ایرانی ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز پر امریکی فضائی حملے

جنگ ختم کرنے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے باوجود، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج نے ہفتے کے اوائل میں دو ایرانی جزیروں پر واقع ریڈار تنصیبات اور ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز پر فضائی حملے کیے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق کمانڈ نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے “ایرانی جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے جن میں بین الاقوامی پانیوں کے اوپر پرواز کرنے والے امریکی ایم کیو-1 طیارے کو مار گرانا شامل تھا۔”
مزید کہا گیا کہ “یہ درست حملے گزشتہ ہفتے کے روز اور اتوار کو کیے گئے، جن میں کسی بھی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔”
یہ بھی پڑھیں: 

اختیارات کی جنگ شدید، ایرانی صدر کے استعفے کا دعویٰ

اسی دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ ان کی فضائیہ نے ایک ایسے فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے جسے اس نے جزیرہ سیرک پر ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور پر امریکی حملے کے طور پر بیان کیا، تاہم روئٹرز کے مطابق انہوں نے اس اڈے کے مقام کی وضاحت نہیں کی۔
دوسری طرف  ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ملک پر کسی بھی نئے حملے کا بھرپور جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