اسرائیلی فوجی نفسیاتی مریض بن گئے ،مزید 8اہلکاروں کی خودکشی،صہیونی سیکورٹی اداروں میں ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوگیا،اسرائیلی اخبار ہارٹز کی تصدیق، غزہ کی پٹی پر فضائی حملے اور ٹینکوں کی گولہ باری جاری،4 فلسطینی شہید۔جنگ کے نتیجے میں متعدد بچے بولنے کی صلاحیت سے محروم، حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بمباری ، شام میں اسرائیلی چوکیاں قائم،تلاشی شروع ۔
اسرائیلی فوجیوں کی خودکشی میں اضافہ ہوگیا، اپریل میں 8اہلکاروں نے اپنی جان اپنے ہاتھوں گنوادی۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز کی رپورٹ کے مطابق اپریل 2026 کے دوران کم از کم 8 اسرائیلی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے خودکشی کی، جس سے اسرائیلی سکیورٹی اداروں میں ذہنی دبا اور نفسیاتی بحران کے بڑھتے ہوئے خدشات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سال 2026 کے آغاز سے اب تک کم از کم 10 حاضر سروس فوجیوں نے اپنی جان لی ہے، جن میں سے 6 صرف اپریل میں رپورٹ ہوئے۔
اپریل میں 8 حاضر سروس فوجی اور پولیس اہلکار خودکشی سے ہلاک ہوئے، 3 ریزرو اہلکار جو غزہ جنگ میں شریک رہے تھے، وہ بھی جان سے گئے، جبکہ 2 پولیس افسران کی خودکشی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ خودکشی کرنے والے اسرائیلیوں میں کم از کم 75 فیصد وہ فوجی تھے جو غزہ سے واپس آئے تھے۔اتوار کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں کم از کم چار فلسطینی شہید ہو گئے، یہ بات انکلیو میں صحت کے حکام نے بتائی۔
طبی ماہرین نے بتایا کہ اسرائیلی افواج کے ایک فضائی حملے میں ایک شخص المغراقہ کے مرکزی گاں کے قریب جبکہ دو افراد غزہ شہر کے قریب اسرائیلی فائرنگ اور ٹینک کی گولہ باری سے شہید ہوئے۔ صحت کے حکام نے بتایا کہ ایک اور واقعے میں اسرائیلی افواج نے علاقے کے جنوب میں خان یونس میں ایک 40 سالہ خاتون کو گولی مار کر شہید کر دیا۔
غزہ میں جاری شدید بمباری اور جنگی حالات کے نتیجے میں ایک تشویشناک رجحان سامنے آیا ہے، جہاں متعدد بچے اپنی بولنے کی صلاحیت کھو رہے ہیں۔عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ مسئلہ نہ صرف جسمانی چوٹوں بلکہ شدید ذہنی صدمے کا نتیجہ بھی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پانچ سالہ جد زہود نامی فلسطینی بچہ اپنے گھر کے قریب ہونے والی شدید بمباری کے بعد اچانک بولنے کی صلاحیت سے محروم ہو گیا۔
اس سے قبل اسے کسی قسم کی تقریری دشواری کا سامنا نہیں تھا، تاہم دھماکے کے بعد وہ الفاظ ادا کرنے سے قاصر ہو گیا۔ ایسے واقعات غزہ بھر میں بڑھتے جا رہے ہیں، جہاں ماہرین کے مطابق متعدد بچے جنگی صدمات کے باعث خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق بعض بچوں میں یہ مسئلہ دماغی چوٹ، اعصابی نقصان یا دھماکوں کے اثرات کے باعث پیدا ہوتا ہے، جبکہ کئی بچوں میں کوئی واضح جسمانی زخم موجود نہیں ہوتا۔
اس کے باوجود وہ مسلسل تشدد، خوف اور عدم تحفظ کے ماحول کے باعث بولنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لبنان پر تازہ بمباری کی ہے جس میں مزید 4 افراد مارے گئے۔ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق تازہ حملے لبنان کے 2 جنوبی علاقوں پر کیے گئے ہیں جس میں حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

