مردم شماری میں حصہ لینا قومی و مذہبی فریضہ

سیرت نبوی ۖکے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر عہد میں اسلام کی تائید و تقویت اور مسلمانوں کے ملی وجود کی حفاظت کیلئے تمام اسباب اختیار کرنے چاہئیں جو اس زمانہ میں مروج ہوں اور ان میں شریعت کے خلاف کوئی بات نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں بہ کثرت اس کی مثالیں موجود ہیں ۔ آپ علیہ السلام نے دعوتِ توحید کیلئے پہلی دفعہ صفا کی پہاڑی کا انتخاب کیا اور وہاں جا کر اہل مکہ کو اکٹھا کر کے اپنی بات کہی ، یہ کوئی اتفاقی انتخاب نہ تھا بلکہ پہلے سے اہل مکہ کا طریقہ چلا آرہا تھا کہ کسی اہم بات کی اطلاع دینے کیلئے اسی مقام پر کھڑے ہو کر لوگوں کو بلاتے تھے۔ گویا یہ اس زمانے کا ذریعہ ابلاغ تھا اور مکہ شہر کی حد تک اس سے زیادہ وسیع الاثر کوئی اور ذریعہ ابلاغ موجود نہیں تھا۔ عرب میں دو ایسے اجتماعات ہوتے تھے جن میں پورا جزیرة العرب امڈ آتا تھا ، ایک حج اور دوسرے عکاظ کا تجارتی میلہ۔ ان دونوں اجتماعات میں بہت سی منکرات اور فواحش کا ارتکاب کیا جاتا تھا۔ حج میں تو بہر حال ایک پہلو عبادت کا بھی تھا ، گو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اصل اسوہ میں بہت کچھ آمیزشیں کردی گئی تھیں لیکن عکاظ کے میلے کی نوعیت مذہبی نہیں تھی۔ اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کل عرب سطح کے ان دونوں اجتماعات میں جاتے اور لوگوں پر دعوت اسلام پیش فرماتے، کیونکہ اس وقت اس سے زیادہ موثر، زودرفتار اور وسیع الاثر کوئی اور میڈیا نہیں تھا۔

عربوں کاایک قدیم قبائلی نظام تھا جس کے مطابق قبیلہ کے ایک شخص کو پورے قبیلہ کی پناہ حاصل ہوتی تھی اور اگر قبیلہ کے ایک شخص کے خلاف بھی کوئی زیادتی کی جاتی تو پورا قبیلہ اسے اپنے آپ پر حملہ تصور کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنوہاشم میں تھے اور اس وقت اس قبیلے کی قیادت ابوطالب کے ہاتھ میں تھی ، جو آپ کے چچا تھے، لیکن اولاد سے بڑھ کر آپ سے محبت رکھتے تھے ۔ اس لئے باوجودیکہ بنوہاشم کی اکثریت ابھی مسلمان نہیں ہوئی تھی اور ابولہب جیسا بدترین دشمنِ اسلام اسی خاندان سے تعلق رکھتا تھا، لیکن اس کے باوجود ابوطالب کی وجہ سے آپ کو اس خاندان کی ایسی حمایت و حفاظت حاصل رہی کہ شعب ابی طالب جیسے دل گداز اورصبر آزما واقعہ میں بھی بنوہاشم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑا اور عرب کے اس قبائلی پناہ دہی اور پناہ گیری کے نظام سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھرپور فائدہ اٹھایا ، اسی طرح آپ علیہ السلام کے سب سے جاںنثار رفیق حضرت ابوبکر صدیق نے ابن الدغنہ کی پناہ حاصل کرنے میں کوئی تکلف نہیں برتا۔

مدینہ جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں، یہودیوں اور مشرکین کے درمیان بقائے باہم اور مدینہ کے مشترکہ دفاع کا ایسا معاہدہ کرایا جو اسلام کے سیاسی تصورات کیلئے نشانِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے کیوںکہ اس معاہدہ کے مطابق مدینہ کے غیر مسلم قبائل کو عقیدہ و مذہب کی آزادی دی گئی ، ایک دوسرے کی جان و مال کے احترام کا سبق دیا گیا اور بوقت ضرورت غیر مسلموں کے ساتھ مل کر کسی علاقہ کی حفاظت اور دفاع کو قبول کیا گیا ، اسی طرح فتح مکہ سے پہلے متعدد ایسے مشرک قبائل جو اس وقت تک اسلام قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھے ، سے آپ ۖ نے ناجنگ معاہدہ کیا ، بلکہ مشکل وقتوں میں بحیثیت حلیف ایک دوسرے کی مدد کرنے کے معاہدے بھی کیے، بظاہر اسلام میں موالات وغیرہ کے سلسلہ میں جو احکام ہیں ، ہو سکتا ہے کہ بادی النظر میں یہ معاہدات اس کے خلاف محسوس ہوں لیکن در اصل ان سب میں ایک ہی روح کار فرما ہے کہ ہر عہد کی ضرورت ، تقاضا اور رسم و رواج کے مطابق اسلام کو سر بلند کرنے اور امت ِمسلمہ کو تقویت پہنچانے کی کوشش کی جائے ۔

