ایران سے پٹ کر امریکی طیارہ بردار بحری بیڑا یوایس جیرالڈ فورڈ میدان سے بھاگ گیا

مشرقِ وسطیٰ میں جنگی کارروائیوں کا حصہ بننے والا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ گزشتہ روز کریٹ کے ایک بحری اڈے پر واپس پہنچ گیا۔

اس بحری جہاز نے فروری میں سودا خلیج سے خوراک، ایندھن اور گولہ بارود حاصل کیا تھا، جبکہ 12 مارچ کو جہاز پر لانڈری میں آگ لگنے کی اطلاع ملی تھی، جس میں عملے کے دو ارکان زخمی ہوئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق سمندر میں قیام کے دوران جہاز کے ٹوائلٹ سسٹم میں بھی سنگین مسائل پیدا ہوئے، جن میں امریکی میڈیا نے بندش اور واش رومز کے باہر لمبی قطاروں کا ذکر کیا ہے، جس سے عملے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

رواں سال فروری کے آخر میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت میں بڑے اضافے کے بعد، جس میں فورڈ اور ایک اور طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن شامل تھے، امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی مہم شروع کی تھی۔ دونوں بحری جہاز، جن پر درجنوں طیاروں پر مشتمل فضائی ونگز موجود ہیں، ایران کے خلاف کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔

فورڈ کی واپسی سے خطے میں امریکی افواج کے لیے ایک خلا پیدا ہو سکتا ہے۔ پین واشنگٹن میں عالمی پالیسی پروگراموں کے ڈائریکٹر ڈینیئل شنیڈرمین کے مطابق فورڈ کو کسی بھی اہم مدت کے لیے میدان سے ہٹانے کا مطلب جنگی کوششوں کے لیے امریکی مدد میں کمی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے دفاع میں فورڈ کا کردار نہایت اہم رہا ہے، تاہم اگر اس کے ساتھ موجود دیگر بحری جہاز—جو فضائی دفاع کی کلیدی صلاحیتیں رکھتے ہیں—اسرائیل کے قریب ہی تعینات رہتے ہیں، تو اس کی روانگی کے فوری اثرات کسی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