ایران کی جانب سے کئی خلیجی ممالک اور اسرائیل پر شدید حملے کیے گئے ہیں ،جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں سیکورٹی کی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے ،سعودی عرب ،کویت ،دبئی اور عراق میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور متعدد امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور کئی کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، اسرائیل پر بھی ایران کی جانب سے میزائلوں اور کلسٹر بموں کی بارش کردی گئی ،جس کے نتیجے میں ایک اسرائیلی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔روسی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے تل ابیب میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کونشانہ بنا یا گیا،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے،لوگ شیلٹرز میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی فوج نے کویت کی الشویخ بندرگاہ پر امریکا کے 6 ٹیکٹیکل جہازوں کونشانہ بنایا ہے، 3 لڑاکا جہازسمندر میں غرق ہوگئے جبکہ دیگر 3 میں آگ لگ گئی ،کویتی حکام کے مطابق ڈرون حملے میں کویت انٹرنیشنل ایئر پورٹ کو نقصان پہنچا ہے۔کویت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق حملوں کے نتیجے میں ایئر پورٹ کے ریڈار نظام کو شدید نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔کویتی ایئرپورٹ کی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی، صورتحال کی نگرانی جاری ہے، ڈرون حملوں کے باوجود پروازوں پر اثرات کی تفصیلات سامنے نہ آ سکیں۔عراق کی مجنون آئل فیلڈ میں ڈرون گر گیا، دھماکہ نہیں ہوا، کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
وزارت دفاع کے مطابق ڈرون گرنے کے واقعے سے تیل کی تنصیبات محفوظ رہیں،پاسداران انقلاب کے مطابق وعدہ صادق چہارم نامی آپریشن کے تحت دشمن پرحملے کی 84 ویں لہر میں دبئی کے ساحل اورایک ہوٹل میں امریکی اہلکاروں کو خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے،ایرانی حکام کے مطابق دونوں حملوں میں کئی امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔سعودی عرب میں سلطان ایئربیس پر امریکا کو بڑا نقصان ہوا،کئی ری فیولنگ طیارے متاثر، بارہ امریکی اہلکار زخمی ہوگئے۔ایرانی فوج نے مختلف حملوں میں 500 سے زاید امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کردیا۔ترجمان ایرانی فوج کے مطابق امریکی فوج کے دو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، دبئی میں ایک مقام پر400 امریکی فوجی اور دوسری جگہ 100 سے زاید امریکی فوجی موجود تھے۔
بیان کے مطابق دونوں مقامات کو گائیڈڈ میزائلز اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، ایمبولینسز کئی گھنٹے تک لاشوں اور زخمیوں کو نکالتی رہیں، ٹرمپ کو سمجھنا ہوگا یہ خطہ امریکی فوجیوں کا قبرستان بنے گا۔ادھر متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ 28 مارچ کو فضائی دفاع نے 20 بیلسٹک میزائل تباہ کیے، 37 ایرانی ڈرونز کو فضا میں ہی مار گرایا گیا۔یو اے ای کی وزارت دفاع نے کہا کہ جنگ شروع ہونے سے اب تک 398 میزائل روکے جا چکے ہیں، 15 کروز میزائل اور 1872 ڈرونز بھی تباہ کیے گئے۔اس سے قبل متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں ایک خطرناک واقعے کے دوران بیلسٹک میزائل کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد اس کا ملبہ گرنے سے 3 مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، جبکہ 6 افراد زخمی ہو گئے۔حکام کے مطابق یہ واقعہ خلیفہ اکنامک زون (KEZAD) کے قریب پیش آیا، جو کہ ایک بڑا تجارتی، لاجسٹک اور صنعتی مرکز ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق ایئر ڈیفنس سسٹم نے کامیابی کے ساتھ ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم اس کے ملبے کے گرنے سے قریبی علاقوں میں 3 الگ الگ آگ لگنے کے واقعات رونما ہوئے۔علاوہ ازیں ایرانی فوج نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پرشروع کیے گئے بلااشتعال حملوں کے 4 ہفتوں کے بعد اسرائیل کے شہر تل ابیب میں واقع حساس اور اسٹریٹجک مقامات کو خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنا دیا ہے۔ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق فوج نے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی یونٹ 6900 کے طور پر شناخت کی گئی ایک تنصیب پر ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جسے اسرائیلی فوج کا اہم سپورٹ اور لاجسٹکس مرکز تصور کیا جاتا ہے ، اور یہ بن گوریون ایئرپورٹ میں حکومت کی مسلح افواج کے اجتماع کے لیے استعمال ہونے والی جگہ ہے اور یہ کارروائی گزشتہ رات سے جاری ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ تازہ ترین ڈرون حملوں کا مقصد اسرائیلی حکومت کی خصوصی افواج کو نقصان پہنچانا اور اس کے لاجسٹک مراکز کو متاثر کرنا ہے۔ایرانی فوج نے بتایا کہ اسرائیل کی یونٹ 6900 کا کام ٹینکر طیاروں کے لیے سازوسامان کی نقل و حمل اور فوجی اڈوں تک سازوسامان کی ترسیل ہے۔مزید بتایا گیا کہ دشمن کی لاجسٹک لائنوں پر ڈرون حملوں سے فوری، محفوظ اور بڑے پیمانے پر نقل و حمل پر براہ راست اثر پڑے گا اور اسرائیلی حکومت کی جارحانہ کارروائیاں انجام دینے کی طاقت کمزور پڑے گی۔اسرائیلی فوج آئی ڈی ایف نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کی صبح یمن سے اسرائیل کی طرف ایک میزائل داغا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثیوں کی جانب سے اس طرح کا حملہ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے شروع ہونے کے بعد سے پہلا حملہ ہے۔اسرائیلی فوج نے کہا کہ خطرے کو روکنے کے لیے فضائی دفاعی نظام کو فعال کیا گیا اور نیگیو خطے میں بیر شیبہ شہر اور آس پاس کی کمیونٹیز میں سائرن بجائے گئے۔اس نئی صورتحال کے درمیان رہائشیوں کو ہوم فرنٹ کمانڈ کی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔حوثیوں کی جانب سے یہ میزایل حملہ جنوبی اسرائیل کی طرف داغا گیا۔
بعد ازاں بیر شیبہ اور قریبی علاقوں میں الرٹ جاری کر دیا گیا، جبکہ ایلات میں خطرے کے امکان کے حوالے سے ابتدائی وارننگ بھی جاری کی گئی۔حملے کے وقت ہلاکتوں یا براہ راست نقصانات کی فی الحال کوئی فوری اطلاع میسر نہیں۔یمن کے حوثی گروپ کا کہنا ہے انہوں نے اسرائیل پربیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا، ہدف مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فوجی تنصیبات تھیں۔حوثی گروپ کا کہنا ہے حملہ لبنان، ایران، عراق اور فلسطین میں شہریوں کی اموات، بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے ردعمل میں کیا، اہداف حاصل کرنے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔دریں اثناء ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی غیر قانونی جارحیت جاری جاری ہے۔خوزستان میں ایرانی اسٹیل پلانٹ پر بمباری کی گی جس کے بعد اسٹیل پلانٹ میں پیدوار کو بند کرنا پڑا۔ تہران میں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر بمباری کی گئی۔
بوشہر میں ایٹمی پاور پلانٹ کے قریب بم برسائے گئے۔ایران کے شمال مغربی صوبہ زنجان پر امریکی اسرائیلی فضائی حملے میں پانچ شہری جاں بحق اور سات زخمی ہو گئے ہیں۔فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق زنجان کے ڈپٹی گورنر علی صادقی نے بتایا کہ اموات اْس وقت ہوئیں جب ایک رہائشی عمارت کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔بعدازاں ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک کو ڈرون اور میزائل حملوں کی لہروں سے نشانہ بنایا۔ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں بنایا۔ علاوہ ازیں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدہ صورتحال کے درمیان امریکا نے تیسرا بحری بیڑا مشرقی وسطیٰ روانہ کردیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ایک اور طیارہ بردار بحری بیڑا یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش مشرقِ وسطیٰ کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔یہ طیارہ بردار بحری بیڑا اسی سے زاید طیارے لیجا سکتا ہے اور اسے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سینٹرل کمانڈ میں تعینات کیا جائے گا۔۔

