مضمون: مفتی غلام مصطفی رفیق
قمری یعنی اسلامی سال کا آخری اور بارہواں مہینہ ’ذوالحجہ‘ کہلاتا ہے۔ یہ مہینہ بڑا اہم ہے۔ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن جنہیں ’ایام العشر‘ کہا گیا ہے یہ بھی بڑی فضیلت کے حامل ہیں اور اس ماہِ مبارک میں کئی بڑی عبادتیں جمع ہوجاتی ہیں۔ مسلمان ان عبادات کو اپنی اپنی استطاعت کے مطابق بجا لاتے ہیں۔
محنتیں اور مشقتیں اٹھاتے ہیں۔ کوئی حج کی عبادت میں سرگرداں رہتاہے، کوئی قربانی کی عبادت میں مصروف ہے وغیرہ وغیرہ۔ قرآن کریم کی سورہ فجر کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم کھائی ہے، ان چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ :”ولیال عشر“اور قسم ہے دس راتوں کی۔ دس راتوں کی قسم اٹھانے کا معنی یہ ہے کہ بڑی اہم راتیں ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ”ان سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دن ہیں“ اور یہ سال کے سب سے زیادہ افضل دن ہیں۔
عشرہ ذوالحجہ کے اعمال کی فضیلت
ان ایام کی عبادات اور اعمال اللہ کو بڑے محبوب ہیں، بطور خاص ان ایام میں انسان نیک اعمال کرتارہے جس عمل کی بھی توفیق ملے، اس توفیق کو انسان غنیمت سمجھے۔ پیچھے نہ ہٹے۔ یہی دنیا وآخرت کی فلاح کا ذریعہ ہیں۔ کسی بھی نیک عمل کو معمولی نہ سمجھے، نہ معلوم اللہ کے ہاں کس عمل کی قبولیت ہوجائے اور انسان کی مغفرت کا سبب بن جائے۔ ترمذی شریف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ: ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنوں میں کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں نیک عمل کرنا اللہ کے نزدیک ان دس دنوں (ذوالحجہ کے پہلے عشرہ) سے زیادہ محبوب ہو۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا (ان ایام کے علاوہ دوسرے دنوں میں) اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی (ان دنوں کے نیک اعمال کے برابر) نہیں ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: نہیں! پھر فرمایا: ہاں! اس آدمی کا جہاد جو اپنی جان و مال کے ساتھ (اللہ کی راہ میں لڑنے) نکلا اور پھر واپس نہ ہوا (ان دنوں کے نیک اعمال سے بھی زیادہ افضل ہے)۔“
یہ بھی پڑھیں: اور بے اختیار آنسو چھلک پڑے!
اِس حدیث مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر جہاد ایسا ہو جس میں مال و جان سب اللہ کی راہ میں قربان ہوجائے اور جہاد کرنے والا مرتبہ شہادت پا جائے تو وہ جہاد البتہ اللہ کے نزدیک ان دس دنوں کے نیک اعمال سے بھی زیادہ محبوب ہے، کیونکہ ثواب نفس کشی و مشقت کے بقدر ملتا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنی جان اور اپنا مال قربان کر دینے سے زیادہ نفس کشی اور مشقت کیا ہوسکتی ہے؟ بہرحال! ذوالحجہ کے پہلے عشرے کے اعمال اس اعتبار سے سب سے زیادہ محبوب ہیں کہ بہت زیادہ برگزیدہ اور باعظمت و فضیلت دن یعنی ’ عرفہ‘ انہی دنوں میں آتا ہے اور افعال حج بھی انہی ایام میں ہوتے ہیں‘۔ (مظاہرحق)
اِن دنوں میں کون سے اعمال کریں ؟
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک روایت میں فرماتے ہیں :”ان ایام میں ایک دن کا روزہ اللہ کے ہاں ثواب میں ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور ایک رات کی عبادت لیلة القدر کی عبادت کی طرح اجر وثواب رکھتی ہے۔“ اس روایت سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ ان دنوں میں روزے رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور جس قدر ممکن ہو عبادات کریں، خصوصاً رات کے اوقات اور رات کا آخری حصہ اس میں جسے عبادت کی توفیق مل جائے، وہ اگرچہ دو رکعت نفل ہی کیوں نہ ہوں بہت بڑی سعادت کی بات ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ان ایام میں دن میں روزہ رکھیں اور رات میں جس قدر ممکن ہو عبادت سے اپنے آپ کو محروم نہ رکھیں۔ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نقل فرماتی ہیں کہ آپ نو دنوں کے روزے رکھتے تھے، پھر ان دنوں میں 9تاریخ وہ یوم عرفہ کہلاتی ہے، اس دن کاروزہ بطور خاص بڑی فضیلت کا حامل ہے۔ دوسری روایات میں ہے: ” ان ایام میں کثرت سے ’لاالہٰ الااللہ‘، ’اللہ اکبر‘ کہا کرو، کیونکہ یہ ایام تہلیل، تکبیر اور اللہ کے ذکر کے ہیں۔“ اور بعض روایات میں تحمید یعنی الحمدللہ کے پڑھنے کا بھی حکم آیا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ ان ایام میں ذکر کی کثرت کرنی چاہیے چاہے یہ ذکر و اذکار ہوں، قرآن کی تلاوت ہو یا دُرود پاک کا پڑھنا ہو۔
نو ذوالحجہ کے روزے کی فضیلت
ان ایام میں اگر کوئی آدمی باقی دنوں میں روزے کا اہتمام نہ بھی کرسکے تو کم ازکم نو ذوالحجہ کے روزے کا تو ضرور اہتمام ہونا چاہیے، یعنی ہمارے ہاں کے حساب سے جس دن ذوالحجہ کی نو تاریخ ہو عید سے ایک دن پہلے، اس دن روزہ ضرور رکھا جائے، اس ایک روزہ کی بھی مستقل فضیلت احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ صحیح مسلم، ترمذی اور دیگر کتابوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے یہ روایت نقل کی ہے: ”میں اللہ تعالیٰ سے یہ اُمید رکھتا ہوں کہ عرفہ کے دن کا روزہ اس کے بعد والے سال اور اس کے پہلے والے سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔“ یعنی ایک دن کا روزہ اتنا بابرکت ہے کہ دو سالوں کے گناہ اس کی وجہ سے معاف کردیے جائیں گے اور یہ اللہ کی رحمت اور شان کریمی ہے۔ اس بارے میں شک کے بجائے پختہ عزم اور یقین ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ انتہائی کریم اور مختار ہیں، جس دن یا جس گھڑی کے جس عمل کی اپنے کرم سے جتنی بڑی قیمت اجر و ثواب مقرر کرنا چاہیں کرسکتے ہیں۔ اس لیے یقین کے جذبے کے ساتھ ان اعمال میں لگنا چاہیے۔
قربانی کرنے والا بال ناخن نہ کٹوائے!
ذوالحجہ کے پہلے عشرے سے متعلق ایک ہدایت یہ بھی ہمیں دی گئی ہے کہ جو شخص قربانی کرتاہو وہ ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد حجاج کرام سے مشابہت کے لیے ناخن اور بال کٹوانے سے احتراز کرے۔ اس سلسلے میں کتب احادیث میں حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”جب ذوالحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے تو تم میں سے جو آدمی قربانی کرنے کا ارادہ کرے وہ ( اس وقت تک جب تک کہ قربانی نہ کرلے) اپنے بال اور ناخن بالکل نہ کتروائے۔“ اس روایت میں قربانی کرنے والوں کو بقرعید کا چاند دیکھنے کے بعد قربانی کر لینے تک بال وغیرہ کٹوانے سے اس لیے منع فرمایا گیا ہے تاکہ جو لوگ حج کررہے ہیں اور احرام کی حالت میں ہیں وہ بال ناخن نہیں کٹواسکتے، لہٰذا دوسرے لوگوں کو بھی احرام والوں کی مشابہت حاصل ہوجائے۔ البتہ یہ ممانعت تنزیہی ہے، لہٰذا بال وغیرہ کا نہ کٹوانا مستحب ہے اور اس کے خلاف عمل کرنا ترک ِاولیٰ ہے، لیکن حرام نہیں۔ لہٰذا کسی کو ضرورت ہو یا کوئی عذر ہو اور وہ بال ناخن کٹوا دے تو گناہ گار نہیں ہوگا۔ بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو موقع دیاگیا ہے کہ وہ اپنی اپنی جگہ رہتے ہوئے بھی حج اور حجاج کرام سے ایک نسبت اور مشابہت پیدا کرلیں اور ان کے ساتھ کچھ اعمال میں شریک ہوجائیں۔
مزید پڑھیں: حجاز ریلوے، سلطان عبدالحمید ثانی کے خواب کی تعبیر کے امکانات
خلاصہ یہ ہے کہ عشرہ ذوالحجہ کے یہ دس دن بڑے مقدس محترم اور عظمت والے ہیں، ان دنوں میں نیک اعمال بطور خاص اللہ کے ہاں بڑے پسند کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا ان ایام میں روزوں، عبادات، نوافل، ذکر ،تلاوت کا خاص اہتمام کرنا چاہیے اور قر بانی کرنے والوں کو چاند دیکھنے سے قبل ہی بال ناخن درست کرواکر حدیث کے مطابق حجاج سے مشابہت کی بنا پر چاند کے بعد بال ناخن کٹوانے سے احتراز کرنا چاہیے۔ یہ مشابہت بھی اِن شاءاللہ ہمارے لیے رحمت اور برکت کا سبب ہوگی۔ (بشکریہ جنگ)

