زندگی کے پوشیدہ موڑ

آج کل سوشل میڈیا پر پاکستان کے مختلف سیاحتی مقامات کی ایسی دل موہ لینے والی ویڈیوز دیکھنے کو ملتی ہیں کہ انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ برف اوڑھے پہاڑ، بادلوں سے باتیں کرتی چوٹیاں، زمردی جھیلیں، سرسبز وادیاں اور دور تک پھیلے خاموش راستے۔ ان مناظر کو دیکھ کر ایک احساسِ محرومی بھی جاگ اٹھتا ہے کہ اپنے ہی وطن کے کتنے حسین گوشے ہماری نگاہوں سے اوجھل رہے۔ لیکن انہی ویڈیوز کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں ایک اور خیال نے جنم لیا۔ خیال یہ کہ شاید زندگی بھی ان پہاڑی راستوں کی مانند ہے۔ دور سے سیدھی اور واضح دکھائی دیتی ہے مگر جیسے ہی سفر شروع ہوتا ہے، اس کے اندر بے شمار موڑ، نشیب و فراز اور غیرمتوقع راستے سامنے آنے لگتے ہیں۔ مسافر ہر موڑ کو رکاوٹ سمجھتا ہے، حالانکہ بعض اوقات یہی موڑ اسے کسی خطرناک کھائی سے بچا رہے ہوتے ہیں۔ زندگی کے سفر میں انسان بہت سے ایسے موڑ دیکھتا ہے جنہیں وہ اپنی ناکامی سمجھتا ہے۔ کبھی کوئی ملازمت ہاتھ سے نکل جاتی ہے، کبھی کسی کاروباری منصوبے میں رکاوٹ آجاتی ہے، کبھی کوئی خواب برسوں کی محنت کے باوجود پورا نہیں ہوتا اور کبھی کوئی شخص جسے ہم اپنی زندگی کا لازمی حصہ سمجھتے تھے، اچانک دور چلا جاتا ہے۔ ان لمحوں میں ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ قسمت نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور ہمارے لیے کامیابی کے دروازے بند ہوگئے ہیں۔

لیکن وقت گزرنے کے بعد اکثر معلوم ہوتا ہے کہ جن واقعات پر ہم نے سب سے زیادہ افسوس کیا تھا وہی ہمارے لیے خیر کا سبب بنے۔ جس ملازمت کے نہ ملنے پر ہم پریشان تھے اُس سے کہیں بہتر موقع بعد میں نصیب ہوگیا۔ جس کاروبار کی ناکامی پر ہم راتوں کو جاگتے رہے، اس نے ہمیں بڑے نقصان سے بچا لیا۔ جس شخص کی جدائی نے دل توڑ دیا تھا، اسی جدائی نے ہمیں ایسے لوگوں سے ملایا جو ہمارے لیے زیادہ مخلص اور بہتر ثابت ہوئے۔ ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم ہر واقعے کا فیصلہ اسی لمحے کرنا چاہتے ہیں جس لمحے وہ پیش آتا ہے۔ ہم درد کو دیکھتے ہیں مگر اس کے پیچھے چھپی حکمت کو نہیں دیکھ پاتے۔ ہم بند دروازے کو دیکھتے ہیں مگر ان راستوں سے بے خبر ہوتے ہیں جو ابھی ہمارے لیے کھلنے والے ہوتے ہیں۔ حالانکہ زندگی کے بعض راز فوراً نہیں کھلتے، انہیں سمجھنے کے لیے برسوں کا فاصلہ درکار ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہمیشہ ہماری توقعات کے مطابق نہیں ہوتی۔ کبھی رحمت کامیابی کی صورت میں آتی ہے اور کبھی ناکامی کی شکل میں۔ کبھی خیر جلدی مل جاتی ہے اور کبھی تاخیر کے پردے میں چھپی ہوتی ہے۔ بسا اوقات ایک مکمل مایوسی کے پیچھے ایسی نعمت پوشیدہ ہوتی ہے جس کا اندازہ انسان کو بہت بعد میں ہوتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے، ترجمہ: ”ممکن ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو حالانکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہو۔” (البقرہ)

انسان کی پختگی شاید اِسی میں ہے کہ وہ ہر واقعے کی فوری توجیہ تلاش کرنے کے بجائے اللہ کی حکمت پر اعتماد کرنا سیکھ لے۔ ہر سوال کا جواب فوراً مل جانا ضروری نہیں، ہر موڑ کا راز اسی وقت کھل جانا لازم نہیں۔ بعض راستوں کی حقیقت منزل پر پہنچ کر معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے جب زندگی آپ کی منصوبہ بندی کے مطابق نہ چلے، جب کوئی خواہش پوری ہونے میں دیر ہوجائے، جب کوئی دروازہ بند ہوجائے یا کوئی موقع ہاتھ سے نکل جائے تو جلدی سے اسے اپنی شکست قرار نہ دیجیے۔ ممکن ہے جسے آپ آج نقصان سمجھ رہے ہیں وہ دراصل حفاظت ہو۔ جسے آپ اختتام خیال کررہے ہیں وہ کسی نئی شروعات کا دروازہ ہو۔ زندگی صرف ان نعمتوں کا نام نہیں جو کھلے دروازوں سے ہمارے پاس آتی ہیں۔ بعض اوقات سب سے بڑی نعمتیں انہی بند دروازوں، نامکمل خواہشوں اور غیرمتوقع تاخیروں کے پردے میں چھپی ہوتی ہیں۔ وقت گزرنے کے بعد انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ زندگی نے اس سے اتنا نہیں لیا جتنا اسے عطا کیا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ بعض عطائیں کھلی کھڑکیوں سے نہیں بلکہ باریک درزوں سے اس کی زندگی میں داخل ہوئی تھیں۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث کا مفہوم بے: ‘مؤمن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کے ہر حال میں خیر ہی خیر ہے’۔ شاید زندگی کے پوشیدہ موڑوں کو سمجھنے کے لیے اس حدیث سے بہتر کوئی رہنمائی نہیں کہ بعض خیر خوشیوں کے لباس میں آتی ہے اور بعض آزمائشوں کے پردے میں۔ مگر مؤمن جانتا ہے کہ دونوں صورتوں میں اس کے رب کی حکمت اور رحمت اس کے ساتھ ہے۔