توبہ کی اہمیت اور اس کا طریقہ

رمضان المبارک روح کے تزکیہ اور تطہیر کا مہینہ ہے، کسی برتن میں کوئی اچھی چیز ڈالنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اس کو اچھی طرح صاف کر لیا جائے اور اس میں کوئی گندگی باقی نہ رہے، انسان کا دل بھی ایک برتن ہے، جس کی صلاح سے انسان کا پورا وجود صالحیت کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے، اور جس کے بگاڑ سے اس کا پورا وجود بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے، جیسے ظاہری گندگی اور میل کچیل سے انسان کا جسم اور اس کا لباس گندا ہو جاتا ہے، اور اس مین تعفن پیدا ہو جاتا ہے، اسی طرح گناہ بھی ایک روحانی گندگی ہے، جو قلب کے پیمانے کو ناپاک اور گندہ کر دیتا ہے، اس کو صاف کرنے کا طریقہ توبہ ہے، اللہ تعالیٰ کی شان کریمی ہے کہ انسان کتنا بھی بڑا گناہ کرے توبہ سے گناہ کا کا داغ دھل جاتا ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کفرو شرک میں مبتلا ہو اور وہ اس سے تائب ہو جائے تب بھی اس کو اپنے جرم سے معافی مل جاتی ہے۔

در اصل انسان خیر و شر کا مجموعہ ہے، یہ نیکیوں پر قادر ہے لیکن برائیوں سے عاجز نہیں، نہ فرشتہ ہے کہ برائی کا خیال تک دل میں نہ آئے اور نہ شیطان ہے کہ ضلالت و گمراہی سے کبھی دل خالی ہی نہ ہو، اس لئے اسے اس ”امتحان گاہ” میں رکھا گیا ہے کہ دیکھا جائے کہ اس کی نیکیاں برائیوں پر فتح پاتی ہیں یا برائیاں نیکیوں پر غالب آتی ہیں، انبیاء کے سوا کوئی انسان نہیں، جو غلطی اور خطا سے یکسر محفوظ ہو، گویا غلطی انسان کی سرشت میں ہے، اگر یہ نہ ہو تو انسان فرشتہ بن جائے، انبیاء کے بعد سب سے کامل انسان وہ لوگ ہوتے ہیں، جن کو انبیاء کی رفاقت اور نصرت کے لئے منتخب کیا جاتا ہے لیکن اس مقام و مرتبہ کے باوجود بعض اوقات پیغمبروں کے اصحاب سے بھی غلطیاں صادر ہوئی ہیں، البتہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان کو فوراً ہی اپنے گناہ پر ندامت اور پشیمانی ہوتی ہے، اور اس طرح یہی نہیں کہ ان کی یہ ندامت اس گناہ کی تلافی کا سامان بن جاتی ہے، بلکہ ان کا اس طرح گناہ کرنا اور پھر گناہ کے بعد اللہ تعالیٰ کی جلالتِ شان کے مطابق پشیمان ہونا بجائے خود امت کیلئے اسوہ قرار پاتا ہے۔

آپ نے اسی حقیقت کو اس طرح ارشاد فرمایا کہ ہر ابن آدم ضرور ہی خطا کرتا ہے لیکن بہترین خطا کار وہ ہیں، جو گناہ کا ارتکاب کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے دروازہ مغفرت پر اپنی ندامت کی پیشانی رکھ دیں اور توبہ کر لیں: ”خیر الخطائین التوابون” مخلوق کا مزاج یہ ہے کہ وہ انتقام لے کر خوش ہوتی ہے، اس سے اس کے جذبہ انا کی تسکین ہوتی ہے اور کلیجہ ٹھنڈا ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات پر رحمت کا غلبہ اور وہ رحمن و رحیم اور غفور و کریم ہے، اسی لئے اسے گنہگاروں اور کوتاہ کاروں کو معاف کر کے خوشی ہوتی ہے، انسان انتقام کے لئے بہانے ڈھونڈتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہانوں سے مغفرت کے فیصلے فرماتے ہیں، کسی نے حج کر لیا تو پچھلی پوری زندگی کا گناہ معاف کر دیا، عمرہ کر لیا تو ایک عمرہ سے دوسرا عمرہ کے درمیان کے گناہ معاف ہوگئے، بعض روزے ہیں کہ پورے صغیرہ گناہوں کے کفارہ ہیں، نمازیں بھی جسم سے گناہوں کے میل کو صاف کرتی ہیں، صدقات بھی گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی شانِ کریمی ہے کہ چھوٹے چھوٹے عمل کی بنیاد پر انسان کے گناہ معاف ہوتے جائیں۔

قرآن مجید نے اللہ تعالیٰ کو ”عفو” یعنی بہت معاف کرنے والا قرار دیا ہے، عربی زبان میں ”عفو” کے اصل معنی مٹانے کے ہیں، (القاموس المحیط) پس ”عفو” کے معنی مٹا دینے والے کے ہوئے، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن گناہوں کو معاف کرتے ہیں ان کو بالکل ہی مٹا دیتے ہیں اور شاید نامہ اعمال سے بھی محو فرما دیتے ہیں، یہ کتنی بڑی شانِ کریمی ہے! انسان کسی کو معاف بھی کر دے تو وہ غلطی کو لوحِ قلب سے مٹانے کو تیار نہیں ہوتا، وہ وقتی طور پر جذبہ انتقام کو دبا لیتا ہے اور جب کبھی تعلقات میں ناہمواری آتی ہے تو پھر اس کو اس کا نامہ اعمال دکھانے اور چھپے ہوئے واقعات کو منظر عام پر لانے کے لئے کمر کس لیتا ہے، سیاست کی دنیا میں تو اکثر اسکینڈل اسی طرح ظہور میں آتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے یہاں درگزر کا دامن اتنا وسیع ہے کہ جب اللہ کسی بات کو معاف فرماتے ہیں، تو اس کو ریکارڈ سے ہی حذف کر دیتے ہیں۔

