اسلام آباد:قومی اقتصادی کونسل نے 4 نکاتی ایجنڈے اور مالی سال 2026ـ2027ء کے لیے قومی ترقیاتی بجٹ کیلئے 3669 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ہوا۔ شرکاء سے گفتگو میں وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی اکائیوں کے درمیان اسی یکجہتی اور تعاون کے جذبے سے ملک ترقی کرے گا۔
اجلاس کے شرکاء نے خلیج میں حالیہ کشیدگی سے عالمی معیشت میں منفی اثرات کے باوجود پاکستانی معیشت کو مستحکم رکھنے اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا۔
شرکا نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی ملک کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بہترین صحت کے نظام کے ذریعے بیماریوں کے بڑھتے بوجھ میں کمی، بچوں کی صحت بالخصوص اسٹنگ کا خاتمہ،اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کی فراہمی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا قومی ترجیحات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو فنی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کرنے کی حکمت عملی پر کار بند ہیں برآمدات پر مبنی معیشت ترقی کیلئے اولین ترجیح ہے، وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں میں ہم آہنگی پیدا کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کو قومی ترجیحات اور پائیدار معاشی اہداف کے مطابق ترتیب دیا جائے، مشترکہ قومی کاوشوں سے پاکستان کو ترقی، خوشحالی اور معاشی خود انحصاری کی منزل تک پہنچائیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صوبوں کے ساتھ مزید وسائل پیدا کرنے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی ہے، دفاع کے لیے وسائل کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے جب کہ دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے اضافی وسائل درکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے کی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس چیلنج کے باوجود حکومت نے عوام کو تیل کی قیمتوں کی مد میں 128 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا۔
دنیا کے کئی ممالک میں پیٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں تاہم بروقت اقدامات کے باعث پاکستان میں پٹرول کی فراہمی برقرار رہی اور عوام کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
اجلاس میں قومی اقتصادی کونسل کے 4 نکاتی ایجنڈے کی اتفاق رائے سے منظوری دی گئی جبکہ شرکا کو مالی سال کے لیے معیشت کی کارکردگی کے حوالیسے نظر ثانی شدہ اعشاریے پیش کئے گئے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2025ـ2026 میں وفاقی پی ایس ڈی پی پر 820 ارب، صوبوں کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں پر 2938 ارب اور ایس او ایز پروگرام پر 355 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس نے مالی سال 2026ـ2027 کے لیے قومی ترقیاتی بجٹ کیلئے 3669 ارب روپے مختص کرنے کی بھی منظوری دے دی، اس کے علاوہ قومی اقتصادی کونسل نے وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے ایک ہزار ارب، صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 2218 ارب روپے اور ایس او ایز کے لیے 451ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی۔
قومی اقتصادی کونسل نے 2025ـ2026 کیلئے مجموعی قومی پیداوار کی 3.7 فیصد شرح نمو اور اگلے مالی سال کیلئے 4 فیصد شرح نمو کی منظوری دے دی۔ اعلامیے کے مطابق اقتصادی کونسل نے متعلقہ وزارتوں، صوبوں اور سرکاری اداروں کو ہدایت کی کہ مجوزہ سالانہ پلان 2027ـ2026 کے اہداف کے حصول کے لئے وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ مل کر کام کریں۔
اجلاس کو اپریل 2025ء سے مارچ 2026ء تک سی ڈی ڈبلیو پی اورایکنک کی کارکردگی کی رپورٹ بھی پیش کی گئی اور بتایا گیا کہ اس عرصے کے دوران سی ڈی ڈبلیو پی نے 316 ارب روپے کی 116 اسکیموں جب کہ ایکنک نے 5.117 کھرب روپے کی 72 اسکیموں کی منظوری دی۔
اجلاس کو 2025ـ26 کے میگا منصوبوں کی نگرانی اور جائزے کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جائزے اور نگرانی کی نئی پالیسی بھی تشکیل دی جا چکی ہے جس میں ترقیاتی منصوبوں کی اے آئی کے ذریعے بھی جانچ پڑتال کا پائلٹ منصوبہ شامل ہے۔
قومی اقتصادی کونسل نے اڑان پاکستان کے تحت قومی اقتصادی ترقی کے 11 مشنز کی منظوری دی۔ وزارت منصوبہ بندی و ترقی کو ان مشنز کی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں سے ملکر روڈ میپ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔
وزیر اعظم نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کے تمام نکات کی اتفاق رائے سے منظوری پر شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر منصوبہ بندی ڈاکٹر احسن اقبال، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی، وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب سرفراز بگٹی، پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب اور قومی اقتصادی کونسل کے دیگر ارکان شریک تھے۔
دریں اثناء وفاقی بجٹ پیش ہونے میں تاخیر کا سلسلہ ختم ہوگیا،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم تکنیکی کمیٹی اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات کامیاب،قومی اسمبلی میں بجٹ کل 12 جون کو ہی پیش ہوگا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بات چیت کے دوران اہم مالیاتی امورپراتفاق رائے ہوا ہے،این ایف سی ایوارڈ کے موجودہ فارمولے میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے پراتفاق کیاگیا۔
ن لیگ پیپلزپارٹی اتفاق رائے کے مطابق صوبے وفاق کو گرانٹس کی مد میں 1200ارب روپے سے زائد فراہم کریں گے،پنجاب سے 520ارب روپے،سندھ سے 310ارب روپے،خیبرپختونخوا سے 180ارب روپے جبکہ بلوچستان سے 85 ارب روپے سے زائد وفاق کوملنے کی توقع ہے،یہ رقم وفاق آئندہ چند برسوں میں صوبوں کو واپس کرے گا۔
علاوہ ازیں حکومت نے یوم عاشور سے قبل بجٹ منظور کروانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت آج شروع ہونے والا بجٹ اجلاس بلاتعطل چلایا جائے گا۔نجی ٹی وی کے مطابق بجٹ اجلاس 12 جون سے منظوری تک بلا تعطل چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت عاشورہ محرم سے قبل 23 یا 24 جون کو بجٹ منظور کروائے گی جس کے تحت ہفتہ اتوار کی چھٹی بھی نہیں کی جائیگی۔حکومت نے عاشور سے قبل بجٹ منظور کرانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اس حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس بھی ہوا جس میں قومی اسمبلی کا اجلاس بغیر کسی وقفے کے بجٹ کی منظوری تک مسلسل جاری رہنے پر اتفاق کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عاشور سے قبل بجٹ منظور نہ ہوسکا تو فقط عاشور کی تعطیل کے علاوہ کوئی چھٹی نہیں ہوگی، ضمنی گرانٹس محرم کی چھٹیوں کے بعد منظور کروائی جائیں گی۔

