فوج غزہ بھیجنے کا معاملہ، پاکستان نے بڑی شرط رکھ دی

اسلام آباد: پاکستان نے غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کے تحت فوج بھیجنے کے معاملے پر امریکا سے واضح یقین دہانی مانگ لی ہے۔
خبر رساں ادارے Reuters** سے گفتگو کرتے ہوئے تین سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اس شرط پر فوج بھیجنے پر آمادہ ہے کہ یہ مشن صرف امن قائم رکھنے تک محدود ہو اور اس میں حماس کو غیر مسلح کرنے جیسے کسی اقدام کا حصہ نہ بنایا جائے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو واشنگٹن میں امریکی صدرکے زیر صدارت بورڈ آف پیس کے پہلے باضابطہ اجلاس میں شرکت کریں گے، جس میں کم از کم 20 ممالک کے وفود بھی شریک ہوں گے۔
امریکی صدر ٹرمپ سے توقع ہے کہ وہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے اربوں ڈالر کے منصوبے کا اعلان کریں گے اور فلسطینی علاقے کے لیے اقوامِ متحدہ کی منظوری سے ایک استحکامی فورس کے قیام کی تفصیلات پیش کریں گے۔
تینوں ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف واشنگٹن کے دورے کے دوران یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی استحکام فورس کا مقصد کیا ہوگا، یہ کس اختیار کے تحت کام کرے گی اور اس کی کمان کس کے پاس ہوگی، اس کے بعد ہی پاکستانی فوج کی تعیناتی پر کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
وزیراعظم کے قریبی معاون نے کہا:ہم فوج بھیجنے کے لیے تیار ہیں، لیکن واضح کر دوں کہ ہماری فوج صرف امن مشن کا حصہ ہوگی۔ حماس کو غیر مسلح کرنے جیسا کوئی کردار ہمارے لیے ناقابلِ قبول ہے۔پاکستانی دفترِ خارجہ نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے رائٹرز کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔
امریکا اس فورس میں شامل ہونے کے لیے پاکستان پر زور دے رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان ایک مضبوط اور تجربہ کار فوج رکھتا ہے، جو بھارت کے ساتھ جنگوں اور اندرونی شورشوں سے نمٹنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے، اسی لیے وہ اس کثیر القومی فورس کے لیے اہم اثاثہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک ذریعے نے کہا:ہم کسی بھی وقت ابتدائی طور پر چند ہزار فوجی بھیج سکتے ہیں، مگر ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا کردار کیا ہوگا۔
دو ذرائع کا کہنا ہے کہ امکان ہے وزیراعظم شہباز شریف اجلاس کے موقع پر یا اس کے اگلے دن وائٹ ہائوس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات بھی کریں۔
بورڈ آف پیس کو صدر ٹرمپ عالمی تنازعات کے حل میں وسیع کردار دینا چاہتے ہیں، تاہم بعض ممالک کو خدشہ ہے کہ یہ ادارہ اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔پاکستان اگرچہ اس بورڈ کی حمایت کرتا ہے، مگر غزہ کو غیر عسکری بنانے اور حماس کو ختم کرنے جیسے اہداف پر اس نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد کو ایک طرف امریکا کو خوش رکھنے اور دوسری طرف ایک مسلم اکثریتی ملک میں ممکنہ عوامی ردِعمل کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کہا کہ پاکستانی عوام غزہ میں فوج بھیجنے کی حمایت صرف اس صورت میں کریں گے جب اس کا مقصد فلسطینیوں کا تحفظ ہو۔انہوں نے کہا:اگر فوج کی تعیناتی کے بعد غزہ میں فلسطینیوں کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو پاکستان میں عوامی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آ سکتا ہے۔