دوسری قسط:
اب آپ سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ خاندانی قوانین، نکاح، طلاق، وراثت، کفات، کفالت اور ولایت کے مسئلے، یہ ہم مسلمانوں نے قرآن و سنت سے لینے ہیں یا اقوام متحدہ سے لینے ہیں؟ یہ بنیادی بات ہے۔ نکاح قرآن پاک کی ہدایت کے مطابق کرنا ہے تو ٹھیک ہے اور اگر اقوام متحدہ کے مطابق کرنا ہے تو پھر نکاح کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ اگر ہمارے نکاح، طلاق اور وراثت کے احکام کے پیچھے قرآن و سنت نہیں ہیں تو اس کی ضرورت کیا ہے؟ ٹھیک ہے چلنے دیں، جیسے جنگل چلتا ہے ویسے آپ بھی جنگل چلائیں۔ لیکن اگر ہم نے نکاح، طلاق، وراثت اور متعلقہ مسائل قرآن و سنت کی رہنمائی میں کرنے ہیں اور الحمد للہ کر رہے ہیں تو پھر ہم مداخلت قبول نہیں کریں گے۔ یہ مداخلت سب سے پہلے ہوئی تھی ایوب خان مرحوم کے دور میں۔ مسلم فیملی لا آرڈیننس یہاں نافذ ہوا تھا۔ سب سے پہلے اس میں یہ کیا گیا تھا کہ لڑکا اٹھارہ سال کا اور لڑکی سولہ سال کی ہو، اس سے کم عمر کے نکاح کو قانونی طور پر ناجائز قرار دیا گیا تھا۔ اب عمر کی تبدیلی کی گئی ہے کہ لڑکی کی عمر سولہ سے اٹھارہ سال کر دی ہے۔ مغرب والوں سے میں کہا کرتا ہوں کہ مسلم سوسائٹی نے آج تک تمہارے ایجنڈے کو قبول نہیں کیا۔ کسی کو پتہ ہے کہ یہ بات طویل عرصے سے چلی آ رہی ہے؟ اب صرف یہ ہوا ہے کہ لڑکی کی عمر سولہ سے اٹھارہ کر دی گئی ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوا۔
اس وقت ہماری دینی قیادت نے اس آرڈیننس کو بیک آواز مسترد کر دیا تھا۔ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمة اللہ علیہ، حضرت مولانا مفتی ولی حسن رحمة اللہ علیہ، حضرت مولانا مفتی محمود رحمة اللہ علیہ، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمة اللہ علیہ اور حضرت مولانا عبد الحامد بدایونی رحمة اللہ علیہ جو بریلویوں کے بڑے قائد تھے اور مولانا سید داد غزنوی رحمة اللہ علیہ۔ تمام قیادتوں نے مشترکہ طور پر مسلم فیملی لا آرڈیننس کو غیرشرعی قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ میں ایک بات شامل کروں گا کہ اس مسلم فیملی لا آرڈیننس کو تحفظ دینے کے لیے اس کو مستثنیٰ کر دیا گیا تھا کہ آئندہ دس سال تک اس کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ یہ لڑائی 1962ء ہے۔ ایک مسئلہ تو یہ ہے۔
ایک مسئلہ طلاق کے حوالے سے تفویضِ طلاق کے نام سے ہے۔ ایک مسئلہ وراثت کا یتیم پوتے کی وراثت کے حوالے سے ہے۔ اس پر اگر آپ نے تفصیل پڑھنی ہے تو حضرت مولانا مفتی ولی حسن رحمة اللہ علیہ ہمارے بڑے اکابر مفتیان میں سے ہیں، ان کا تفصیلی تبصرہ موجود ہے اور مغربی پاکستان اسمبلی میں ان عائلی قوانین پر حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی نے اور قومی اسمبلی میں حضرت مولانا مفتی محمود نے تفصیلی خطاب کیا تھا، وہ دونوں ریکارڈ پہ موجود ہیں۔ اس میں طلاق کے مسائل بھی ہیں، وراثت کے مسائل بھی ہیں، نکاح کے مسائل بھی ہیں اور خاندانی قوانین پورے کے پورے مغربی سانچے میں ڈھالے گئے ہیں۔ جس کو اس وقت غیرشرعی قرار دے کر مسترد کر دیا گیا تھا، وہ آج بھی غیرشرعی ہے۔ ہمارا موقف وہی ہے جو عائلی قوانین کے بارے میں مولانا سید یوسف بنوری کا تھا، جو حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب کا تھا، جو مغربی پاکستان اسمبلی میں حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی کا تھا، جو قومی اسمبلی میں حضرت مولانا مفتی محمود صاحب کا تھا۔ یہ 1962ء کی بات ہے۔
