پانی کا بحران اور ہماری اجتماعی بے حسی

خبر یہ ہے کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں زیرِ زمین پانی کی تیزی سے گرتی سطح محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ قومی بقا کا سوال بنتی جا رہی ہے۔ حالیہ رپورٹیں اور اخباری شواہد اس امر کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں صاف پانی کا حصول ایک خواب بن سکتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ بحران کسی ایک شعبے یا ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ ہماری مجموعی قومی بے حسی، ناقص منصوبہ بندی اور وسائل کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کا نتیجہ ہے۔

یہ امر نہایت تشویشناک ہے کہ ملک کے بڑے شہروں میں زیرِ زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی روش برقرار رہی تو مستقبل قریب میں پانی کی شدید قلت ایک سنگین انسانی بحران کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 40فیصد پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف انتظامی ناکامی ہی نہیں بلکہ اجتماعی غفلت کا بھی منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم پانی جیسی بیش قیمت نعمت کو اب تک لامحدود سمجھتے آئے ہیں۔ گھروں میں نلکوں کا بے دریغ استعمال، زرعی شعبے میں فرسودہ آبپاشی نظام اور صنعتوں میں پانی کا بے جا استعمال اس بحران کو مزید گمبھیر بنا رہا ہے۔ زرعی شعبہ، جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہلاتا ہے، زیرِ زمین پانی پر حد سے زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ ٹیوب ویلز کے ذریعے پانی کے بے تحاشا اخراج نے قدرتی توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے اور زمین کی ری چارج ہونے کی صلاحیت اس دباؤ کا مقابلہ کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔

شہری علاقوں میں صورتِ حال اس سے بھی زیادہ ابتر ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، بے ہنگم ہاؤسنگ سوسائٹیز اور ناقص شہری منصوبہ بندی نے قدرتی نظام کو درہم برہم کر دیا ہے۔ بارش کا پانی جو زمین کے اندر جا کر زیرِ زمین ذخائر کو بھر سکتا تھا، اب سیوریج کے نظام میں ضائع ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور، کراچی اور کوئٹہ جیسے بڑے شہر پانی کے بحران کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ حکومتی سطح پر پانی کی بچت، حفاظت اور ری چارجنگ کے لیے اگرچہ متعدد منصوبوں کا اعلان کیا جاتا رہا ہے مگر ان پر عملدرآمد اکثر کاغذی حد تک محدود رہتا ہے۔ تاہم حالیہ پیش رفت کے طور پر حکومتِ پنجاب کی جانب سے بارش کے پانی کو محفوظ بنانے اور زیرِ زمین سطح کو بہتر بنانے کے لیے ری چارجنگ کنوؤں اور زیرِ زمین اسٹوریج ٹینکوں کا منصوبہ ایک مثبت قدم ہے۔ لاہور سمیت صوبے بھر میں 358اسٹوریج ٹینکوں کی منظوری جن میں بڑے اور چھوٹے ٹینک دونوں شامل ہیں، ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔

لاہور میں باغِ جناح، کشمیر روڈ اور شیرانوالہ گیٹ جیسے مقامات پر ان منصوبوں کی تکمیل اور فعالیت اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت اور حکمتِ عملی درست ہو تو بہتری ممکن ہے۔ مزید یہ کہ لکشمی چوک اور نسبت روڈ جیسے علاقوں میں نئے منصوبوں کا آغاز اس سلسلے کو وسعت دینے کی علامت ہے۔ لاہور کینٹ ایریا میں بھی کام تیزی سے جاری ہے اور چند پراجیکٹ مکمل بھی کر لیے گئے ہیں۔ ابتدائی مطالعات کے مطابق ان اقدامات سے ہر مون سون کے بعد زیرِ زمین پانی کی سطح میں تقریباً ساڑھے تین فٹ تک بہتری آ سکتی ہے جو یقینا اُمید کی ایک کرن ہے۔ تاہم یہ اقدامات اس وقت تک دیرپا نتائج نہیں دے سکتے جب تک انہیں ایک جامع قومی پالیسی کا حصہ نہ بنایا جائے۔ موسمیاتی تبدیلی نے بارشوں کے نظام کو غیریقینی بنا دیا ہے۔ کہیں شدید بارشیں اور کہیں طویل خشک سالی۔ ایسے میں مربوط حکمتِ عملی، جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر قانون سازی ناگزیر ہوچکی ہے۔ اس بحران کا ایک اہم پہلو عوامی رویہ بھی ہے۔ جب تک ہم بطور قوم پانی کے استعمال میں احتیاط نہیں برتیں گے، کوئی بھی حکومتی منصوبہ مکمل کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔ تعلیمی اداروں، میڈیا اور مذہبی و سماجی پلیٹ فارمز کے ذریعے پانی کی اہمیت کو اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ زرعی شعبے میں ڈرپ ایریگیشن اور اسپرنکلر جیسے جدید طریقوں کو فروغ دے کر پانی کے ضیاع کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ بس ضرورت کاشتکاروں کو آگاہی اور سہولیات دینے کی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پانی کا بحران محض وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ ترجیحات کے فقدان کا مسئلہ ہے۔ جب تک ہم اپنی اجتماعی سوچ کو تبدیل نہیں کریں گے اور پانی کو ایک قیمتی امانت سمجھ کر استعمال نہیں کریں گے، یہ مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جائے گا۔ آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا دے کر جا رہے ہیں۔ زندگی بخش پانی یا خشک زمین؟ وقت ابھی بھی ہمارے ہاتھ میں ہے مگر یہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو کل شاید ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہ بچے۔
”پانی زندگی ہے اور زندگی کے تحفظ کے لیے سنجیدہ فیصلے ناگزیر ہیں۔”