شیخ ادریس امن کی تلاش میں بدامنی کا شکار ہو گئے،مولانا فضل الرحمن

چارسدہ:جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ادارے شیخ ادریس کے قاتلوں کو گرفتار کریں۔

مولانا شیخ ادریس شہید کی رہائش گاہ پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شیخ ادریس کی جدائی امت مسلمہ کے لیے صدمہ ہے، پوری امت ان کی شہادت پر دکھی ہے، اللہ اپنی قدرت سے ظالموں سے شیخ ادریس کا انتقام لے گا، شیخ امن کی تلاش میں بدامنی کا شکار ہو گئے جس نے پوری زندگی امن کا پیغام دیا آج وہ سفاکیت کا شکار ہوگیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکمرانوں اور اداروں سے مطالبہ ہے کہ شہید ادریس کے قاتلوں کو گرفتار کریں، جمعہ کی نماز کے بعد ملک بھر میں شیخ ادریس کی شہادت کے خلاف مظاہرے کریں گے، آئندہ کا لائحہ عمل کراچی کے جلسے میں دوں گا۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے ملک کو بچایا ہے، علمائے کرام پاکستان کے آئین کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم نے اپنے قائدین کے جنازے اٹھائے ہیں، میں نے باجوڑ میں اسی جنازے اٹھائے ہیں، کراچی سے لے کر باجوڑ تک کتنے علمائے کرام شہید ہوئے ہمارے علما اللہ کے دین اور امن کے لیے کھڑے تھے، ہم اپنا ہاتھ کسی مسلمان کے خون سے نہیں رنگیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ فسادی خون ریزی کر رہے ہیں، اسرائیل دنیا میں مسلمانوں کا خون بہا رہا ہے، انہیں جرات کیسی ہوتی ہے کہ ہمارے جید علماء کو مرتد کہتے ہیں، علما کو مرتد کہنا اپنے آپ کو مرتد کہنا ہے، جماعت علمائے اسلام کو مرتد کہنا دلیل ہے کہ تم خود مرتد اور قاتل ہو۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ہم اس ملک کو امن کا گہوارہ اور دین اسلام کا مرکز بنانا چاہتے ہیں، اختلاف رائے ہے تو آئیں بات کریں، اختلاف رائے پر کسی مسلمان کا قتل جہالت ہے، ہمارا متفقہ فیصلہ ہے کہ پاکستان کے اندر اسلحہ اٹھانا ناجائز ہے، علمائے کرام کو شہید کرنے والے چند بھگوڑے ہیں۔

قوم کے جوان جذباتی نعروں میں نہ آئیں، وقار اور محبت کا رویہ اپنا لو، ہم برداشت کرلیں گے لیکن جب وقت پلٹے گا تم برداشت نہیں کر سکو گے۔