غزہ میں ہرچیز تہس نہس،71.4 ارب ڈالربحالی کا تخمینہ

غزہ/نیویارک/تل ابیب:ایک بین الاقوامی رپورٹ نے پیر کے روز غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے نتیجے میں ہونے والی وسیع پیمانے پر تباہی کے بعد بحالی اور تعمیر نو کے اخراجات کا تخمینہ تقریباً 71.4 ارب ڈالر لگایا ہے۔

رپورٹ میں انسانی اور ادارہ جاتی سطح پر تعمیر نو کی راہ میں حائل بڑے چیلنجوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔یہ تخمینے نقصانات، معاشی نقصانات اور بحالی کی ضروریات کے حتمی جائزے کا حصہ ہیں جسے یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے عالمی بینک کے تعاون سے تیار کیا ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ لاگت اگلے ایک دہائی پر محیط ہے، جس میں بنیادی خدمات کی بحالی، انفرااسٹرکچر کی تعمیر نو اور معاشی استحکام کی حمایت کے لیے پہلے 18 ماہ کے دوران تقریباً 26.3 ارب ڈالر کی فوری ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والا مادی نقصان تقریبا 35.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ معاشی اور سماجی نقصانات کا تخمینہ تقریباً 22.7 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جس میں رہائش، صحت، تعلیم، تجارت اور زراعت کے شعبوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ 3 لاکھ 71 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس تباہ یا متاثر ہوئے ہیں، آدھے سے زیادہ ہسپتال کام کرنا چھوڑ چکے ہیں، جبکہ اسکولوں کو تقریباً مکمل طور پر تباہ یا نقصان پہنچایا گیا ہے، اس دوران معیشت 84 فیصد تک سکڑگئی ہے۔

اسی تناظر میں رپورٹ نے غزہ میں انسانی ترقی کے 77 سال پیچھے چلے جانے کا تخمینہ لگایا ہے، جبکہ 19 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں جو اکثر کئی بار نقل مکانی پر مجبور ہوئے، اور 60 فیصد سے زائد آبادی اپنے گھروں سے محروم ہو چکی ہے۔

رپورٹ میں اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی کہ خواتین، بچے، معذور افراد اور معاشرے کے سب سے کمزور طبقات اب سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ غزہ میں بحالی کی کوششیں انسانی کاموں کے ساتھ متوازی ہونی چاہئیں تاکہ ہنگامی امداد سے لے کر بڑے پیمانے پر تعمیر نو تک موثر اور منظم منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے جس میں غزہ کی پٹی اور مغربی کنارہ دونوں شامل ہوں۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بحالی اور تعمیر نو کے عمل کی قیادت فلسطینیوں کے ہاتھ میں ہونی چاہیے اور اس میں بہتر انداز میں تعمیر نو کا نظریہ شامل ہونا چاہیے جو مستقبل کو روشن بنا سکے جس میں سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 اور جامع منصوبہ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کی حکمرانی کی منتقلی اور دو ریاستی حل پر مبنی مستقل سیاسی تصفیے کو فعال طور پر فروغ دیا جائے۔

اسی سیاق و سباق میں رپورٹ نے بین الاقوامی قرارداد نمبر 2803 پر موثر طریقے سے عمل درآمد کے لیے کئی شرائط کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان شرائط کے بغیر بحالی یا تعمیر نو کا کوئی بھی عمل کامیاب نہیں ہو سکتا۔

سلامتی کونسل نے یہ قرارداد7(2803) نومبر 2025ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں امن اور جنگ کے خاتمے کے منصوبے کی حمایت کے لیے منظور کی تھی۔ اس حوالے سے یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے کہا کہ پائیدار سیز فائر اور کافی سیکورٹی کا قیام کم از کم شرائط میں سے ہے۔

بحالی کے لیے انسانی امداد کی فراہمی اور بنیادی خدمات کی بلا رکاوٹ فوری بحالی ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے اندر اور درمیان افراد، اشیا اور تعمیر نو کے مواد کی نقل و حرکت کی آزادی، نیز ایک موثر اور شفاف مالیاتی نظام کا ہونا انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ واضح اور جوابدہ حکمرانی، بشمول قرارداد نمبر 2803 کے تحت عبوری انتظامی اداروں کے لیے اختیارات کا تعین اور شرائط کا وضع کرنا، فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ اپنے کردار کو انجام دینے کے لیے ضروری ہے۔

نیز مقبوضہ علاقوں بشمول غزہ، مغربی کنارہ اور مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی اتھارٹی کی مستقبل کی حکمرانی کے لیے ایک قابل اعتماد راستہ وضع کرنا بہت اہم ہے۔دونوں اداروں نے ملبے کو ہٹانے، دھماکہ خیز مواد کو تلف کرنے اور رہائش، زمین اور ملکیت کے مسائل کو حل کرنے کو تعمیر نو کے لیے بنیادی شرائط قراردیا۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مربوط طریقے سے وسائل اکٹھا کرے اور مہارت اور آلات کی فوری تعیناتی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرے۔

رپورٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 پر مکمل عمل درآمد اور جامع منصوبہ تب تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک دو کام نہ کیے جائیں، غزہ کی مادی اور ادارہ جاتی تعمیر نو اور تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک واضح راستہ کا تعین۔

