امریکی بحری ناکہ بندی دنیا کو کتنی مہنگی پڑ سکتی ہے؟

اسلام آباد مذاکرات ناکام ہوئے اور ٹرمپ نے فوری ردعمل میں آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا۔ ٹروتھ سوشل پر لکھا: ‘فوری طور پر امریکی بحریہ، دنیا کی سب سے بہترین بحریہ، آبنائے ہرمز میں داخل یا خارج ہونے والے تمام جہازوں کو روکنے کا عمل شروع کر دے گی’۔

اب دو دنوں سے یہی ایشو ہر جگہ زیر بحث ہے۔ دراصل یہ اعلان سننے میں بہت زوردار ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ عملی طور پر ممکن ہے؟ کیا اس کے نتائج امریکا کے حق میں نکلیں گے؟ اور سب سے اہم، چین کا ردعمل کیا ہوگا؟ دنیا کو یہ ناکہ بندی کس قدر بھاری پڑ سکتی ہے۔ انہی سوالوں پر غور کرتے ہیں۔ پہلے یہ سمجھیں کہ ناکہ بندی ہے کیا؟ ٹرمپ کا اعلان جتنا یکطرفہ اور دوٹوک لگا، زمینی حقیقت اس سے بہت مختلف نکلی۔ امریکی سنٹرل کمانڈ نے چند گھنٹوں بعد وضاحت کی کہ یہ ناکہ بندی صرف ایرانی بندرگاہوں پر لاگو ہوگی جو جہاز غیرایرانی بندرگاہوں کی طرف جائیں انہیں نہیں روکا جائے گا۔ یعنی ٹرمپ نے جو ‘سب یا کچھ نہیں’ والی بات کہی، اس کا اصل مطلب کچھ اور نکلا۔ مقصد یہ ہے کہ ایران جو تیل بیچ کر کما رہا تھا اور جنگ کا خرچ اٹھا رہا تھا وہ آمدن بند ہو جائے۔ چین، بھارت اور دیگر ملکوں کو ایران کو ٹیکس دے کر نہ گزرنے دیا جائے اور یوں ایران کو مالی طور پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے۔ اگلا سوال یہ ہے کہ تکنیکی طور پر یہ کتنا مشکل ہے؟ سابق نیٹو سپریم کمانڈر ایڈمرل اسٹاور ڈس نے سیدھے الفاظ میں کہا: ‘یہ بہت بڑا کام ہے اور بہت بڑا جوا بھی’۔ کیوں؟ چند وجوہات سمجھنے کی ہیں۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز اپنے تنگ ترین مقام پر صرف بیس میل چوڑا ہے اور یہ جغرافیہ ایران کے حق میں ہے۔ اس ناکہ بندی کو نافذ کرنے کے لیے کم از کم دو طیارہ بردار بڑے بحری بیڑے اور ان کے ساتھی جہاز درکار ہیں۔ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور یو ایس ایس ابراہم لنکن ابھی موجود ہیں، تیسرا بیڑا راستے میں ہے۔ مگر یاد رہے کہ ان بحری بیڑوں کو ایران کے خلاف جنگ میں ایرانی میزائلوں سے کچھ نقصان پہنچا تھا اور انہیں مجبوراً دور لے جا کر کھلے پانیوں میں کھڑا کرنا پڑا۔ دوسری وجہ ممتاز امریکی میگزین نیوزویک کے مطابق یہ ہے کہ ایران کا اصل ہتھیار بڑے جنگی جہاز نہیں بلکہ پاسداران انقلاب کی تیز رفتار کشتیاں، ساحلی میزائل اور پوشیدہ بارودی سرنگیں ہیں۔ ایران کی ساٹھ فیصد سے زیادہ تیز رفتار حملہ آور کشتیاں ابھی بھی سلامت ہیں۔ یہ چھوٹی کشتیاں زیرزمین ساحلی سرنگوں میں چھپی ہیں اور بڑے بحری جہازوں کے لیے بہت خطرناک ہیں۔ تیسری وجہ بارودی سرنگیں ہیں۔ ایران نے ہرمز میں سرنگیں بچھائیں مگر ایک دلچسپ اطلاع یہ بھی آئی کہ ایران خود ان سرنگوں کا ریکارڈ کھو بیٹھا ہے۔ امریکی بحریہ پانی کے اندر ڈرون ان سرنگوں کو صاف کرنے میں لگے ہیں مگر یہ بہت وقت طلب کام ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم ان بارودی سرنگوں کو صاف کریں گے مگر کیا یہ اتنا آسان ہے؟ ماہرین کا جواب نفی میں ہے۔ ایک اور ہم نکتہ یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق سات سے آٹھ بڑے جنگی جہازوں کی موجودگی میں روزانہ صرف تین سے چار تجارتی جہازوں کو ہی محفوظ گزرگاہ دی جا سکتی ہے، جبکہ جنگ سے پہلے یہاں سے روزانہ ایک سو تیس جہاز گزرتے تھے۔

