بلومبرگ اور سی این این کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ایک سخت اور کشیدہ فون کال کے بعد اسرائیل لبنان کے ساتھ براہ راست جنگ بندی مذاکرات پر آمادہ ہوگیا۔
امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اگر انہوں نے لبنان کے ساتھ بات چیت شروع نہ کی تو ٹرمپ خود ہی جنگ بندی کا اعلان کر سکتے ہیں، جس سے اسرائیل کو سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا۔
اس سے قبل ٹرمپ ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان بھی کر چکے تھے، جبکہ امریکی مؤقف تھا کہ اسرائیلی حملے اس عمل کو کمزور کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں کم کریں، کیونکہ حالیہ حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے تھے۔
دوسری جانب بلومبرگ نے انکشاف کیا کہ لبنان کو اچانک جنگ بندی ڈیل میں شامل کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تیزی سے فیصلے کر رہا ہے۔ تاہم اسرائیل نے فون کال میں تلخی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں فیک نیوز قرار دیا ہے۔