توبہ کا تصور جہاں آخرت میں انسان کیلئے نافع ہے، وہیں دنیا میں بھی کچھ کم نافع نہیں، اگر ایک کے اندر ناامیدی اور مایوسی پیدا ہوگی، جرم کا حوصلہ بڑھے گا اور جرم پیشہ اذہان سوچنے لگیں گے کہ جب دوزخ مقرر ہی ہو چکی ہے، تو دنیا ہی کی لذت اٹھالی جائے اور جہاں ایک دفعہ جرم کا ارتکاب ہوا، دس اور سہی، اس سے جرم کو بڑھاوا ملے گا اور سماج میں زندگی اجیرن ہو جائے گی، اس لئے توبہ کا تصور دنیا میں بھی ایک بڑی رحمت ہے اور اس سے سماج کا امن و آشتی متعلق ہے۔

توبہ کے لئے اصل محرک اپنے گناہوں اور کوتاہیوں کا احساس ہے، انسان اپنے گناہ پر ندامت اور پشیمانی محسوس کرے، اپنے گناہوں کو یاد کر کے اس کا دل لرزنے لگے، خدا کے سامنے اس کے ہونٹ کپکپانے لگیں، آنکھوں کے آنسو دل کی بے چینی اور اضطراب کی گواہی دیں اور اس کا ضمیر گناہوں کے بوجھ تلے اپنے آپ کو دبا ہوا محسوس کرے، اس پشیمانی اور سچی ندامت کے بغیر محض زبان سے توبہ کے الفاظ کہہ دینا کافی نہیں، انسان پر اپنی قلبی کیفیت کے لحاظ سے گناہ کا کیا اثر مرتب ہوتا ہے؟ اس کو آپ نے ایک مثال سے واضح فرمایا کہ نیک اور سچا مسلمان جب کسی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو اسے ایسا لگتا ہے کہ جیسے اس کے سر پر پہاڑ جیسا بوجھ ہے اور جو شخص گناہوں کا عادی ہو جاتا ہے اسے گناہ سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی مکھی ہے جو ناک پر بیٹھی ہوئی ہے، ذرا ہاتھ ہلایا اور اڑگئی (بخاری، باب التوبہ) ایک اور روایت میں ہے کہ جب کوئی شخص گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے قلب پر ایک سیاہ دھبا پڑ جاتا ہے، اگر توبہ کر لے تو دھل جاتا ہے اور توبہ نہ کرے تو جوں جوں گناہ کرتا جاتا ہے قلب پر دھبے بڑھتے جاتے ہیں، یہاں تک کہ پورا قلب سیاہ ہو جاتا ہے، اب انسان گناہ کرتا ہے اور اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ (مستدرک حاکم)

حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لئے بے توفیقی سے بڑھ کر کوئی محرومی نہیں، جیسے دنیا میں بہت سے امراض ہیں جس سے آدمی دو چار ہوتا ہے؛ لیکن سچ پوچھئے تو شاید ”جنون” سے بڑھ کر کوئی مرض نہیں؛ اس لئے نہیں کہ اس میں تکلیف زیادہ ہوتی ہے؛ بلکہ اس لئے کہ اس میں مریض کو اپنے مریض ہونے کا احساس نہیں رہتا، وہ بیمار ہوتا ہے لیکن اپنے آپ کو صحت مند تصور کرتا ہے، اس کو علاج کی ضرورت ہوتی ہے لیکن وہ اپنے آپ کو علاج کی ضرورت سے بری سمجھتا ہے، اسی طرح توبہ سے بے توفیقی ایک ”روحانی جنون” ہے کہ انسان گناہ میں مبتلا ہے، سر سے پاوں تک گناہ میں ڈوبا ہوا ہے لیکن اپنے گناہگار ہونے کا کوئی احساس نہیں کرتا اور کبھی یہ خیال نہیں کرتا، کہ خدا کی چوکھٹ پر ندامت اور شرمندگی کی پیشانی رکھے اور التجا کی زبان کھولے، اللہ نہ کرے کہ کوئی مسلمان ایسی محرومی اور بدبختی سے دو چار ہو۔

توبہ کے لئے پچھلے کئے پر ندامت کے ساتھ مستقبل کا عزمِ مصمم بھی ضروری ہے، آدمی اپنے دل میں یہ ارادہ رکھے کہ وہ آئندہ کبھی بھی اس غلطی کا اعادہ نہ کرے گا، اس بات کا نام توبہ نہیں کہ ابھی غلطی کئے دیتے ہیں، اس کے باووجود پھر کبھی گناہ ہوگیا تو پھر توبہ کر لی جائے گی کہ بقولِ شاعر ”کم بخت قیامت ابھی آئی نہیں جاتی” کیوں کہ اس طرح کی سوچ اس بات کی علامت ہے، کہ وہ زبان اور دل کی رفاقت کے ساتھ پشیمانی کا اظہار نہیں کر رہا ہے اور اپنی توبہ میں صادق القول نہیں ہے۔ (جاری ہے)