ہمت، محنت اور چستی

ہندوستان کا سب سے بڑا حکمران، سلطان اورنگ زیب عالمگیر کو قرار دیا جاتا ہے۔ اُن کی سلطنت غزنی سے لے کر چٹاگانگ تک پھیلی ہوئی تھی۔لیکن یہ عظیم سلطنت انہیں پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کی گئی تھی، اس کے لیے انہوں نے دن رات ایک کیا، پتہ پانی کیا اور دل کے زخموں کو خون جگر سے دھویا۔ راحت و آرام، چین و سکون اور آسائش و زیبائش سے کنارہ کشی کرلی۔ محنت و مشقت، ہمت و لگن، مستعدی و بیدار مغزی سے ایسا رشتہ قائم کرلیا کہ تادم مرگ بھی ساتھ نہ چھوٹنے پایا۔ اپنے والد شاہجہاں کو لکھا: ”کاہل وجودی کا الزام مجھ پر عائد نہیں ہوسکتا”۔ ایک امیر کو جواب دیتے ہوئے کہا:’ مجھے اللہ نے دوسروں کے واسطے محنت کے لیے بھیجا ہے’۔ پھر یہ شعر پڑھا:
الا تا بغفلت نہ خفتی کہ نوم
حرام است برچشم سالار قوم

”خبردار! غفلت کی نیند نہ سونا، کیونکہ قوم کے حکمران پر نیند حرام ہے”۔ (تاریخ دعوت و عزیمت: 44/5) عالمگیر دن رات میں صرف تین گھنٹے سوتا تھا، ایک وقت کھانا کھاتا، ہر سال چالیس دن اعتکاف بیٹھتا، زمین پر سوتا اور روزے رکھتا۔ ہر ہر علاقے کے حالات سے باخبر رہتا، ہر علاقے کے نگرانوں سے لے کر ادنیٰ محرروں تک کا تقرر بھی خود ہی کرتا تھا۔ آج سوشل میڈیا پر موجود ہر شخص خود کو ایک لیڈر بناکر پیش کرتا ہے، اس کے پاس ہر مسئلے کا حل ہے، ہر کسی کے لیے مشورے ہیں، وہ ہر میدان کا شہ سوار ہے۔ ہر شخص شہرت کے لیے جان گھلا رہا ہے، سوشل میڈیا ایسا بے آب و گیاہ جنگل بن چکا ہے جہاں ہر ٹنڈ منڈ درخت خود کو شجر سایہ دار سمجھتا ہے، ہر جھاڑی خود کو چمن کا گل سرسبد سمجھتی ہے۔ اکثر سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے خود کو رہبر، مبلغ، دانشور، مفکر اور فلاسفر کے منصب پر فائز کرلیا ہے۔ قیادت وہ پوشاک ہے جو پہلے محنت و مشقت سے بنی جاتی ہے، پھر ایثار و قربانی کے رنگ میں رنگی جاتی ہے، پھر صبر و استقامت کی سوئی سے سلتی ہے اور پھر عجز و انکساری کے ساتھ زیب تن کی جاتی ہے۔

مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے: سستی کو چستی میں بدلنا، یہی دین کا عملی خلاصہ ہے۔ جس عبادت کو کرنے میں دل و دماغ سستی دکھا رہے ہوں، اس کو بھرپور چستی، طاقت اور ہمت سے سرانجام دینا ہی تصوف ہے۔ آپ کسی بھی مشہور عالم دین کی زندگی دیکھئے، کسی بڑے لیڈر کے حالات پڑھئے، آپ کو اس کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت نظر آئے گی۔ کیونکہ ہر شخص کو اللہ تعالیٰ نے دن میں 24 گھنٹے ہی دے رکھے ہیں، جو اس وقت کو زیادہ بہتر استعمال کرتا ہے وہ آگے بڑھ جاتا ہے۔ اگلے روز برادرم مولانا راشد حسین بتا رہے تھے کہ حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم یوں ہی رات گئے تصنیف و تالیف میں مصروف رہتے ہیں، صبح سویرے سبق کی مشغولیت، دنیا بھر سے آئی ڈاک کے جوابات، پھر تشریف لانے والے مہمانوں سے ملاقاتیں اور عالم اسلام کے مسائل پر اعلیٰ سطحی مشاورت، ساتھ میں دارالعلوم کراچی کا انتظام و انصرام دیکھنا، پھر اسلامی بینکاری کے عالمی اداروں اور ذمہ داروں سے ملاقاتیں، مشاورتیں اور رہنمائی الگ۔ ذکر، اذکار، تلاوت، ذاتی معمولات بھی پورے، تصنیفی خدمات بھی چل رہی ہیں، سفر بھی ہورہے ہیں۔ اِک جان کا زیاں ہے، سو ایسا زیاں نہیں۔

