غزہ پرحملے،7شہید،جبری بے دخلی تیز

غزہ/تل ابیب/پیرس/بیروت: اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ بھر میں وحشیانہ حملے جاری،24 گھنٹے میں غزہ کے ہسپتالوں میں7 لاشیں منتقل کی گئیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق حالیہ حملوں میں 6 افراد شہید ہوئے، ایک شخص پرانے زخموں کے باعث دم توڑ گیا،24 گھنٹوں میں 25 مزید زخمی افراد ہسپتالوں میں داخل ہوئے۔ایک مقامی ذریعے نے بتایا کہ غزہ شہر کے مغرب میں واقع شارع الوحدہ پر بالمرا چوک کے ارد گرد قابض اسرائیل کے ایک فضائی حملے میں شہری سالم زہدی قریقع جامِ شہادت نوش کر گئے اور کئی دیگر افراد زخمی ہو گئے۔

اسی طرح غزہ شہر کے مشرق میں واقع ساحہ الشوا میں قابض اسرائیل کے ایک ڈرون نے شہریوں کے مجمع پر بمباری کی جس کے نتیجے میں ایک اور شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔

مقامی ذرائع نے ذکر کیا ہے کہ اس حملے میں شہید ہونے والے نوجوان احمد علی حلس تھے جو اس سے قبل قابض اسرائیل کی بمباری میں اپنے خاندان کے واحد بچ جانے والے فرد تھے جبکہ ان کے اہل خانہ کے تمام افراد غاصب دشمن کی اس جاری نسل کشی کی جنگ میں پہلے ہی شہید ہو چکے تھے۔

علاوہ ازیں مقامی ذرائع نے بتایا کہ غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع البرج مخیم کے مشرقی حصے میں قابض اسرائیل کے ڈرون حملے کے نتیجے میں متعدد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔اس وحشیانہ کارروائی کے دوران قابض افواج نے غزہ کی پٹی کے وسط میں شارع صلاح الدین پر دراندازی بھی کی ہے۔

العودہ ہسپتال کی انتظامیہ نے بتایا کہ وسطی غزہ میں البرج مخیم کے قریب ابو جبہ ٹاورز کے پاس شہریوں کے مجمع کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں دو زخمی بچوں کو ہسپتال لایا گیا ہے۔

دیر البلح شہر کے شہداء الاقصیٰ ہسپتال کے طبی ذرائع نے بتایا کہ المغازی مخیم کے مشرقی علاقوں پر قابض افواج کی بکتر بند گاڑیوں پر نصب بھاری مشین گنوں سے براہِ راست اور شدید ترین فائرنگ کے نتیجے میں ایک شدید زخمی شخص کو ہسپتال لایا گیا ہے۔

غاصب دشمن کی اس اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ عام شہریوں کے مکانات اور بے گھر پناہ گزینوں کے خیمے بنے۔اسی طرح غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع خان یونس شہر کے منطقة المسلخ کے قریب ایک پولیس چوکی پر قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں تین شہری شہید اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔

شہداء میں سے دو کی شناخت پولیس اہلکار حسام مازن شْراب اور محمد اسامہ الددا کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ تیسرے شہید کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔حکام کے مطابق اکتوبر 2025ء کی نام نہاد جنگ بندی کے بعد بھی حملوں میں 929 فلسطینی شہید ہوئے، 2 ہزار 811 افراد زخمی ہوئے، 781 لاشیں ملبے سے نکالی گئیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں کے دوران شہداء کی تعداد 72 ہزار 938 تک پہنچ گئی، 7 اکتوبر 2023 ء سے اب تک 1 لاکھ 72 ہزار 919 افراد زخمی ہو چکے۔ادھراسرائیل نے غزہ میں حماس کے کمانڈر کو شہید کرنے کا دعویٰ کر دیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کے مطابق شمالی غزہ میں حماس کے اہم کمانڈر عماد حسن حسین اسلم کو کامیابی سے نشانہ بنایا،عماد حسن حسین اسلم کے خلاف کارروائی گزشتہ روز کی گئی۔عماد اسلم زیتون بٹالین کے کمانڈر اور غزہ سٹی بریگیڈ کے نائب سربراہ تھے، عماد اسلم غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے خلاف متعدد حملوں میں ملوث تھے۔

حماس کی جانب سے اسرائیلی دعوے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔تصدیق ہوئی تو یہ گزشتہ دو ہفتوں میں شہید کئے جانے والے تیسرے سینئر حماس رہنما ہوں گے۔