ادھرغزہ کے علاقے خان یونس میں اسرائیل نواز ملیشیا اور حماس کے درمیان چھڑپیں ہوئیں جس کی ویڈیو بھی سامنے آگئی۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق رہائشیوں اور حماس ذرائع کے مطابق پیرکو خان یونس کے مشرق میں حماس کے زیر انتظام علاقے میں داخل ہونے والے اسرائیلی حمایت یافتہ ملیشیا کے ارکان اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔

رپورٹس کے مطابق جب ملیشیا کے ارکان پسپائی اختیار کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو ایک حماس جنگجو نے ان کی گاڑی پر اینٹی ٹینک گرینیڈ داغا۔ عینی شاہدین اور ایک حماس ذریعے کے مطابق زوردار دھماکے سے ملیشیا ارکان کی ایک گاڑی کو نقصان پہنچا تاہم فوری طور پر جانی نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔

خبررساں ایجنسی کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں سیاہ یونیفارم پہنے اور اے کے رائفلیں اٹھائے مسلح افراد کو مشرقی خان یونس میں حماس کے زیر انتظام علاقے میں داخل ہوتے دیکھا گیا جس کے بعد فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔

ویڈیو میں ملیشیا ارکان کو شہریوں کو دور رکھنے کے لیے ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیل نواز ملیشیا اسرائیلی کنٹرول میں کام کرنے کے باعث مقامی سطح پر غیر مقبول بھی ہے۔

دوسری جانب غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارت صحت نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی فوجی حملوں میں 2 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی وزارت صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ اکتوبر 2025 ء میں جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 777 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 2 ہزار 193 فلسطینی زخمی ہوئے جبکہ امدادی ٹیموں نے 761 لاشیں برآمد کر لیں۔ وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 ء سے اسرائیلی فوجی حملوں میں 72 ہزار 553 فلسطینی شہید ہوگئے۔ زخمیوں کی تعدادایک لاکھ 72 ہزار 296 سے زیادہ ہے۔

دریں اثناء فلسطینی اتھارٹی برائے کراسنگ کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل نے پیر کے روز غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع رفح کراسنگ کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے جس کے نتیجے میں علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے والے مریضوں اور زخمیوں کے انخلا کا عمل رک جائے گا۔

اتھارٹی نے ایک مختصر بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے رفح کراسنگ کی بندش کی وجہ سے مریضوں کے انخلا کی نقل و حرکت معطل رہے گی تاہم بندش کی وجوہات یا دورانیے کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

یہ بندش اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل بھی قابض حکام کئی ہفتوں تک کراسنگ کو بند کر چکے ہیں جس سے ان ہزاروں مریضوں کی تکالیف میں بے پناہ اضافہ ہوا جنہیں ایسے علاج کی ضرورت ہے جو غزہ کی پٹی کے اندر میسر نہیں ہے۔

علاوہ ازیںاسرائیلی دفاعی فوج نے کہاہے کہ جنوبی لبنان میں باقاعدہ پالیسی کے تحت عمارتوں کو مسمار کرنے کا عمل جاری ہے۔غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے دوران بھی اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں عمارتوں کو مسمار کرنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے، جنوبی لبنان کے 4 قصبوں میں متعدد گھروں کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا۔

متعدد فوجی کمانڈروں نے دعویٰ کیا ہے کہ رہائشی مکانات، عوامی عمارتیں اور اسکول باقاعدہ پالیسی کے تحت منہدم کیے جا رہے ہیں تاکہ علاقے کو صاف کیا جا سکے، یہ علاقہ اس وقت لبنانی حدود میں اسرائیلی فوج کے قائم کردہ بفر زون کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔

اسرائیل کا موقف ہے کہ حزب اللہ شہری انفرااسٹرکچر کو اسلحہ ذخیرہ کرنے یا گھروں کے نیچے سرنگیں بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ماضی میں آئی ڈی ایف حکام یہ کہتے رہے ہیں کہ کارروائیاں صرف حزب اللہ کے بنیادی انفرااسٹرکچر تک محدود ہیں، تاہم اسرائیلی اخبار کے مطابق زمینی صورتِ حال اس سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔

میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر عسکریت پسند گروہ کے زیرِ استعمال عمارتوں میں فرق نہیں کیا جا رہا بلکہ مکمل قصبوں کو زمین بوس کیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ مسمار کرنے کا عمل ٹھیکیداروں کے ذریعے کروایا جا رہا ہے جن میں بعض کو تباہ کی جانے والی عمارتوں کی تعداد کے حساب سے معاوضہ دیا جاتا ہے۔

فوجی کمانڈروں کا کہنا تھا کہ آئی ڈی ایف لبنان میں وہی حکمتِ عملی اپنا رہی ہے جو غزہ میں شہری انفرااسٹرکچر کی مسماری کے حوالے سے اختیار کی گئی تھی۔ ایک کمانڈر کے مطابق اس کا مقصد سرحدی علاقوں میں لبنانی شہریوں کی واپسی کو روکنا ہے۔