رمضان کا سبق، سال بھر کا سفر

زندگی کے کچھ لمحے محض گزرنے کے لیے نہیں آتے بلکہ انسان کے باطن پر ایک نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ کچھ موسم وقتی ہوتے ہیں اور کچھ ایسے جو انسان کے اندر اتر کر اس کی سوچ، اس کے رویّے اور اس کے راستے کو بدل دیتے ہیں۔ رمضان بھی بظاہر ایک مہینہ ہے مگر درحقیقت یہ ایک تربیت گاہ ہے۔ ایک ایسا سبق جسے اگر ہم نے صحیح معنوں میں سمجھ لیا تو یہ پورے سال کا سفر بن سکتا ہے۔ تاریخ کے ایک نازک ترین لمحے میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم غم و حیرت میں ڈوب گئے، حضرت ابوبکر صدیق نے کھڑے ہو کر وہ جملہ کہا جو قیامت تک کے لیے معیار بن گیا کہ: ‘جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) وفات پا چکے اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ اللہ ہمیشہ زندہ ہے’۔ یہی پیغام آج بھی ہمارے لیے اتنا ہی تازہ ہے۔

اگر ہم اس کو اپنے حال پر منطبق کریں تو بات یوں بنتی ہے کہ جو رمضان کا بندہ ہے وہ جان لے کہ رمضان رخصت ہونے والا ہے اور جو اللہ کا بندہ ہے اُس کے لیے ہر مہینہ رمضان کی یاد لیے ہوئے ہونا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ رمضان کا ماحول ہم واپس نہیں لا سکتے۔ نہ وہ سحری کی خاموش برکتیں، نہ افطار کی اجتماعی خوشبوئیں، نہ تراویح سے بھرپور مساجد اور نہ ہی وہ روحانی کیفیت جس میں نیکی کرنا آسان اور گناہ سے بچنا نسبتاً سہل ہوجاتا ہے۔ مگر سوال یہ نہیں کہ وہ ماحول واپس کیوں نہیں آتا بلکہ سوال یہ ہے کہ اس ماحول نے ہمارے اندر کیا چھوڑا؟ اگر رمضان گزر گیا اور ہم وہی کے وہی رہے تو گویا ہم نے اس مہینے کو گزارا نہیں، صرف گزار دیا۔ رمضان میں فجر کی نماز کے لیے اٹھنا ہمارے معمول کا حصہ بن جاتا ہے۔ مساجد آباد ہو جاتی ہیں، صفیں مکمل ہوتی ہیں اور دلوں میں ایک خاص سکون اترتا ہے۔ لیکن جیسے ہی عید کا چاند طلوع ہوتا ہے، وہی مساجد رفتہ رفتہ خالی ہونے لگتی ہیں۔ کیوں؟ کیا ہماری عبادت کا تعلق کسی مہینے سے ہے یا اس رب سے جو ہر لمحہ موجود ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو رمضان کے بعد ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے۔

قرآن کے ساتھ ہمارا تعلق بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ رمضان میں ہم اسے محبت سے تھامتے ہیں، اس کی تلاوت میں گھنٹوں گزارتے ہیں، ختم پر ختم کرتے ہیں۔ مگر جیسے ہی مہینہ ختم ہوتا ہے، یہ تعلق کمزور پڑنے لگتا ہے۔ حالانکہ قرآن نہ کسی ایک مہینے کے لیے نازل ہوا ہے، نہ کسی خاص وقت کے لیے، یہ تو زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی دینے والی کتاب ہے۔ اسے ‘کتابِ رمضان’ بنا دینا دراصل اس کے پیغام کو محدود کرنا ہے۔ اسی طرح صدقات اور خیرات کا جذبہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ رمضان میں ہم مستحقین کو تلاش کرتے ہیں، ان کے گھروں تک پہنچتے ہیں، ان کی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں۔ لیکن باقی مہینوں میں وہی لوگ ہماری نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ کیا ان کی حاجت رمضان کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے؟ یا ہماری توجہ کا دائرہ محدود ہے؟ اصل امتحان تو یہی ہے کہ ہم اس جذبے کو سال بھر زندہ رکھیں۔ پڑوسیوں کے ساتھ کھانے کا تبادلہ، محبت اور اخوت کا خوبصورت اظہار ہوتا ہے۔ رمضان میں یہ روایت اپنے عروج پر ہوتی ہے، مگر اس کے بعد یہ سلسلہ مدھم پڑ جاتا ہے۔ حالانکہ محبت کو کسی کیلنڈر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر رمضان نے ہمیں ایک دوسرے کے قریب کیا ہے تو اس قربت کو باقی رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔ بچوں کے حوالے سے بھی یہی معاملہ ہے۔ رمضان میں ہم انہیں قرآن کی طرف راغب کرتے ہیں، حفظ کے مقابلوں میں شریک کرتے ہیں، نیکی کی طرف مائل کرتے ہیں۔ مگر جیسے ہی مہینہ ختم ہوتا ہے یہ توجہ کم ہو جاتی ہے۔ حالانکہ یہی بچے ہمارے مستقبل کا سرمایہ ہیں اور ان کی تربیت کسی ایک مہینے کی محتاج نہیں ہونی چاہیے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلّم ہے کہ نفلی عبادات میں کمی بیشی آسکتی ہے۔ انسان کمزور ہے، اس کی مصروفیات اور حالات بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن فرائض کا تعلق رمضان سے نہیں ہوتا، وہ ہر حال میں قائم رہتے ہیں۔ نماز، دیانت، سچائی، نگاہ اور زبان کی حفاظت، یہ سب وہ ستون ہیں جن پر ایک مومن کی زندگی کھڑی ہوتی ہے۔ اسی طرح گناہوں کے ارتکاب کا بھی کوئی موسم نہیں ہونا چاہیے کہ رمضان میں رک جائیں اور اس کے بعد بے فکری اختیار کرلیں۔ درحقیقت رمضان ایک تربیتی کیمپ ہے جہاں ہمیں صبر، ضبط، تقویٰ اور بندگی کا سبق دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ سبق ہم اپنی عملی زندگی میں منتقل نہ کر سکیں تو یہ تربیت ادھوری رہ جاتی ہے۔ کامیاب وہی ہے جو اس مہینے کو اپنی زندگی کا نقطہ آغاز بنائے، نہ کہ ایک خوبصورت اختتام۔ رمضان کے مناظر اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اس اُمت کے دل میں ایمان کی روشنی ابھی زندہ ہے۔ مساجد کی رونق، قرآن کی صدائیں، صدقات کی فراوانی، یہ سب امید کی علامتیں ہیں۔ اگر یہی روشنی سال بھر قائم رہے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ اُمت دوبارہ اپنے عروج کی طرف نہ لوٹ آئے۔ لہٰذا اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رمضان کو ایک مہینہ نہیں، ایک مسلسل سفر سمجھیں۔ ایسا سفر جو شوال سے شروع ہوکر اگلے رمضان تک جاری رہے اور پھر اس سے آگے بھی۔ ہمیں اپنے آپ سے یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم صرف رمضانی نہیں رہیں گے بلکہ ربّانی بننے کی کوشش کریں گے۔ جی ہاں! رمضان کا اصل سبق یہی ہے۔