غزہ:غزہ کی پٹی کے باشندے مسلسل تیسرے سال رمضان کا استقبال جنگ اور اسرائیل کی جانب سے عائد پابندیوں کے سائے میں کر رہے ہیں۔
شہر میں روایتی جشن اور چہل پہل کے بجائے بے چینی اور غیر یقینی کی فضا ہے، جہاں گلیوں میں فانوسوں کی جگہ ملبے کے ڈھیر ہیں اور مٹھائیوں کی خوشبو کے بجائے بارود کا دھواں پھیلا ہوا ہے۔ البتہ غزہ کے باسی بنیادی اشیا کی قلت اور فوجی کارروائیوں کے خطرے کے باوجود مشکل ترین حالات میں روزے رکھنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع مغازی کیمپ میں 36 سالہ سعاد حمادہ اپنے چار بچوں کے ساتھ ایک خیمے میں مقیم ہیں۔ غزہ شہر کے محلے الزیتون میں اپنا گھر تباہ ہونے کے بعد وہ یہاں پناہ لینے پر مجبور ہوئیں۔
انہوں نے بتایا کہ اب انھیں گھر کی سجاوٹ یا مٹھائیوں کی فکر نہیں بلکہ وہ صرف اس سوچ میں ہیں کہ روٹی، سبزی اور گوشت کی قلت کے دور میں اپنے بچوں کے لیے افطار اور سحر کا انتظام کیسے کریں۔
اسی طرح شجاعیہ کے علاقے میں ایک جزوی تباہ شدہ اسکول میں پناہ لینے والے 50 سالہ خالد المصری کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ دو برسوں میں چار بار نقل مکانی کر چکے ہیں۔
ان کے مطابق بچوں کے ذہنوں سے سکون کا احساس ختم ہو چکا ہے اور ہر نیا دن فضائی حملوں کے خوف کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔ ان کے لیے اب ترجیح فانوس یا سجاوٹ نہیں بلکہ صرف جان کی سلامتی، کھانا اور پانی ہے۔
مقامی اندازوں کے مطابق غزہ کے اکثر باشندے جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم ایک بار بے گھر ہو چکے ہیں۔ رمضان اب خیموں اور پناہ گاہوں میں گزارا جا رہا ہے جہاں خلوت اور وسائل دونوں کی شدید کمی ہے۔
فلسطینی ماں کے لیے یہ محرومی صرف گھروں کی تباہی تک محدود نہیں بلکہ بہت سی مائیں اپنے لا پتا بچوں کے غم میں نڈھال ہیں۔
خان یونس سے بے گھر ہونے والی 39 سالہ لیلی عبداللہ کا 10 سالہ بیٹا ایک فضائی حملے کے دوران بھگدڑ میں لا پتا ہو گیا تھا جس کا تا حال کوئی سراغ نہیں ملا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کا بیٹا افطار کی تیاری میں ان کی مدد کیا کرتا تھا، مگر اب سب کچھ خاموش اور تکلیف دہ ہے۔
رفح سے تعلق رکھنے والے 62 سالہ محمد زکریا نے بتایا کہ معاشی حالات نے کمر توڑ دی ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جبکہ آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔
مقامی تاجروں کا بھی یہی کہنا ہے کہ مارکیٹوں میں صرف انتہائی ضروری اشیا موجود ہیں اور فانوس یا سجاوٹی سامان اب کسی کی ترجیح میں شامل نہیں۔
غزہ کے مقامی حکام کے مطابق گذشتہ سال 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اب تک 603 فلسطینی شہید اور 1618 زخمی ہو چکے ہیں۔ان میں 194 بچے، 84 خواتین اور 22 بزرگ شامل ہیں۔
یہ تعداد کل شہدا کا تقریبا 47.6 فیصد ہے جو کہ کمزور ترین طبقات کی نمائندگی کرتے ہیں۔اسی طرح زخمیوں کی تعداد 1623 ہو گئی ہے جن میں 501 بچے، 324 خواتین اور 89 بزرگ شامل ہیں جو کہ کل زخمیوں کا تقریبا 56.3 فیصد بنتا ہے۔
اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ جنگ کے باعث اب بھی 8 سے 11 ہزار افراد لا پتا ہیں، جن کے پیارے ایک نہ ختم ہونے والے انتظار کی کیفیت میں ہیں۔
قابض اسرائیلی افواج نے مسلسل 129 ویں روز بھی غزہ کی پٹی میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔حملوں میں مزید 13 فلسطینی شہید ہوگئے۔

