آئی ایم ایف سے وعدے اور مہنگائی کا عذاب

ایران جنگ کے تناظر میں آئی ایم ایف کے کہنے پر گزشتہ دنوںپیٹرول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق جنگ کے بعد پاکستان میں ڈیزل کی قیمت میں 88اور پٹرول کی قیمت میں 46فیصد اضافہ ہوا جبکہ گیس کی قیمت میں 23فیصد اضافہ ہو۔ بجلی کے نرخ 14فیصد بڑھ گئے۔ توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ ایران امریکا میں جنگ بندی کے بعد تیل کی قیمتوں میں اسی حساب سے کمی کی جائے گی جس حساب سے اضافہ کیا گیا تھا مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے ڈیزل کے نرخوں میں تو پھر بھی کسی حد تک معقول کمی کی ہے تاہم پٹرول کی قیمت میں صرف 12روپے کی کمی کی ہے جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرہ بھی نہیں ہے۔ اب کم آمدن والے اور مزدور طبقہ پریشان ہوگیا ہے۔ موٹر سائیکل سوار اور چھوٹی کار چلانے والے سفید پوش افراد زیادہ متاثر ہیں جن کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔ اس سے بائیکیا اور آن لائن ٹیکسی چلانے والے محنت کش بھی نالاں ہیں۔ موٹر سائیکل والوں کو ریلیف دینے کا صوبائی حکومتوں کا فیصلہ اچھا ہے مگر اس ریلیف کے حصول کے لیے حکومت نے جو شرائط رکھی ہیں، ان پر پورے اترنے کے لیے بھی لوگوں کو اچھے خاصے پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں۔ موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن کے نام پر بیوروکریسی کو نیا دھندا میسر آگیا ہے۔

مزدور طبقہ بھی کسمپرسی کا شکار ہے۔ بارش کے موسم میں بھی ملک بھر کے مزدور ایک امید آس لگائے سڑک کنارے بیٹھ جاتے ہیں۔ ٹریفک کی ہلچل اور گاڑیوں کی ہارن، رکتی ہوئی کاروں کے بریک کی شور سے ان کے دلوں کی دھڑکن تیز ہو جاتی کہ ابھی ‘صاحب’ آواز دیں گے، مزدور چاہیے۔ شام کے وقت مزدور گھر واپس آتے کوئی بالکل خالی جیب، کسی کے جب میں چند روپے۔ غریب مزدور کی کہانی عجیب ہوتی ہے۔ شہر کی بارش کسی کو کیا نقصان پہنچائے گی لیکن یہ بارش مزدور کی مزدوری کھا جاتی ہے اور کبھی کبھی کسی کے لیے ”ففٹی ففٹی” کر جاتی ہے، یعنی آدھی کمائی رہ جاتی ہے۔

پی بی ایس نے بھی رپورٹ کر دی ہے کہ مارچ میں مہنگائی 7.3فیصد ہوگی۔ حکومت کو یہ رپورٹ بھی مل چکی کہ مہنگائی 17ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ پھر بھی پیٹرول کی قیمت بڑھ گئی ہے کیونکہ آئی ایم ایف کا حکم نامہ کیسے ٹالا جاسکتا ہے؟ انہوں نے بھی اپنا وعدہ پورا کردیا تقریباً سوا ارب ڈالر کے معاہدے طے پا گئے ہیں۔ گزشتہ جمعرات کی صبح امریکا نے اعلان کیا کہ ایران سے جنگ جاری رہے گی بس پھر کیا تھا۔ دنیا بھر کے اسٹاک ایکسچینج مندی میں چلے گئے۔ پیٹرول کی عالمی قیمت میں اضافہ ہوگیا۔ اب جنگ بندی ہوئی ہے تو بھی قیمتوں پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا کیونکہ امریکی صدر ٹرمپ کی باتوں کا اب کوئی اعتبار نہیں رہا ہے۔ایران کے ساتھ مذاکرات کے سائے میں بھی امریکی صدر کی دھمکیاں جاری ہیں جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل پوری طرح بحال نہیں ہوئی ہے، مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں پیٹرول کے ساتھ پھر گیس، بجلی کے نرخ مزید بڑھ جائیں گے کیونکہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ جاری پروگرام کے تحت مزید سخت معاشی اقدامات پر آمادگی ظاہر کر دی ہے لیکن اس کے نتیجے میں عوام پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھے گا۔ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو رہا ہے تو اس کا بوجھ بھی براہ راست عوام پر منتقل ہوگا جس سے ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھیں گی۔ پیٹرول ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے پاکستان میں ہر طرف مہنگائی کا راج ہوگا۔

آئی ایم ایف نے جو وعدے لیے ہیں اس کا مطلب ہے کہ فی الحال معیشت کو ٹھنڈا رکھا جائے لیکن اس کا سائیڈ ایفیکٹ روزگار پر پڑے گا۔ روزگار کے مواقع گھٹتے رہیں گے۔ ان اقدامات کو ماننے کا مطلب معیشت کو مستحکم کرنا ہے لیکن بعض حالات میں یہ اقدامات مزید نقصان کا باعث بن سکتے ہیں کیونکہ مشرق وسطی کے حالات خراب ہونے کے باعث وہاں مقیم پاکستانیوں کا روزگار متاثر ہوسکتا ہے اور ترسیلاتِ زر میں بھی کمی واقع ہوسکتی ہے۔ تیل کا درآمدی بل کے بڑھنے سے تجارتی خسارے میں اضافہ بھی معیشت پر مزید دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے آئی ایم ایف کے سخت شرائط کے بارے میں حکومت کو اپنے تحفظات کا اظہار کرنا چاہیے بصورت دیگر بالآخر بوجھ غریب عوام پر ہی پڑے گا اور صاف ظاہر ہے کہ امیر صاف بچ نکلیں گے۔ اگرچہ یہ جنگ کہیں دور لڑی جا رہی ہے لیکن اس کی گولیاں یہاں کے بے روزگاروں کو لگ رہی ہیں۔ تیل کے کنوؤں میں آگ کہیں بھڑکتی ہے لیکن یہاں مزدور کی دیگچی ٹھنڈی ہو رہی ہے، یہ کہانی پاکستان کے ہر شہر قریہ گاؤں کی ہے، ہر اس گلی کی ہے جہاں روشنی کم اور اندھیرا زیادہ ہے۔