دریں اثناء قابض اسرائیلی ظالم فوج نے گذشتہ رات اور ہفتے کی صبح مغربی کنارے کے متعدد علاقوں پر بزدلانہ چھاپہ مارتے ہوئے اور وحشیانہ یلغار کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر فلسطینیوں کی گرفتاری کی مہم چلائی ہے۔

مقامی ذرائع نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ قابض صہیونی افواج نے جنین کے جنوب میں واقع میثلون بلدہ پر دھاوا بول کر تین فلسطینی نوجوانوں کو اغوا کر کے قابض صہیونی عقوبت خانوں کی نذر کر دیاجن کے نام یاسر عرفات نعیرات، مہند بلال نعیرات اور زید عماد ربایعہ ہیں۔

صہیونیوں کی اس سفاکانہ کارروائی کے ساتھ ہی جنین کے جنوب میں واقع جبع بلدہ پر حملے کے دوران غیور فلسطینی نوجوانوں اور قابض صہیونی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔درندہ صفت فوج نے طولکرم کے علاقے ضاحیہ شویکہ میں معصوم شہریوں کے گھروں پر وحشیانہ چھاپہ مار کر دو فلسطینی نوجوانوں سمارہ عباس اور محمد عباس کو ان کے گھروں سے گھسیٹ کر گرفتار کر لیا۔

اسی طرح غاصب صہیونی افواج نے قلقیلہ شہر کے محلوں الجعیدی، النزال، النقار اور کفر سابا پر بھی دھاوا بولا اور گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور متعدد نہتے شہریوں کو گرفتار کر کے اپنی سفاکیت کا نشانہ بنایا۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض افواج نے کفر سابا محلے پر حملے کے دوران نوجوان محمود ابو لبدہ اور محمود ولول کو اغوا کیاجبکہ قلقیلة شہر میں سابق اسیر محمد نزال کو ان کے گھر پر وحشیانہ چھاپہ مار کر حراست میں لے لیا۔

یہ کارروائیاں اس ہولناک مہم کا حصہ ہیں جس کے تحت دس شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔صہیونیوں کی ان اندھی گرفتاریوں کی زد میں ایک کمسن فلسطینی لڑکا یامن زیاد دائود بھی آ گیا جسے حملے کے دوران اس کے گھر پر چھاپہ مار کر اغوا کیا گیا۔

علاوہ ازیں قابض صہیونی فوج نے قلقیلہ کے مشرق میں واقع عزون بلدہ پر بھی دھاوا بولا اور ایک فلسطینی شہری کے گھر میں گھس کر اندھی مچائی۔ادھر رام اللہ شہر میں بھی صہیونی بربریت کی انتہا دیکھی گئی جہاں غاصب فوج نے فلسطین میڈیکل کمپلیکس پر دھاوا بول دیا۔

شہر کے شمال مشرق میں واقع المغیر گاؤں پر صہیونی یلغار کے دوران معصوم شہریوں کے گھروں پر شدید آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے جس سے کئی معصوم فلسطینیوں کا دم گھٹ گیا۔

علاوہ ازیںمقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس کے جنوب میں واقع بیتا بلدہ کے غیور باسیوں نے گذشتہ رات جبل قوزا کے علاقے میں شہریوں کے گھروں پر وحشی یہودی آباد کاروں کے غول کی طرف سے کیے گئے ایک وسیع حملے کو پسپا کردیا۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ اس علاقے میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے معصوم فلسطینیوں کے گھروں پر بزدلانہ حملے اور اندھا دھند شدید فائرنگ کے بعد پرتشدد جھڑپیں ہوئین۔بیتا بلدہ کے درجنوں غیور شہریوں اور ان کے انقلابی نوجوانوں نے فوری طور پر اکٹھے ہو کر ٹائروں کو آگ لگا دی اور اللہ اکبر کے نعروں کی گونج میں غاصب یہودی آباد کاروں پر پتھراؤ کیا۔

بیتا کے ان انقلابی نوجوانوں نے اپنی شجاعت سے یہودی آباد کاروں کے غول کو دم دبا کر بھاگنے اور جائے وقوعہ سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا جس کے بعد صہیونی غنڈوں نے قابض فوج سے مدد کی بھیک مانگی۔

صہیونی فوج نے فوری طور پر علاقے پر دھاوا بول دیا اور شہریوں کے گھروں پر روشنی والے بم اور زہریلی آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔اس وحشیانہ کارروائی کے دوران قابض افواج نے جبل بئر قوزا میں ایک مقامی شہری کے گھر کی چھت پر پوزیشنیں بھی سنبھال لیں۔

