20ہزار عازمین حج مدینہ منورہ پہنچ گئے،امسال شدید گرمی کی پیش گوئی

مدینہ منورہ :پاکستان سمیت دنیا بھر سے عازمین حج کی آمد جاری ہے، اب تک مختلف پروازوں کے ذریعے 20ہزار سے زائد عازمین حج مدینہ منورہ پہنچے ہیں۔مدینہ منورہ پہنچنے والے عازمین حج کے اولین قافلے طواف وعمرہ کیلئے مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ مکہ مکرمہ سے سعودی میڈیا کے مطابق وقوفِ عرفہ26مئی 2026 بروز منگل کو متوقع ہے۔

سعودی میڈیا کے مطابق دوران حج موسم گرم اور درجہ حرارت 40تا 42 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔طبی ماہرین نے کہا ہے کہ سعودی حکام کی ہدایات کے مطابق حجاج سایہ دار جگہوں اور چھتری کا استعمال کریں اور مشروبات و پانی کے چھڑکائو کیلئے اسپرے بوتل ساتھ رکھیں۔

احتیاطی تدابیر کے طور پر عازمین کو گردن توڑ بخار، انفلوئنزا اور پولیو کے ٹیکے لگوانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ سعودی میڈیا کے مطابق مدینہ منورہ پہنچنے والے عازمین کے ابتدائی قافلے اپنی 8 روزہ قیام مکمل کرنے کے بعد مکہ مکرمہ روانہ ہونا شروع ہو گئے ہیں جہاں وہ عمرہ اور دیگر مناسک ادا کریں گے۔

انتظامیہ کے مطابق مکہ مکرمہ روانگی، زیارات اور دیگر امور کی نگرانی کے لیے تمام متعلقہ ادارے مسلسل خدمات انجام دے رہے ہیں تاکہ عازمینِ حج کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس سال حج کے نظام میں آپریشنل اور تنظیمی تیاری کا ایک بلند معیار دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کی بنیاد گزشتہ حج سیزن کے اختتام کے فورا بعد شروع ہونے والی قبل از وقت تیاری پر رکھی گئی۔

یہ پیشگی منصوبہ بندی مختلف اداروں کے درمیان مربوط تعاون کی عکاسی کرتی ہے، جس کا مقصد حجاج کرام کو زیادہ موثر اور آسان سہولیات فراہم کرنا ہے۔ حج کی تیاریوں کا آغاز گزشتہ سال 12 ذی الحجہ سے ہوا، جب حجاج کے امور کے دفاتر کو ابتدائی انتظامات کی دستاویزات فراہم کی گئیں۔

ایک واضح ٹائم لائن کے تحت بنیادی خدمات کے معاہدے چار ماہ قبل مکمل کر لیے گئے، جبکہ رہائش اور ٹرانسپورٹ کے معاہدے تین ماہ پہلے طے پا گئے۔ اسی طرح ویزوں کا عمل دو ماہ قبل مکمل کر لیا گیا، جس سے مجموعی انتظامی رفتار اور عملی تیاری میں نمایاں بہتری آئی۔ تنظیمی سطح پر حج کانفرنس اور نمائش کے پانچویں ایڈیشن نے اس نظام کی تیاری کو مزید مضبوط بنایا ہے، جس میں 150 سے زائد ممالک اور 270 اداروں کی شرکت رہی۔

اس موقع پر 800 سے زیادہ معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جو بین الاقوامی شراکت داری کے پھیلا اور خدمات کے نظام میں بہتر ہم آہنگی کی واضح مثال ہے۔ اس سال کے حج سیزن میں کئی بہتریاں بھی متعارف کرائی گئی ہیں، جن کا مقصد خدمات کے معیار کو بلند کرنا ہے۔ ان میں مقدس مقامات کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، قواعد و ضوابط کی پابندی کو مزید موثر بنانا اور سہولیات کو بہتر کرنا شامل ہے، تاکہ انتظار کا وقت کم ہو اور مجموعی انتظامی کارکردگی میں اضافہ ہو سکے۔

ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل میں تیزی لاتے ہوئے تمام انتظامی مراحل کو یکجا کیا گیا ہے اور کارکردگی کی مسلسل نگرانی کو حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں ممکن بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ “نسک” کارڈ کا استعمال بھی عام کیا گیا ہے، جو جدید ٹیکنالوجی سینسرز سے لیس ہے اور حجاج کے خیمہ جات میں داخلے کو منظم بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح ”حاجی بغیر سامان ”سروس کو تمام حجاج تک توسیع دی گئی ہے، جس کے تحت سامان براہِ راست رہائش گاہوں تک پہنچایا جاتا ہے۔