ترکیہ اور اسرائیل میں کشیدگی عروج پر

رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
اکتوبر 2025ء میں غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے روانہ ہونے والے عالمی قافلہ استقامت کو اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں روک کر اس پر کارروائی کی تھی۔ یہ قافلہ مختلف ممالک کے انسانی حقوق کے کارکنوں، امدادی رضاکاروں اور سیاسی کارکنوں پر مشتمل تھا جن کا مقصد غزہ کی پٹی تک انسانی امداد پہنچانا اور اسرائیلی محاصرے کے خلاف عالمی توجہ مبذول کروانا تھا۔ اسرائیلی فوج نے اس کارروائی کے دوران نہ صرف 42 کشتیوں کو زبردستی روکا بلکہ ان پر سوار سینکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا جنہیں بعدازاں مختلف مراحل میں ملک بدر کیا گیا۔ اس واقعے کے دوران متعدد افراد نے الزام عائد کیا کہ ان کے ساتھ جسمانی تشدد کیا گیا، انہیں ہتھکڑیاں لگا کر رکھا گیا اور غیرانسانی و تضحیک آمیز سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ واقعہ اس وسیع تر پس منظر میں پیش آیا جہاں غزہ گزشتہ تقریباً 18 برسوں سے سخت اسرائیلی محاصرے میں ہے جس نے وہاں انسانی بحران کو شدید تر بنا دیا ہے۔ اسی لیے قافلے کی روانگی کو عالمی سطح پر ایک علامتی اور عملی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ تاہم اسرائیلی کارروائی نے اس معاملے کو صرف انسانی حقوق کے دائرے تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک قانونی اور سفارتی تنازع کی شکل دے دی۔چند ماہ کی تحقیقات کے بعد رواں ماہ ترکی نے اس واقعے کو باضابطہ طور پر عالمی قانونی مسئلہ بنانے کی سمت ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ استنبول کی سرکاری استغاثہ نے 35 اعلیٰ اسرائیلی حکام کے خلاف ایک مفصل فرد جرم تیار کی ہے جن میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو بھی شامل ہے۔ ترک حکام کے مطابق اس فرد جرم کی تیاری ایک طویل تفتیشی عمل کے بعد ممکن ہوئی جس میں متاثرہ افراد کے بیانات، ویڈیوز، سفارتی رپورٹس اور دیگر شواہد کو شامل کیا گیا۔
فرد جرم میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز نے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے عالمی پانیوں میں غیرقانونی مداخلت کی اور ایک غیرمسلح شہری مشن کو طاقت کے ذریعے روکا۔ اس میں مزید کہا گیا کہ کشتیوں پر موجود افراد کو زبردستی حراست میں لیا گیا، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے بنیادی انسانی حقوق پامال کیے گئے۔ ان الزامات کی بنیاد پر ترک استغاثہ نے ملزمان پر انسانیت کے خلاف جرائم، تشدد، آزادی سے محرومی، املاک کو نقصان پہنچانے اور یہاں تک کہ نسل کشی جیسے سنگین الزامات عائد کیے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت سے مطالبہ کیا گیا کہ ان افراد کو عمرقید کی سزا دی جائے جبکہ بعض کے لیے مجموعی طور پر ہزاروں برس قید کی سزائیں بھی تجویز کی گئیں۔
ترکی کے اس اقدام نے فوری طور پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو ایک نئے تناو میں دھکیل دیا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اس فرد جرم کو سیاسی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا اور ترکی کی قیادت پر سخت تنقید کی۔ اس نے اپنے بیان میں ترک صدر رجب طیب اردوان پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں اور خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔ نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا اور کسی دباو کو قبول نہیں کرے گا۔اسرائیلی حکومت کے دیگر ارکان نے بھی اسی نوعیت کے بیانات دیے۔ وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے نہایت سخت زبان استعمال کرتے ہوئے صدر اردوان کو کاغذی شیر قرار دیا اور کہا کہ ترکی اپنے داخلی اور خارجی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اسرائیل کے خلاف بیانیہ اختیار کررہا ہے۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ترکی ایران کی جانب سے درپیش خطرات کے خلاف موثر موقف اختیار کرنے میں ناکام رہا ہے۔اس کے جواب میں ترکی نے نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ میڈیا اور عوامی سطح پر بھی بھرپور ردعمل دیا۔