حضرت استاذ صاحب مفتی عبدالرحیم صاحب کی زندگی بھی ہمارے سامنے ہے۔ نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو۔ زندگی کا خلاصہ یہ ہے: ہم جیتے جی مصروف رہے۔ سونے اور آرام کرنے کے لیے بمشکل تین چار گھنٹے میسر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ کام کام اور کام۔ رات جب دنیا آرام کی وادیوں میں اترتی ہے تو آپ پوری تندی و تیزی کے ساتھ کام میں مشغول ہوتے ہیں۔ طبیعت کی خرابی حد سے تجاوز کرگئی تو ڈاکٹرز نے رات بارہ بجے لازما بستر پر لیٹنے کا حکم صادر کیا۔ مگر اک جان کا زیاں ہے، سو ایسا زیاں نہیں۔ دن بھر مہمانوں کی آمد، ملاقاتیں اور میٹنگز، رات بھر میٹنگز، تلاوت، ذکر، خلوت اور ذاتی معمولات۔ اتنے بڑے ادارے کے انتظامی معاملات نمٹانا، پھر ریاستی امور میں غور و فکر، معلومات تک رسائی اور ہر لحظہ بیدار۔ عالم اسلام کے حالات پر بلاواسطہ، براہ راست نظر، اسلامی تحریکوں کے قائدین کی رہنمائی اور حالات سے باخبری، ریاست پاکستان کو درپیش مشکلات کا ادراک اور ان کے حل کی کوششیں اور اس سب پر مستزاد مستقبل میں دیکھنے کی بے نظیر صلاحیت اور آنے والے وقتوں کے لیے تیاری، اللہ اللہ۔پھر کوئی قیس سا اٹھا نہ زمانے میں کوئی۔

اگلے روز ایک اللہ والے نے کہا: آپ ایک دبستان ہیں، زندگی کے ایک ایک پہلو پر نظر رکھنے اور اس سے رہنمائی کشید کرنے کی کوشش کیجئے۔ اخلاق، نشست و برخاست، گفتگو کا سلیقہ، دل جوئی کا انداز، اصاغر نوازی، ملکوں کے حالات پر نظر، ریاستی مسائل کا ادراک، مثبت سوچ اور حیران کن حد تک درست اپروچ، بلاخوف لومة لائم جرأت اظہار اور حق گوئی، تعلیمی پالیسی اور سیاسی فکر، مستقبل بینی اور حالات کا زبردست ادارک و تجزیہ، چین و سکون اور راحت و آرام تج دیا، زندگی کی آسائش و زیبائش سے کنارہ کشی۔ کسی کسی کو خدا یہ کمال دیتا ہے۔ ولا نزکی علیٰ اللہ احدا۔ میرے دوستو اور بھائیو! اپنے آپ کو سنوارنے پر محنت کیجئے۔ عشاق کے قافلے رواں دواں ہیں اور وعدہ فردا لیے آگے بڑھ رہے ہیں، میں اور آپ کہاں کھڑے ہیں؟ ہم اور تم اور وہ نسل جس کے کندھوں پر ملک و ملت کی قیادت کا بار آنے والا ہے۔