جنوبی غزہ میں تباہی کا پردہ چاک،لبنان میں صہیونی حملے تیز

غزہ/تل ابیب/بیروت/برلن/واشنگٹن:جنوبی غزہ کے متعدد رہائشی علاقے،زرعی زمینیں،تعلیمی ادارے اور قبرستان صہیونی حملوں میں تباہ،نئی سیٹلائٹ تصاویر مظالم کا پردہ چاک کرڈالا۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں اپ ڈیٹ ہونے والی فضائی اور سیٹلائٹ تصاویر میں جنوبی غزہ کے شہروں رفح اور خان یونس کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی گئی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کئی رہائشی بستیاں اور اہم عوامی مقامات اب نقشے پر اپنی سابقہ شکل میں موجود نہیں رہے۔رپورٹ کے مطابق خان یونس کے علاقے معن میں واقع شیخ محمد قبرستان بھی شدید متاثر ہوا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جنگی کارروائیوں کے بعد اس علاقے کی جغرافیائی صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔سیٹلائٹ تصاویر میں رفح کے مختلف محلوں،رہائشی منصوبوں اور سرحدی تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہوا دکھایا گیا ہے۔

بعض علاقوں میں صرف ملبے کے ڈھیر اور تباہ شدہ عمارتوں کے آثار باقی رہ گئے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غزہ کے تعلیمی شعبے کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ متعدد اسکولوں اور جامعات کی عمارتیں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ ہزاروں طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں طویل عرصے سے معطل ہیں۔

ادھرمقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے فائرنگ کرکے ایک فلسطینی شہری کو شہید کر دیا۔فلسطینی وزارت صحت کے مطابق بیت لحم کے جنوب میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے 31 سالہ امجد جواد شہید ہو گئے، امجد جواد کا تعلق الخلیل شہر سے تھا۔واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور فلسطینی شہریوں کو جائے وقوعہ کے قریب جانے سے روک دیا۔

فائرنگ کے اس واقعے کے حالات و اسباب فوری طور پر واضح نہیں ہو سکے۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے چھاپوں، فائرنگ کے واقعات اور گرفتاریوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اس واقعے سے چند گھنٹے قبل ایک اور فلسطینی نوجوان 26 سالہ عماد ہارون کو بھی اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس کے قریب شہید کردیا تھا۔

دوسری جانبغزہ کے معاملے میں مسلسل جمود کے سائے میں اور وقتاًً فوقتاً ہونے والی اسرائیلی بمباری کے دوران باخبر فلسطینی ذرائع نے بتایا ہے کہ مصر نے فلسطینی دھڑوں کو بدھ کو ایک ہنگامی اجلاس کی دعوت دی ہے تاکہ اس جمود سے نکلنے کی تجاویز پر بحث کی جا سکے۔ذرائع نے عرب ٹی وی کوبتایا کہ یہ اجلاس العلمین شہر میں منعقد ہوگا۔

اس جمود نے جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے میں منتقلی اور پہلے مرحلے کو مکمل کرنے کے معاملے کو متاثر کیا ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ حماس، اسلامک جہاد تحریک اور باقی فلسطینی دھڑے اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔

مزید برآں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ ثالثوں کی جانب سے تخمینی تجاویز پیش کیے جانے کا امکان ہے اور حالیہ دنوں میں موجودہ ثالثی سے وابستہ کئی بین الاقوامی فریقوں کی طرف سے رابطے دیکھنے میں آئے ہیں تاکہ معاملات کو دوبارہ خراب ہونے یا مذاکرات کے راستے کو مستقل طور پر ناکام ہونے سے روکا جا سکے اور اس راستے میں نئے خیالات پیش کیے جا سکیں۔

ادھراسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ یہ تیزی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے لبنان کی صورتحال پر ایک خصوصی سیکورٹی تشخیصی اجلاس منعقد کرنے کے ساتھ ہی ہوئی ہے۔اسرائیلی ٹی وی کے مطابق نتن یاہو نے لبنانی محاذ پر میدانی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک سیکورٹی اجلاس منعقد کیا۔

اجلاس کے دوران لبنان میں فوجی کارروائیوں کو وسعت دینے کے اختیارات پر بحث کی گئی جس میں دارالحکومت بیروت کو دوبارہ نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی قیادت اہداف کی فہرست کو وسعت دینے اور حزب اللہ پر فوجی دبا ئوبڑھانے پر غور کر رہی ہے۔

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی کے دوران ضلع سیدون کے متعدد قصبوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے ضلع سیدون کے7قصبوں کے مکینوں کو انخلا کا حکم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔

اس کے علاوہ ضلع جیزین کے قصبوں ملاخ اور کفرہونہ کے رہائشیوں کو بھی علاقہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ادھر جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈیفی ہول نے لبنان میں اسرائیلی فوج کی پیش قدمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق جرمن وزیر خارجہ نے کہاکہ اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان میں پیش قدمی تشویشناک ہے، تمام فریقین جنگ بندی کی طرف لوٹیں۔

برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں سے شہری ہلاکتیں اور انفرا اسٹرکچر تباہ ہوا، تمام فریق جنگ بندی کا احترام کریں جب کہ حزب اللہ اسرائیل پر حملے بند کرے اور ہتھیار ڈالے۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکروں نے کہاکہ لبنان میں جاری بڑے پیمانے پر فوجی کشیدگی میں اضافے کا کوئی جواز نہیں جبکہ فرانس کے وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ فرانس نے اس معاملے پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے۔

قطر نے لبنان پر اسرائیل کے مسلسل حملوں اور جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیوں کے پھیلائو کی مذمت کرتے ہوئے اسے سنگین اشتعال انگیزی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قراردیا۔

مصر کے وزیر خارجہ نے لبنانی وزیر اعظم نواف سلام سے ٹیلیفونک گفتگو میں لبنان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا،انہوں نے اسرائیل سے لبنانی سر زمین کے تمام علاقوں سے مکمل انخلا کا بھی مطالبہ کیا۔

ادھرامریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ 48 گھنٹے کے دوران لبنانی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم سے رابطے کیے ہیں۔امریکی نیوز ویب سائٹ کے رپورٹر کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نئی جنگ بندی کی تجویز پر لبنانی او ر اسرائیلی رہنمائوں سے گفتگو کی۔

امریکی تجاویز میں شامل ہے کہ حزب اللہ پہلے اسرائیل پر حملے روکے، جواب میں اسرائیل بیروت میں کشیدگی سے گریز کرے گا۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے لبنان سے فائر کیے گئے تین میزائلوں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی فضائیہ نے لبنان سے فائر کیے گئے تین پراجیکٹائل کو مار گرایا ہے دو جو اسرائیلی علاقے کی طرف جا رہے تھے اور ایک جنوبی لبنان کے اس علاقے میں جہاں اسرائیلی فوجی موجود ہیں۔

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ پروجیکٹائلوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق شمالی اسرائیل کے کئی علاقوں میں سائرن کی آوازوں کے بعد یہ اطلاع ملی۔