علماء کرام سے میری گزارش یہ ہے کہ کچھ تھوڑا سا مطالعہ کر لیا کریں۔ کوئی نیا مسئلہ کھڑا ہو تو اپنے موقف کا مطالعہ کریں۔ کم از کم یہ تین چیزیں لازما پڑھیں:٭عائلی قوانین کی شرعی حیثیت پر حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب ٹونکی رحمة اللہ علیہ کا تبصرہ تفصیل سے کتاب کی صورت میں ہے۔٭مغربی پاکستان اسمبلی میں حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمة اللہ علیہ کی تقریر،٭اور قومی اسمبلی میں حضرت مولانا مفتی محمود رحمة اللہ علیہ کی تقریر۔ یہ تین دستاویزات تلاش کریں اور پڑھیں تاکہ آپ کو پتہ چلے کہ ہمارے خاندانی قوانین جو بین الاقوامی قوانین اور استعمار کی زد میں ہیں، ان کے مسائل کیا ہیں۔ مختصراً دیکھنا چاہیں تو 1999ء کے دوران گلاسگو برطانیہ کی مرکزی جامع مسجد میں مسلم پرسنل لا پر ایک کانفرنس تھی، میں نے ایک تبصرہ کیا تھا، وہ اس وقت میرے پاس موجود ہے جو میں مولانا کو مہیا کردوں گا، لیکن یہ سرسری تبصرہ ہے صرف معلومات کے لیے۔ اس پر اسٹڈی کے لیے آپ کو وہ تین چیزیں پڑھنی چاہئیں۔ اس کے علاوہ جامعہ فتحیہ، اچھرہ، لاہور کے مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف نے خاندانی نظام پر میرے خطبات کا ایک مجموعہ مرتب کر کے شائع کیا ہے، اس کا مطالعہ بھی اس حوالہ سے مفید رہے گا۔
انڈیا میں بھی یہ مسئلہ درپیش ہے۔ انڈیا میں ایک جھگڑا یہ ہے کہ مسلمان کی شادی ہندو سے کیوں نہیں ہو سکتی؟ ہندو کی شادی سکھ سے کیوں نہیں ہو سکتی؟ اس پر انڈیا میں آل پارٹیز مسلم پرسنل لا بورڈ بنا ہوا ہے اور جدوجہد جاری ہے۔ اِس وقت تفصیل کا موقع نہیں ہے۔ میں نے صرف آپ کو یہ آگاہ کیا ہے کہ یہ جھگڑا عالمی ہے اور کم ازکم چار عشروں سے جاری ہے، اس لیے آپ کو واقف ہونا چاہیے۔ اس کا ایک جزوی مسئلہ نکاحِ صغیر اور نکاحِ صغیرہ کا ہے کہ مرد کی اور عورت کی عمر کی حد مقرر کی گئی ہے۔ سولہ سال سے کم عمر لڑکی، اب اٹھارہ سال کر دی گئی ہے اور اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکا، ان کا نکاح غیرقانونی تصور ہوتا ہے۔ آپ کی فقہ کی کتابوں میں نکاحِ صغیر اور نکاحِ صغیرہ کے ضوابط ہیں، ولایت اجباری اور ولایت اختیاری وغیرہ، کیا یہ سارے معطل ہوگئے ہیں؟ شریعت میں صغیرہ کے نکاح پر پابندی کہاں لگی ہے؟ آپ کی حدیث کی کتابوں میں بھی یہ باب موجود ہے۔ آپ وہ ابواب دوبارہ پڑھ لیں۔ کفالت اور کفائت کیا ہے اور ولی کون ہے؟ اور ولی کے بغیر نکاح درست ہے یا نہیں۔ وہ سارے قوانین اِس ایک شق سے معطل ہو گئے ہیں۔ اگرچہ عملاً تو معطل نہیں ہیں لیکن قانونی طور پر معطل ہیں۔ عملاً تو سوسائٹی نے قبول ہی نہیں کیا اس کو الحمد للہ!
مثال کے طور پر عرض کرتا ہوں۔ نکاح کے فارم میں ایک خانہ تفویضِ طلاق کا بھی ہے کہ کیا خاوند نے بیوی کو طلاق کا حق تفویض کر دیا ہے؟ خاوند اگر بیوی کو طلاق کا حق تفویض کر دے تو یہ شرعاً بھی ہو جاتا ہے۔ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ ہوا یہ کہ ہم سے مطالبہ کیا گیا اقوام متحدہ کی طرف سے اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے کہ عورت کو طلاق کا حق دو۔ ہم نے بڑی حکمت عملی سے پاکستانی اسلوب کے مطابق کام کیا کہ نکاح فارم میں تفویضِ طلاق کا خانہ شامل کر کے ان کو کہہ دیا کہ ہم نے طلاق کا حق دے دیا ہے۔ یہ تفویضِ طلاق کا خانہ اس لیے شامل کیا تھا کہ انہوں نے ہم سے مطالبہ کیا تھا کہ عورت کو بھی طلاق کا حق دو، جس طرح مرد کو طلاق کا حق ہے۔ ہمارے ہاں مرد کو طلاق کا حق ہے اور عورت کو طلاق کا حق نہیں ہے لیکن مطالب طلاق کا حق ہے، جس کو خلع کہتے ہیں۔ ایک سوال ہوتا ہے کہ عورت کو آپ نے مرد کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ عورت کو مطالب طلاق یعنی خلع کا حق حاصل ہے اور اس کے فیصلے کا اختیار مرد کے علاوہ دو اور اداروں کے پاس بھی ہے۔ تحکیم میں بھی فسخِ نکاح ہوسکتا ہے، اگر عورت کا خلع کا مطالبہ ہے تو ‘ان خفتم شقاق بینھما فابعثوا حکما من اہلہ وحکما من اہلہا’ (النسائ) حکمین کو خلع کے اسباب موجود ہونے پر فسخِ نکاح کا حق ہے اور اگر حکمین بھی نہیں کرتے تو عدالت کو اس کا حق ہے۔ مغرب والوں سے میں یہ کہتا ہوں کہ یہ بات غلط ہے کہ ہم نے عورت کو مرد کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا ہے۔ عورت کو مطالب طلاق کا حق ہے، اس کا فیصلہ کرنے کی مختار مرد کے علاوہ دو اتھارٹیاں اور بھی ہیں۔ مرد پر منحصر نہیں ہے کہ طلاق دے یا نہ دے۔ حکمین بھی فسخِ نکاح کر سکتے ہیں اور قاضی بھی کر سکتا ہے۔ (جاری ہے)