ترک وزارت خارجہ نے اسرائیلی بیانات کو جھوٹ، تکبر اور بے بنیاد الزامات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ردعمل دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ اسرائیل کو عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے قانونی دباو کا سامنا ہے۔ ترک حکام نے نیتن یاہو کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے اسے موجودہ دور کا ہٹلر قرار دیا اور کہا کہ اس کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت میں مقدمات چل رہے ہیں، جن میں جنگی جرائم اور نسل کشی کے الزامات شامل ہیں۔ترکی کی سیاسی قیادت نے بھی اس معاملے پر یک زبان ہو کر ردعمل دیا۔ صدارتی رابطہ کاری کے سربراہ برہان الدین دوران نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم کی تنقید دراصل اس کی کمزور سیاسی پوزیشن کا اظہار ہے۔ نائب صدر جودت یلماز نے کہا کہ اسرائیل کو اس بات پر پریشانی ہے کہ اس کے اقدامات اب عالمی سطح پر بے نقاب ہو رہے ہیں۔
ترک پارلیمنٹ کے اسپیکر نعمان قورتولموش نے اسرائیلی بیانات کو بے معنی اور غیرسنجیدہ قرار دیا جبکہ صدارتی مشیر عاکف چاغتائے قلیچ نے انہیں حقیقت سے کٹی ہوئی ذہنی کیفیت کا مظہر کہا۔ اس تمام صورتحال میں میڈیا اور سوشل میڈیا نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ترکیہ اور اسرائیل دونوں میں عوامی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا جہاں ایک طرف ترکی میں اسرائیل کے خلاف سخت بیانیہ سامنے آیا وہیں اسرائیل میں بھی ترکی کی پالیسیوں پر تنقید کی گئی۔ مختلف تجزیہ کاروں نے اس تنازع کو خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کا حصہ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کے اثرات شام، مشرق وسطیٰ اور حتی کہ نیٹو اتحاد تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
اسی دوران ایک اور اہم پیش رفت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی صورت میں سامنے آئی، جس نے اس پورے تناظر کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ان مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف کے درمیان ملاقات ہوئی۔ ابتدائی طور پر ماحول کو مثبت قرار دیا گیا، لیکن جلد ہی واضح ہو گیا کہ دونوں فریق اہم معاملات پر کسی اتفاق رائے تک نہیں پہنچ سکے۔ امریکا نے ایران سے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور حساس مواد کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ ایران نے ان شرائط کو ناقابل قبول قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی کشیدگی بڑھی جہاں امریکی بحری جہازوں کی نقل و حرکت اور ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کی دھمکیوں نے خطے میں تناو کو مزید بڑھا دیا۔
ان تمام واقعات نے مل کر ایک ایسی فضا پیدا کر دی جس میں ترکی اور اسرائیل کے درمیان تنازع محض دو طرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک وسیع تر علاقائی اور بین الاقوامی کشیدگی کا حصہ بن گیا۔ اسی پس منظر میں 13 اپریل کو ترک وزارت دفاع نے ایک اہم علامتی اقدام کیا، جس نے اس بحران کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔ وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پر صدر رجب طیب اردوان کی ایک تصویر جاری کی، جس میں وہ ایک فوجی چھاﺅنی میں موجود ہیں اور ایک سپاہی انہیں سلامی پیش کر رہا ہے۔ اس تصویر کے ساتھ ایک پیغام بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا: یہاں ہر کوئی بولتا ہے، یہاں تک کہ ہم اپنی بات کریں اور تاریخ اس کی گواہ ہے۔یہ پیغام بظاہر سادہ تھا، لیکن اس کے سیاسی اور عسکری مضمرات گہرے سمجھے گئے۔ مبصرین کے مطابق یہ ایک واضح اشارہ تھا کہ ترکی نہ صرف سفارتی اور قانونی محاذ پر بلکہ ضرورت پڑنے پر اپنی عسکری طاقت کے اظہار سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی ترک سوشل میڈیا پر بھی اس اقدام کو بھرپور سراہا گیا اور اسے اسرائیلی بیانات کے جواب میں ایک مضبوط اور باوقار ردعمل قرار دیا گیا۔یوں قافلہ استقامت کے خلاف اسرائیلی اقدام کا واقعے سے شروع ہونے والا تنازع اب ایک مکمل سیاسی، قانونی، سفارتی اور میڈیا جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس میں نہ صرف دو ممالک آمنے سامنے ہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی سیاست پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