ اور خالہ رقیہ وام کلثوم (رضی اللہ عنہم) ہیں۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ خاموش ہو گئے۔ (الریاض النضر)

حضرت عمررضی اللہ عنہ کی فتوحات پر ایک نظر ڈالی جائے تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔ آپ کے دس سال چار ماہ کے عرصہ خلافت میں 2251030مربع میل علاقہ فتح ہوا۔ بڑے بڑے علاقے مثلاً: شام، مصر، عراق، جزیرہ کرمان، خراسان، خوزستان، آرمینیا، آذربائیجان اور فارس آپ کے دورِ خلافت میں فتح ہوئے۔ کوفہ، بصرہ، جیزہ، فسطاط اور موصل کے نام سے نئے شہر آباد ہوئے۔