جب علم لذتوں پر غالب آجائے!

(محمد عربی صعود)
علامہ ابن الانباریؒ ایک عجوبہ روزگار شخصیت تھے۔ قدرت کی طرف سے اُن کو بہت ہی باکمال اور تعجب انگیز حافظے کی صلاحیت ودیعت فرمائی گئی تھی۔ اُن کی یادداشت کی گرفت بہت ہی مضبوط اور آہنی صفت تھی۔ الفاظِ قرآن کے استشہاد میں تین لاکھ اشعار اور ایک سو بیس تفاسیر سندوں کے ساتھ نوکِ زبان تھیں۔ وہ اس انمول تحفے کے بڑے قدرشناس تھے۔ اپنے حافظے کی زینت اور قوتِ حفظ کی نگہبانی کے لیے عیش و عشرت کی لذتوں کو پسِ پشت ڈال دیا تھا۔
ایک مرتبہ خلیفہ راضی کے دسترخوان پر لوگ جمع تھے، ان میں ابن الانباری بھی موجود تھے۔ جب شاہی دسترخوان لذیذ کھانوں سے سجنے لگا تو ابن الانباریؒ کے لیے خشک گوشت بھون کر لایا گیا، جو اُن کی ہدایت کے مطابق باورچی نے تیار کیا تھا۔ لوگ رنگارنگ اور عمدہ کھانوں سے لطف اندوز ہونے لگے لیکن وہ خشک گوشت تناول فرماتے رہے۔ لوگوں کی آنکھوں سے حیرانی اور پریشانی جھانکنے لگی۔ کھانے کے بعد عمدہ قسم کا حلوہ لایا گیا لیکن انہوں نے بھی اس کو قابلِ التفات نہ سمجھا۔ کھانے کے بعد لوگ ٹھنڈے کپڑوں میں سوگئے مگر ابن الانباری ؒراحت و آرام کے حصول کے لیے ان کپڑوں میں نہیں سوئے۔ اِس کے بعد انہوں نے عصر تک پانی نہیں پیا، عصر کے بعد غلام کو بلا کر ٹھنڈے پانی کے بجائے مٹکے کا پانی منگوا کر پیا۔ یہ مجاہدے اور مشقت کا منظر دیکھ کر ابوالحسن عروضی برداشت نہ کرسکے، خون کھولنے لگا۔ انہوں نے چیخ کر کہا: ’یاامیر المومنین!‘ تو اُن کو خلیفہ کے سامنے حاضر کیا گیا۔ خلیفہ نے پوچھا کیا مسئلہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: اے امیر المومنین! یہ شخص اِس بات کا محتاج ہے کہ اس کے اور اس کے نفس کے درمیان کوئی شخص حائل نہ ہو، ورنہ جیسا یہ اپنے نفس کے ساتھ معاملہ کرتا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ اپنے نفس کومار ڈالے گا۔ یہ سن کر امیرالمومنین ہنس پڑے اور کہا: اس کو لذت اور راحت اسی میں ملتی ہے۔ یہ عادت اس کی خصلتِ ثانیہ بن چکی ہے اور اس طرزِ زندگی سے مانوس ہونے کی وجہ سے یہ اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔
مزید پڑھیں  :
”اسکرین چھوڑو، کتاب اٹھاو“

ابوالحسن یہ سن کر حیرت و استعجاب میں ڈوب گئے۔ پھر انہوں نے خود اُن سے بات چیت کی اور کہا: ابوبکر! تم نے اپنے نفس پر جبر کا پتھر کیوں رکھا ہوا ہے؟ جواب ملا: اپنی قوتِ یاداشت برقرار رکھنے کے لیے۔ انہوں نے کہا: لوگوں میں تمہارے حافظے کا بڑا چرچا ہے، تمہیں کتنا یاد ہے؟ جواب دیا: تیرہ صندوق کتابوں کے۔ حفظ کی اتنی بڑی مقدار سن کر ابوالحسن اُن کی طرف رشک و مسرت بھری نظروں سے دیکھنے لگے۔ کہا جاتا ہے کہ علم کا اتنا ذخیرہ اُن سے پہلے کسی کو یاد تھا ، نہ اُن کے بعد کسی کو یہ مقام بآسانی حاصل ہوسکتا ہے۔ عادت شریفہ یہ تھی کہ بعض اوقات کھجوروں کو لے کر سونگھتے اور فرماتے تم عمدہ ہو لیکن اللہ نے جو مجھے علم عطا کیا ہے وہ مجھے تم سے زیادہ عزیز ہے۔ موت کے قریب جب بیمار پڑے تو دل نے جو چاہا وہی کھایا۔ فرمانے لگے کہ یہ مجھے مرض الموت لگتا ہے۔ اِس کے بعد علم و عمل کا یہ درخشندہ ستارہ موت کی آغوش میں چھپ گیا اور علم کی دنیا میں اپنے نقشِ جاوداں چھوڑ گیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی علم کی خاطر مشقت اٹھانے اور علم کی قدر کی توفیق مرحمت فرمائیں۔ آمین!