مغربی جمہوریت ہمارے مسائل کا حل ہے؟

مسلم دنیا کا کوئی بھی مسئلہ ہو، طویل عرصے سے نہ صرف یہ کہ لا ینحل ہے بلکہ شدت میں اس کی اضافہ ہی ہورہا ہے۔ لاکھوں مسلمانوں کا خون بہہ چکا، اور لاکھوں لوگ معذور ہو کر رہ گئے لیکن جنگ روکنے کا کوئی بھی لائحہ عمل اقوام عالم کے پاس موجودنہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے مسلم دنیا کیلئے جنگیں ہی مقدر کر دی ہیں۔ کوئی بھی مسلم ملک ایسا نہیں ہے جسے عیسا ئیو ں اور یہو دیو ں کی جانب سے مقتل نہیں بنا دیا گیا ہو اور عمارتیں جس کی کھنڈر نہ کر دی گئی ہوں۔ ان کا معاشرہ گہری سازش کے تحت اخلاق باختہ بنا دیا گیا ہے، معیشت خاک میں ملا دی گئی ہے، خاندان کا شیرازہ بکھیر دیا گیا ہے، حکمران بے حس کر دیے گئے ہیں اور تعلیم کا ستیاناس کر دیا گیا ہے۔

چشم کشا حقیقت یہ ہے کہ ان تمام سازشوں کے پس پردہ بدنامِ زمانہ یہودی گروہ رہے ہیں۔ اقوامِ عالم میں وہی ایک ایسی قوم رہی ہے جسے سب سے چھوٹی اقلیت گردانا جاتا ہے۔ سات ارب کی کل عالمی آبادی میں محض ڈیڑھ کروڑ۔ حیرت انگیز طور پر اپنی دو ہزار سالہ تاریخ میں یہودی کبھی دو کروڑ کی تعداد تک بھی نہیں پہنچ سکے لیکن تکلیف دہ حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا بھر کے جنگ و جدل اور قتل و خونریزی میں سب سے زیادہ حصہ اسی چھوٹی سی اقلیت کا ہے۔ جنگیں دراصل یہودیوں کی کھیتیاں ہیں جن سے وہ دوطرفہ فیض اٹھاتے ہیں۔ ایک طرف تمام معصوم انسانیت کو قتل کرتے اور دوسری طرف بھاری و مہلک ہتھیاروں کی فروخت سے بینک بیلنس بڑھاتے ہیں۔ یہ خیال کہ بے رحمی کے ساتھ انسانوں کاخون بہانا ان کا دل پسند مشغلہ ہے، ہمارا نہیں، بلکہ مغربی دانشوروں کا ہے۔ یہودیوں کا نظریہ ہے کہ دنیا کی دیگر قومیں ہیں ہی اس قابل کہ انہیں زمین سے نیست و نابود کر دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا تخلیق ہی صرف ان کی خاطر کی گئی ہے، اس لئے کسی بھی دیگر قوم اور مذہب کو یہا ں زندہ رہنے کا حق نہیں ہے۔

ہمارے اپنے مقدس وطن میں بھی اعلی سرکاری مغربی وفود اور آئی ایم ایف کے نمائندگان کی آمد و رفت جو صبح و شام لگی رہتی ہے، ان میں نہ جانے کتنے چہرے خود صہیونیت کے علمبرداروں کے ہیں۔ یوں کہنے کو تو ہمارے تعلقات اسرائیل سے قائم نہیں ہیں اور ہمارے پاسپورٹوں پر اسرائیلی سفر ممنوع بھی ہے، لیکن فری میسن یہودی افراد کا ان غیر ملکی وفود کی شکل میں یقینا ہماری پاک سرزمین کو لگاتار روندتے ہی رہتے ہوںگے!

فی بالغ فرد فی ووٹ کا دلکش اصول جس پر ایک بڑی دنیا عمل پیرا ہے، کم از کم تیسری، بلکہ مسلم دنیا کے لئے تو وہ گہرے مسائل ہی کا سبب بنا رہا ہے۔ اس طرزِ جمہوریت میں سروں کو محض گننے کی ضرورت درپیش رہتی ہے، اس سے قطع نظر کہ رائے دہندہ کس ذہنی و علمی مرتبے کا حامل ہے۔ جو غیر تعلیم یافتہ دیہاتی فرد ہے، ملک کی تقدیر بدلنے میں اس کا بھی ایک مساوی ووٹ ہے اور جو اعلی دینی یا علمی شخصیت ہے، اس کا بھی ایک مساوی ووٹ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طریقہ کار کے تحت کوئی بھی قوم اپنے اعلی مدارج تک نہیں پہنچ سکتی۔ پاکستان، مصر، لیبیا، شام اور اردن وغیرہ، غرض ہر مسلم ریاست کی حد تک اعتماد کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ صہیونیوں کی متعارف کردہ یہ جمہوریت ہمارے لئے سراسر سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ کھیل بنی رہی ہے۔ نتیجے میں عوام کے حصے میں سے اب تک گزشتہ سڑسٹھ سالوں میں سوائے غربت، محکومی، اور ملک و قوم کی بربادی کے بھلا اور کیا ہاتھ آ یا ہے؟ پاکستان نے گزشتہ سالوں میں چھوٹے بڑ ے اور ضمنی کم از کم تیس انتخابات تو دیکھے ہی ہوں گے مگر افسوس اس کے باوجود خود عوام بھی اس بارے میں پختہ نہیں ہو سکے۔ سارے عرصے میں ان کا ذہن وہی کچا اور بہک جانے والارہا ہے۔ اور یہی وہ نام نہاد جمہوریت ہے جس نے مصر میں چند سال پہلے سو فیصد منتخب عوامی جمہوری حکومت کو محض ایک سال کے عرصے میں چلتا کر دیا تھا۔ جرم کیا تھا؟ وہی کہ نئے آنے والے، ملک میں رحمتوں اور برکتوں والا دین نافذ کرنے کا پروگرام رکھتے تھے۔ یہی عمل وہ اس سے پہلے الجزائر اور فلسطین میں بھی کر چکے تھے۔ ہاں جمہوریت کو ا گر اس کے لغوی و عملی معنوں میں اختیار کیا جائے تو شاید امت مسلمہ کو کچھ مفید حل حاصل ہو سکیں، مگر جس کے لئے کسی بھی ملک کے مسلم عالی مرتبت و ذی وقار صاحبانِ اقتدار کبھی تیار نہیں ہوتے۔

اقوامِ متحدہ کی مانند مسلم ممالک کی تشکیل کردہ معروف اسلامی تنظیم او آئی سی Organization of Islamic Countries بھی محض ایک فدویانہ ادارہ بنی رہی ہے۔ تمام عالم اسلام مسائل کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے اور لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا جا چکا ہے لیکن ادارے کی تن آسانیاں ہیں کہ ختم ہی نہیں ہونے پاتیں۔ اس کے اندر وہ جراتِ رندانہ ہی مفقود ہے جو کسی عالمی طاقت کو چیلنج کرنے کے لائق بناتی ہے۔ لازم ہے کہ مسلمان اس تنظیم سے جان چھڑائیں اور اپنے اسی قدیم طرزِ خلافت کو دوبارہ بحال کریں جس سے انہیں کبھی عالمی قوت حاصل ہوئی تھی اور جو آج بھی جہانِ عالم میں ان کی سربلندی و کامرانی کا سبب بن سکتی ہے۔ (جاری ہے)