اللہ تعالی نے مسلمانوں سے کہا کہ اعدائے اسلام کے مقابلہ میں قوت بھر تیاری کرو ۔کیا اس کا مطلب صرف اسلحہ اورجنگی طاقت کا فراہم کرنا ہے ؟ غالبا ایسا نہیں ہے بلکہ ہر طرح کی طاقت اس میں داخل ہے ، کبھی علم کی طاقت ہتھیار کی طاقت پر فائق ہو تی ہے ، جس کی مثال آج جاپان ہے ، کبھی سیاسی طاقت کے ذریعہ قوموں کی تقدیر کے فیصلے ہو تے ہیں ، ہندوستان میں برہمن اِزم اسی کا جیتا جاگتا نمونہ ہے ، کبھی معاشی طاقت کی بنیاد پر انگلیوں پر گنی جانے والی قوم پوری دنیا کو اپنے چشم وابروکا متبع بنا کر رکھتی ہے، جیسا کہ اس وقت صیہونی طاقت کا حال ہے ، غرض کہ ہر عہد میں اس عہد کی ضرورت کے مطابق اپنی طاقت کو بڑھانا اس طاقت کو مذہب وملت کی سربلندی کیلئے استعمال کرنا اور ظالموں کے تسلط سے بچنے کیلئے اس کو ڈھال اور نیام بنانا امت کا فریضہ اوررسول اللہ ۖ کا اسوہ ہے۔

آج کی دنیا میں معیار کے ساتھ ساتھ تعداد و مقدار کی بھی بڑی اہمیت ہے ، اس سے کسی قوم کا سیاسی مقام متعین ہوتا ہے ، نظام مملکت کے نقشہ میں اس کی اہمیت محسوس کی جاتی ہے ، جو زبان کسی علاقہ میں بولی جاتی ہو ، اس زبان کی قدر و قیمت بھی بولنے والوں کی تعداد پر منحصر ہے ، اسی پس منظر میں تمام ہی ممالک میں اور خاص کر جمہوری ملکوں میں مردم شماری کو خاص اہمیت حاصل ہے ، ہندوستان میں اس وقت چھٹی مردم شماری کا آغاز ہو چکا ہے ۔اس مردم شماری پر ایک ہزار کروڑ روپے خرچ ہوں گے ، اس بار مردم شماری نسبتاً زیادہ تفصیل سے عمل میں آرہی ہے ، جس میں مذہب ، زبان اورمعاشی حالات کے علاوہ معذورین اور ان کے حالات بھی مرکز توجہ ہوں گے اور ان ہی اعداد و شمار کی روشنی میں ملک میں آئندہ سیاسی ، تعلیمی اورمعاشی منصوبہ بندی ہو سکے گی ۔

اردو ہماری مادری زبان ہے اور عربی زبان کے بعد کوئی زبان نہیں ، جس میں علوم اسلامی کا اتنا بڑا سرمایہ موجود ہو ؛ بلکہ بعض موضوعات پر اردو میں ایسی کتابیں بھی آچکی ہیں ، کہ شاید عربی میں بھی اس جیسی کتاب نہ ہو ، فارسی حالاںکہ صدیوں سے مسلمانوں کی زبان ہے ، اور ایک بہت بڑا ذخیرہ فارسی زبان میں ہے ؛ لیکن اردو نے صرف ڈیڑھ دو سو سال میں نہ صرف فارسی کی برابری حاصل کر لی ؛ بلکہ اسلامی فکر و عقیدہ ، علم و عمل اور تہذیب و ثقافت کی نمائندگی میں غالبا فارسی سے بہت آگے جا چکی ہے ، بد قسمتی سے آزادی کے بعد سے مسلسل اردو لکھنے پڑھنے والوں کی تعداد گھٹتی جارہی ہے اوراس لئے حکومت کوبھی اردو کی طرف سے دانستہ تغافل کا بہانہ ہاتھ آرہا ہے ، مردم شماری میں اگر ہم اہتمام کے ساتھ مادری زبان کی حیثیت سے اردو کا نام لکھائیں اور اعداد و شمار اس بات کو واضح کر دیں کہ اردو بولنے ، سمجھنے ، لکھنے اورپڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ، تو اس سے ہمیں اپنی زبان کی حفاظت میں سہولت بہم پہنچے گی اور ہماری اگلی نسلوں کو اپنے سلف کے اتنے عظیم الشان علمی اور دینی سرمایہ سے محروم نہیں کیا جاسکے گا ۔ (جاری ہے)