چین کا ردعمل، اصل گرہ یہاں ہے: یہ وہ پہلو ہے جو اس پوری کہانی کا سب سے خطرناک باب ہے۔ ایران نے جنگ کے دوران چین، روس، بھارت، پاکستان، عراق اور ترکی کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی، کچھ ٹیکس لے کر، کچھ معاہدوں کے تحت۔ چین تو ایران کا نوے فیصد تیل خریدار ہے، ایرانی تیل چینی یوان میں بیچا جا رہا تھا۔ اب ٹرمپ نے کہا کہ جو بھی ایران کو ٹیکس دے کر گزرا اُسے کھلے سمندر میں بھی روکا جائے گا۔ چین نے فوری ردعمل دیا۔ بلومبرگ کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی عالمی تجارت کے لیے خطرہ ہے، فوری جنگ بندی ہونی چاہیے اور یہ بحران کی اصل جڑ جاری جنگ ہے۔ امریکا کا نام لیے بغیر واضح پیغام دے دیا گیا۔ ایک اور خطرناک خبر بھی آئی۔ این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس نے اطلاع دی کہ چین آنے والے ہفتوں میں ایران کو نئے فضائی دفاعی ہتھیار فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ٹرمپ نے فوری تنبیہ کی: ‘اگر چین نے ایسا کیا تو اسے بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا’۔ چینی سفارت خانے نے اسے غلط اطلاع قرار دے کر رد کر دیا۔ بہرحال جنگ میں یہ الزام، دعوے اور جواب میں انکار بھی چلتا رہتا ہے، رد کسی چیز کو نہیں کر سکتے۔

یاد رہے کہ چین نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں روس کے ساتھ مل کر اس قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا جو آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہازرانی کی بات کرتی تھی۔ اسٹاور ڈس نے بھی خبردار کیا کہ روس اور چین سائبر حملوں کے ذریعے ایران کی مدد کر سکتے ہیں۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ دنیا پر اس کے حقیقی اثرات کیا ہوں گے؟ بلومبرگ اکانومکس کی تجزیہ کار جینیفر ویلش نے لکھا: ‘تازہ ترین پیشرفت نے خطرات کو پھر سے نیچے کی طرف موڑ دیا ہے، تیل مزید مہنگا ہوگا اور عالمی معاشی ترقی کو نقصان پہنچے گا’۔ اطلاعات کے مطابق برنٹ کروڈ آٹھ فیصد بڑھ کر ایک سو دو ڈالر، امریکی خام تیل ایک سو چار ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ امریکا میں پٹرول کی قومی اوسط چار اعشاریہ بارہ ڈالر فی گیلن ہے جو جنگ کے آغاز سے اڑتیس فیصد زیادہ ہے۔ اس میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ ایک بہت دلچسپ اشارہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے دیا ہے۔ اسپیکر قالیباف نے وائٹ ہاؤس کے قریب پٹرول پمپ کی قیمتوں کا نقشہ لگاتے ہوئے ایکس پر لکھا: ‘ابھی کی قیمتوں سے لطف اٹھائیں۔ اس نام نہاد ناکہ بندی کے بعد آپ چار پانچ ڈالر فی گیلن کو بھی یاد کریں گے’۔ ساتھ ایک ریاضی فارمولہ بھی تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ ہرمز پر دباؤ بڑھنے سے تیل کی قیمت سیدھی نہیں بلکہ ملٹی پلائی ہوکر تیزی سے اوپر بڑھے گی۔

