پاکستانی افسران کا ڈیٹا غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کو فروخت کرنے و الا گینگ بے نقاب

اسلام آباد:پاکستانی افسران کا اہم ڈیٹا بیرون ملک فروخت کرنے والا گینگ بے نقاب ہوگیا، جس کے 4 کارندوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سید خرم علی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ساتھ پاکستان سے ایک گینگ کو گرفتار کیا گیا ہے جو پاکستان کے اہم افسران کا ڈیٹا فروخت کرنے میں ملوث تھا۔

اس گینگ کے 4افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ان افراد کا بھی سراغ لگایا جا رہا ہے جو ملزمان کو ڈیٹا تک رسائی دے رہے تھے۔ڈی جی نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق ملزمان افسران کی کالز ریکارڈ، شناختی کارڈ، پاسپورٹ سمیت دیگر حساس معلومات حاصل کرتے تھے۔ گرفتار افراد میں ارشد طارق، ارحم باری، انعم صابر اور محمد رضوان شامل ہیں، جبکہ ان کے زیر استعمال موبائل فونز کا فرانزک بھی کروا لیا گیا ہے۔

پریس کانفرنس میں مزید بتایا گیا کہ ملزمان غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ حساس اور ذاتی ڈیٹا شیئر کرنے میں ملوث ہیں۔ ڈیٹا کی فروخت براہ راست خلاف ورزی ہے اور یہ منظم جاسوسی اور سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

سید خرم علی نے کہا کہ ڈیٹا تک رسائی دینے والوں کو بھی جلد گرفتار کیا جائے گا۔ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ڈیٹا محفوظ بنایا جائے اور کسی غیر متعلقہ فرد کو رسائی نہ دی جائے۔انہوں نے بتایا کہ اداروں کے ملازمین کی ای میلز بھی چیک کی جا رہی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ڈیٹا کیسے حاصل کیا جا رہا تھا۔ ڈیٹا پاکستان سے باہر جا رہا تھا ، اس حوالے سے مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔ ڈیٹا کی ذمہ داری ان افراد پر عائد ہوتی ہے جنہیں اس تک رسائی دی گئی ہے۔