اسکرینوں کے حصار میں قید خاندان

رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
کبھی گھر صرف اینٹوں اور دیواروں کا نام نہیں تھا۔ گھر وہ جگہ تھا جہاں شامیں قہقہوں سے روشن ہوتی تھیں، جہاں دسترخوان صرف کھانے کے لیے نہیں بلکہ دلوں کے ملنے کے لیے بچھتا تھا، جہاں ماں کی نصیحت، باپ کی شفقت، دادا کی کہانیاں اور بچوں کی شرارتیں زندگی کو معنی دیتی تھیں۔ مگر آج اسی گھر میں سب موجود ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے غائب ہیں۔ جسم قریب ہیں مگر روحیں دور۔ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے لوگ اب ایک دوسرے کی آنکھوں میں نہیں، اسکرینوں میں جھانکتے ہیں۔یہ محض ایک سماجی تبدیلی نہیں، بلکہ انسانی رشتوں کی خاموش ٹوٹ پھوٹ ہے۔
دنیا ہر سال ’عالمی یومِ خاندان‘ بھی مناتی ہے مگر اس سال یہ دن ایک سوال بن کر سامنے آیا کہ کیا جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو سہولت تو دی مگر خاندان اس سے چھین لیا؟ کیا اسمارٹ فون نے گفتگو کو نگل لیا؟ کیا سوشل میڈیا نے محبت کی جگہ لے لی؟ اور کیا ہم ایک ایسی نسل تیار کررہے ہیں جو ہزاروں لوگوں سے آن لائن جڑی ہوئی ہے مگر اپنے ہی گھر میں تنہا ہے؟ آج کا گھر عجیب منظر پیش کرتا ہے۔ باپ موبائل پر خبروں اور ویڈیوز میں کھویا ہوا ہے، ماں واٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا کی مصروفیات میں گم ہے۔ نوجوان ‘ٹک ٹاک اور انسٹاگرام کی مصنوعی دنیا میں اپنی شناخت تلاش کر رہا ہے، جبکہ بچہ کھیل کے میدان کے بجائے موبائل گیمز کے اندر زندگی گزار رہا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے گھر میں ہر فرد اپنی الگ ڈیجیٹل دنیا کا باشندہ بن چکا ہو۔یہ مسئلہ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں، اس کے بے قابو استعمال کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود ایک نعمت ہے۔ اس نے تعلیم، تحقیق، رابطے اور ترقی کے بے شمار دروازے کھولے مگر جب یہی ٹیکنالوجی تربیت کے بغیر، حدود کے بغیر اور شعور کے بغیر استعمال ہو تو وہ سہولت سے زیادہ فتنہ بن جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:

احمد الشرع نے ٹرمپ کے تحفے کی تصویر شیئر کردی، سوشل میڈیا پر چرچا

سب سے زیادہ متاثر آج کا بچہ ہے۔ وہ بچہ جو بولنے سے پہلے اسکرین کو چھونا سیکھ لیتا ہے۔ جس کے ہاتھ میں کھلونے سے پہلے موبائل آجاتا ہے۔ جس کی توجہ چند سیکنڈ کے ویڈیوز کی عادی ہو چکی ہے۔ جسے خاموش بیٹھ کر کتاب پڑھنا مشکل لگتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اسکرینوں کا غیرمعمولی استعمال بچوں میں چڑچڑاپن، بے صبری، کمزور یادداشت، نیند کی خرابی، ذہنی دباو اور سماجی تنہائی پیدا کررہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ آج بچوں اور نوجوانوں کے اصل ”اساتذہ“ اکثر والدین یا معلّم نہیں رہے بلکہ سوشل میڈیا کے نام نہاد ”انفلوئنسرز“ بن چکے ہیں۔ یہ لوگ بچوں کی زبان، لباس، سوچ، خواہشات اور خواب تک متعین کررہے ہیں۔ ایک پوری نسل لائکس، فالوورز اور وائرل ہونے کی نفسیاتی دوڑ میں شامل ہو چکی ہے۔
یہ ڈیجیٹل دنیا صرف تفریح نہیں لاتی بلکہ اس کے ساتھ فحاشی، تشدد، نفرت، جھوٹ، ذہنی استحصال، بلیک میلنگ اور اخلاقی بگاڑ کے دروازے بھی کھلتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ بہت سے والدین کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے بچے موبائل میں کیا دیکھ رہے ہیں، کن لوگوں سے رابطے میں ہیں اور کن نظریات سے متاثر ہو رہے ہیں۔مگر یہ سمجھنا بھی غلط ہوگا کہ صرف بچے ہی اس ڈیجیٹل یلغار کا شکار ہیں۔ والدین خود بھی اس کے متاثرین بن چکے ہیں۔ کتنے ہی شوہر و بیوی ایسے ہیں جو ایک ہی بستر پر لیٹے ہوتے ہیں مگر دونوں الگ الگ اسکرینوں میں گم ہوتے ہیں۔ کتنے ہی خاندان ایسے ہیں جہاں دن بھر میں چند رسمی جملوں کے علاوہ کوئی حقیقی گفتگو نہیں ہوتی۔ کتنی ہی رشتے داریاں صرف ’آن لائن اسٹیٹس‘ تک محدود ہوکر رہ گئی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی نے دور بیٹھے لوگوں کو تو قریب کردیا مگر قریب بیٹھے لوگوں کے درمیان فاصلے بڑھا دیے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ صرف خاندان اس بحران کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اسکول، میڈیا، سماجی ادارے اور ریاست سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اسکولوں کو بچوں کو صرف کمپیوٹر چلانا نہیں بلکہ ’ڈیجیٹل شعور‘ بھی سکھانا ہوگا۔ انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ انٹرنیٹ پر ہر چیز سچ نہیں ہوتی، ہر آزادی فائدہ مند نہیں ہوتی اور ہر مشہور چیز قابلِ تقلید نہیں ہوتی۔میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داری محسوس کرنا ہوگی۔ اگر اسکرینوں پر ہر وقت شور، فحاشی، تشدد اور سطحی تفریح ہی فروخت کی جاتی رہے گی تو معاشرہ ذہنی اور اخلاقی طور پر کھوکھلا ہوتا جائے گا۔ ضرورت ایسے مواد کی ہے جو انسان کو انسان کے قریب لائے، نہ کہ اسے مزید تنہا کر دے۔لیکن سب سے اہم کردار پھر بھی خاندان ہی کا ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان سے بات کریں، ان کی دلچسپیاں سمجھیں، ان کے دوستوں کو جانیں، ان کے ساتھ کھیلیں، انہیں کتاب، مسجد، کھیل کے میدان اور خاندانی محفلوں سے جوڑیں تو بہت سی خرابیاں خود بخود کم ہوسکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: 

3 دہائیوں بعد عیدالاضحیٰ کے موقع پر سورج کعبہ کے عین اوپر ہو گا

گھر میں چند سادہ اصول بہت بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں۔ مثلاً کھانے کے وقت موبائل بند رکھنا، سونے سے پہلے ’اسکرین فری‘ وقت مقرر کرنا، ہفتے میں ایک دن خاندانی نشست رکھنا، بچوں کو مطالعے اور کھیل کی طرف راغب کرنا اور سب سے بڑھ کر والدین کا خود عملی مثال بننا۔ کیونکہ بچے نصیحت سے کم اور کردار سے زیادہ سیکھتے ہیں۔
آج دنیا کو صرف معاشی بحرانوں یا جنگوں کا خطرہ نہیں بلکہ ایک خاموش انسانی بحران کا سامنا ہے، ایسا بحران جس میں انسان آہستہ آہستہ جذباتی طور پر تنہا، نفسیاتی طور پر کمزور اور خاندانی طور پر بے جڑ ہوتا جارہا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے 2026ء کے عالمی یومِ خاندان کا موضوع ’خاندان، سماجی تفاوت اور بچوں کی فلاح‘ رکھا۔ یہ دراصل دنیا کے اس بڑھتے ہوئے احساس کا اظہار ہے کہ اگر خاندان کمزور ہوگیا تو معاشرہ بھی بکھر جائے گا۔ کیونکہ خاندان صرف ایک سماجی ادارہ نہیں بلکہ انسان کی شخصیت، اخلاق، محبت اور ذہنی توازن کا آخری قلعہ ہے۔ آج سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی کو کیسے روکا جائے، کیونکہ یہ ممکن نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ انسان کو ٹیکنالوجی کا غلام بننے سے کیسے بچایا جائے۔ہمیں اپنے گھروں میں دوبارہ زندگی لوٹانی ہوگی۔ ہمیں پھر سے دسترخوان کے گرد بیٹھنا ہوگا۔ ہمیں پھر سے بچوں کی باتیں سننی ہوں گی۔ ہمیں پھر سے ماں باپ کے ساتھ وقت گزارنا ہوگا۔ ہمیں پھر سے گفتگو، محبت، احترام اور تعلق کو اسکرین پر ترجیح دینا ہوگی۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب گھروں میں انٹرنیٹ تو بہت تیز ہوگا، مگر رشتے مکمل طور پر مردہ ہو چکے ہوں گے۔