ادھریورپی یونین کے نمائندے کے دفتر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے مشرقی مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کو ان کے اپنے ہی گھروں سے زبردستی بے دخل کرنے اور ہجرت پر مجبور کرنے کی ظالمانہ اور مجرمانہ پالیسی مسلسل جاری ہے۔

یورپی یونین نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مشرقی مقبوضہ بیت المقدس میں غاصب صہیونیوں کے زیر عتاب مظلوم فلسطینیوں کے حالات زندگی اب بھی انتہائی مخدوش اور ابتر ہیں۔

بیان میں خاص طور پر سلوان بلدہ کا ذکر کیا گیا ہے جہاں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران مقامی فلسطینی آبادی کو زبردستی نکالنے اور ان کے آشیانوں کو مسمار کرنے کی سفاکیت میں انتہائی خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس اور رام اللہ میں یورپی یونین کے مشن کے سربراہان کے باہمی اتفاق سے جاری کردہ ایک مفصل بیان میں یورپی یونین کے نمائندے نے واضح کیا کہ غاصب صہیونی دشمن نے گذشتہ اٹھارہ مہینوں کے دوران بطن الہویٰ اور حی البستان کے علاقوں میں پچاس سے زائد فلسطینی خاندانوں کو بے گھر کر دیا ہے۔

بیان میں مزید ہولناک انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف ان دو علاقوں میں اب بھی تقریباً دو سو فلسطینی مکانات کو غاصب صہیونیوں کی طرف سے مسمار کیے جانے یا ان کے جائز مالکان کو وہاں سے زبردستی نکالے جانے کا شدید اور فوری خطرہ لاحق ہے۔

یورپی یونین نے قابض اسرائیل کی بستیوں کی تعمیر کی صہیونی پالیسی اور ان کی تمام تر توسیع پسندانہ سرگرمیوں کی ایک بار پھر شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے، بشمول مقبوضہ بیت المقدس کے اندر اور اس کے ارد گرد جاری نسل کشی اور زمینوں پر قبضے کے اقدامات جو بین الاقوامی قانون کے تحت سراسر غیر قانونی اور مجرمانہ ہیں۔

یورپی یونین نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ قابض اسرائیل کے یکطرفہ اور خود ساختہ قوانین اسے بین الاقوامی برادری کے سامنے ان فرائض سے ہرگز سبکدوش نہیں کر سکتے جو مقبوضہ علاقوں کے انتظام اور وہاں کے مقامی باشندوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے اس پر عائد ہوتے ہیں۔

علاوہ ازیں حماس کے ترجمان حازم قاسم نے نام نہاد کونسل آف پیس اور اس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نکولے ملادی نوف کی اس مجرمانہ اور مکمل خاموشی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ غاصب صہیونی دشمن کا یہ رویہ سیز فائر (یا جنگ بندی) کے منصوبے اور غزہ کی پٹی کے حوالے سے طے پانے والے اعلانیہ مفاہمت کی ایک کھلی اور صریح خلاف ورزی ہے۔

حازم قاسم نے اس بات پر سخت زور دیا کہ قابض اسرائیل کے ان جارحانہ بیانات کو مسلسل نظر انداز کرنا اور غاصب دشمن کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور زبردستی مٹی سے جدا کرنے کے خونی منصوبوں کی مذمت نہ کرنا ان تمام ضامن فریقوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے جن کی ذمہ داری قابض اسرائیل کو اس کے وعدوں کا پابند بنانا اور اس کی مسلسل سفاکیت اور کھلی خلاف ورزیوں کا سدِباب کرنا ہے۔

حماس کے ترجمان نے کونسل آف پیس میں شامل برادر اور دوست ممالک سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیز فائر (یا جنگ بندی) کے معاہدے کے خلاف قابض اسرائیل کی ان گستاخانہ دھمکیوں اور مسلسل خلاف ورزیوں پر اپنا ایک واضح اور دوٹوک موقف دنیا کے سامنے پیش کریں اور زمینی حقائق کو زبردستی اپنے حق میں بدلنے کے غاصب صہیونی دشمن کے ان مذموم عزائم اور جارحانہ پالیسیوں کو روکنے کے لیے اس پر کڑا عملی دباؤ ڈالیں۔