ایک سوال یہ بھی بنتا ہے کہ کیا یہ ناکہ بندی ایران کو جھکا سکے گی؟ انویسٹمنٹ سٹریٹجسٹ کار بلی لیونگ کا کہنا ہے کہ مارکیٹ نے اسے سنجیدہ نہیں لیا، زیادہ لوگ اسے مذاکراتی حربہ سمجھتے ہیں۔ برطانیہ نے صاف کہہ دیا کہ وہ اس ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا۔ یورپ کا کوئی ملک ساتھ نہیں آیا۔

آگے کیا ہوگا؟ تین منظرنامے ممکن ہیں۔ پہلا یہ کہ ایران مالی دباؤ برداشت نہ کر سکے اور دوبارہ مذاکرات پر آئے۔ ایرانی معیشت پہلے ہی تباہ حال ہے، افراط زر چالیس فیصد بڑھ چکا ہے، حکومتی تنخواہوں کا بحران ہے مگر ایران نے آج تک کسی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کی تاریخ نہیں رکھی۔ دوسرا یہ کہ چین اپنے جہازوں کو روکنے نہ دے اور امریکا اور چین کے درمیان ایک اور محاذ کھل جائے۔ چین ایران کا نوے فیصد تیل خریدتا ہے، اگر امریکی بحریہ نے چینی جہاز روکنے کی کوشش کی تو یہ بالکل نئی اور بہت خطرناک صورت حال ہوگی۔ تیسرا یہ کہ ایران کوئی جوابی وار کرے۔ یمن کے حوثی باب المندب پر حملے کریں اور جنگ بندی (خدانخواستہ) مکمل ٹوٹ جائے۔ اس پوری صورت حال میں ایک پہلو توجہ طلب ہے۔ ایران کا بیشتر تیل چین خریدتا ہے۔ اگر چین چاہے تو ایران پر خاموش دباؤ ڈال سکتا ہے اور مذاکرات کو دوبارہ پٹری پر لا سکتا ہے مگر چین کا مفاد ابھی یہی ہے کہ ٹرمپ کو یہ جنگ جیتتے ہوئے نہ دکھے۔

دعا ہے کہ عقل کی آواز غالب آئے، کوئی نہ کوئی راستہ نکلے اور آبنائے ہرمز ایک بار پھر پرامن بحری گزرگاہ بنے کیونکہ اس کے بند رہنے سے نہ صرف عالمی معیشت تکلیف میں ہے بلکہ پاکستان جیسے ملک بھی توانائی کے شدید بحران کا سامنا کر رہے ہیں اور ہاں تھوڑا سا اس پورے عمل میں پاکستانی کردار کے بارے میں، کہ ہر محب وطن پاکستان کی طرح ہمارا بھی دل شاد ہے۔ سدانند دھومے ممتاز امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے کالم نگار ہیں۔ بھارتی نژاد صحافی ہیں، انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے: ‘میں واقعی یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کوئی معقول شخص اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ نہ ہو پانے کو پاکستانی سفارت کاری کی ناکامی کیسے قرار دے سکتا ہے۔ ذرا دیکھیں پاکستان نے کیا حاصل کیا: اس نے 47سال بعد امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کاروں کو ایک ہی کمرے میں بٹھا دیا۔ پاکستان کو اس کردار پر دونوں متحارب فریقوں کی جانب سے کھلے عام سراہا گیا۔ پاکستان نے اس پورے معاملے کے اہم کرداروں، یعنی چین اور سعودی عرب، کا اعتماد اور خاموش حمایت برقرار رکھی۔ پاکستان نے درجنوں ممالک کی نیک نیتی حاصل کی جو چاہتے ہیں کہ یہ تنازع جلد از جلد ختم ہو۔ معاہدہ نہ ہونا پاکستان کے لئے بھی ٹھیک نہیں کیونکہ اس کی کمزور اکانومی خاص طور پر توانائی کی درآمدات اور خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلات زر پر انحصار کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان، کم از کم فی الحال، عالمی منظرنامے پر ایک نمایاں سفارتی کردار کے طور پر ابھرا ہے اور اسے بین الاقوامی سطح پر خاصی نیک نامی حاصل ہوئی ہے’۔