کراچی میں سڑکوں اور رہائشی علاقوں کی بڑھتی کمرشلائزیشن پر شہری تنظیموں اور ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔
کراچی سٹیزن فورم کے تحت کراچی پریس کلب میں ہونے والی پریس کانفرنس میں شہری منصوبہ بندی، پارکنگ، پانی، سیوریج اور اوپن اسپیسز کے مسائل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
پریس کانفرنس میں بیرسٹر شہاب اوستو، کنوینر کے سی ایف نرگس رحمان، اربن پلانر محمد توحید اور زاہد فاروق، سماجی کارکن شہناز رمزی اور چیئرمین پائیلیپ سعد امان اللہ سمیت مختلف علاقوں کے رہائشی شریک ہوئے۔
بیرسٹر شہاب اوستو نے کہا کہ کراچی کے ماسٹر پلان اور زوننگ قوانین کو نظر انداز کرکے رہائشی علاقوں کو کمرشل بنایا جا رہا ہے، شہر میں 50کروڑ گیلن سے زائد غیر ٹریٹڈ سیوریج روزانہ سمندر میں پھینکا جاتا ہے جبکہ کئی دہائیوں سے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس فعال نہیں ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدلیہ کو بھی کراچی کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے اور جسٹس گلزار کے 2019 کے فیصلے پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔
اربن پلانر محمد توحید نے کہا کہ ہر سڑک کی کمرشل سرگرمی برداشت کرنے کی ایک حد ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی شاہراہ کو کمرشل بنانے سے پہلے ٹریفک، پارکنگ اور بنیادی سہولیات کا جائزہ لینا ضروری ہے، ماسٹر پلان اور ایس بی سی اے کی پالیسیوں میں ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث شہر بے ہنگم انداز میں پھیل رہا ہے۔
پریس کانفرنس میں موجود کنوینر کراچی سٹیزن فورم نرگس رحمان نے کہا کہ کمرشلائزیشن کے اثرات ہر شہری کو بھگتنا پڑیں گے، رہائشی علاقوں میں بلند عمارتیں تو بن رہی ہیں مگر پارکنگ اور بنیادی سہولیات کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔
مزید براں پریس کانفرنس میں ماہرین نے مطالبہ کیا کہ رہائشی محلوں کے امن، تحفظ، بنیادی ڈھانچے اور ماحولیاتی معیار کو محفوظ بنایا جائے۔