دوسری جانب اسرائیل کی سفاک افواج کے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر شدید اور ہولناک فضائی حملوں میں بچوں سمیت 20معصوم افرادجاں بحق اور متعدد شدید زخمی ہو گئے۔لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی نے تفصیلات بتاتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ غاصب صہیونی فوج نے کم از کم انتیس ہولناک فضائی حملے کیے اور اس کے ساتھ ہی نو بلاد پر شدید توپ خانے سے گولہ باری کی گئی۔

صہیونی درندوں نے جنوبی سرحدی علاقوں میں بھاری مشین گنوں سے اندھا دھند فائرنگ کی اور دھماکے کیے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ غاصب صہیونی ریاست کی جانب سے سیز فائر (یا جنگ بندی) کے معاہدے کی مسلسل اور کھلی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔

قابض اسرائیل کے ان خونی فضائی حملوں کا بنیادی مرکز مرجعیون، النبطیہ، صور، صیدا اور بنت جبیل کے اضلاع رہے جہاں دبن، تولن، بلاط اور مجدل سلم سمیت کئی بلاد کو نشانہ بنایا گیا۔ صہیونی جنگی طیاروں نے النبطیہ الفوقا اور صر الغربہ کے علاقوں کو بھی مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا جبکہ زفتا میں ایک معصوم شہری کے گھر کو خالی کرنے کا نوٹس دینے کے بعد اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

النبطیہ کے ضلع میں صہیونیوں کے ان فضائی حملوں اور توپ خانے کی سفاکانہ گولہ باری کے نتیجے میں عبا بلدہ میں بلدیہ کا ایک پولیس اہلکارجاں بحق ہو گیا۔

اسرائیل نے لبنان کے جنوبی علاقے سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے مطالبے کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران جنوبی لبنان سے اپنے فوجیوں کو واپس بلانے کے لبنانی مطالبات کو مسترد کر دیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے حزب اللہ کے غیرمسلح ہونے تک پوزیشن برقرار رکھنے پر اصرار کیا اور کہا کہ حزب اللہ کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے رسائی حاصل کریں گے۔ادھراسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز جنوبی لبنان کے متعدد دیہات کے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کے اتنباہات جاری کیے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائی ادرعی نے وضاحت کی کہ میفدون، شوکین اور زبدین کے دیہات کے رہائشی اپنے گھر خالی کر دیں اور دریائے زہرانی کے شمال کی طرف منتقل ہو جائیں۔ اسی طرح جدید انصار، زراریہ، کوثری الرز فارمز اور مشغرہ کے دیہات کو بھی خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں مزید کہا کہ حزب اللہ تنظیم کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے پیش نظر دفاعی فوج اس کے خلاف طاقت کے ساتھ کارروائی کرنے پر مجبور ہے۔ دفاعی فوج کا مقصد آپ کو نقصان پہنچانا نہیں ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ جو کوئی بھی حزب اللہ کے عناصر، اس کی تنصیبات اور جنگی ہتھیاروں کے قریب موجود رہے گا، وہ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالے گا۔دوسری جانب حزب اللہ نے قابض اسرائیل کی غاصب اور ظالم افواج کو نشانہ بناتے ہوئے پے در پے کامیاب کارروائیوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے جس میں شمالی مقبوضہ فلسطین میں واقع صہیونی بستی کریات شمونہ پر راکٹوں کی شدید برسات بھی شامل ہے۔

دوسری طرف قابض اسرائیل کی فوجی ریڈیو نے اعتراف کیا ہے کہ گذشتہ رات سے اب تک لبنان کی طرف سے شمالی بلاد کی سمت تقریباً پندرہ راکٹ داغے گئے ہیں، ریڈیو نے مزید اشارہ کیا کہ حزب اللہ نے صبح کے وقت اپنے حملوں کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے جلیل اعلیٰ کے مٹیالے گہرے علاقے میں واقع میرون کو بھی اپنی زد میں لے لیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے واشنگٹن میں اسرائیلی و لبنانی افواج کے وفود کے درمیان مذاکرات کے نئے مرحلے کے پہلے دور کے روز ہی اطلاع دی ہے کہ ان کی ریاست کی مسلح افواج نے لبنان میں پیش قدمی کی ہے اور لبنان کا دریائے لیطانی عبور کر لیا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو اسرائیلی فوج کی 36 ویں ڈویژن کے دورے کے موقع پر فوجیوں سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے فوجیوں کو خوشخبری دی کہ اسرائیلی فوج کے دستے لبنانی دارالحکومت بیروت میں بھی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