ایک نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں برس اپریل کے مہینے میں عالمی سطح پر ہوا اور سورج کے ذریعے گیس کے مقابلے میں زیادہ بجلی پیدا کی گئی ہے۔
بین الاقوامی انرجی تھنک ٹینک Ember کی جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق اپریل 2026 میں ہوا اور سورج کے ذریعے مجموعی طور پر بجلی کی عالمی پیداوار کا 22 فی صد حصہ پیدا کیا گیا جبکہ گیس سے صرف 20 فی صد بجلی بنائی گئی۔ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ قابلِ تجدید ذرائع، گیس پر سبقت لے گئے ہوں۔
عالمی سطح پر یہ سنگِ میل ایک ایسے موقع پر عبور کیا گیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال کی وجہ سے پوری دنیا توانائی کے بحران سے گزر رہی ہے۔ یہ عمل اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ ہوا اور سورج سے ہونے والی پیداوار فاسل فیول مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے دوران عالمی سطح پر توانائی کو نئی شکل دے رہی ہے۔
اپریل 2026 میں ہوا اور سورج سے ریکارڈ 531 ٹیرا واٹ آور بجلی پیدا کی گئی جو کہ گیس سے پیدا کی گئی بجلی (477 ٹیرا واٹ آور) سے 54 ٹیرا واٹ آور زیادہ ہے۔ اپریل 2021 میں گیس سے اتنی ہی مقدار یعنی 476 ٹیرا واٹ آور بجلی بنائی جا رہی تھی لیکن ان دونوں قابلِ تجدید ذرائع سے بنائی گئی بجلی میں دُگنے سے زیادہ اضافہ ہوا ہے جو کہ 2021 میں 245 ٹیرا واٹ آور تھی۔
اپریل 2026 میں حاصل ہونے والی یہ کامیابی پون چکی اور شمسی توانائی میں جاری نمو کے سبب ممکن ہوئی۔ یہ نمو اتنی تیز تھی کہ اس نے عالمی سطح پر بجلی کی طلب میں اضافے کو پورا کیا اور گیس سے پیداوار میں اضافے کو محدود کرنے میں مدد دی۔
جاری ہونے والے ڈیٹا اس متعلق شواہد نہیں ملتے کہ انرجی بحران کے باوجود عالمی سطح پر پیداوار کے لیے گیس سے کوئلے کی جانب رخ کیا گیا ہو۔
رپورٹ کے مطابق سال بہ سال موازنے میں عالمی سطح پر ہوا اور سورج سے بننے والی بجلی میں 13 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ چین میں 14 فی صد، یورپی یونین میں 13 فی صد، برطانیہ میں 35 فی صد، امریکا میں 8 فی صد، آسٹریلیا میں 17 فی صد اور برازیل میں 4 فی صد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

