سندھ ہائی کورٹ میں نادرا حکام کی جانب سے لاکھوں افغان باشندوں کو پاکستانی شناختی دستاویزات اور پاسپورٹ جاری کیے جانے کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی آئینی بینچ کے روبرو کیس کی سماعت کے دوران ایک وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نادرا کے بعض افسران نے مبینہ طور پر رشوت لے کر تقریباً 20 لاکھ افغان شہریوں کو قومی شناختی کارڈ جاری کیے، جس کے بعد وہ پاکستانی پاسپورٹ پر دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کر رہے ہیں۔
فنگر پرنٹس نہ ہونے سے پریشان شہریوں کے لیے نادرا نے بڑی خوشخبری سنادی
عدالت کو بتایا گیا کہ افغان شہری نقیب اللہ کو درخواست گزار محمد اکرم کی فیملی ٹری میں غیر قانونی طور پر شامل کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں نادرا حکام نے محمد اکرم اور ان کے اہلِ خانہ کے تمام قومی شناختی کارڈز بلاک کر دیے۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کا افغان شہری سے کوئی خاندانی تعلق نہیں۔
سماعت کے دوران بینچ کے ایک رکن جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیسے لے کر نجانے ہر فیملی ٹری میں کتنے غیر متعلقہ افراد شامل کیے گئے ہوں گے۔ عدالت نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے نادرا حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ افغان شہری کو پاکستانی خاندان کی فیملی ٹری میں کیسے شامل کر دیا گیا؟ عدالت نے حکم دیا کہ اگر کسی پاکستانی شہری کی فیملی ٹری میں کوئی غیر متعلقہ یا غیر ملکی شخص شامل ہے تو اس کا نام فوری طور پر خارج کیا جائے۔
سندھ ہائی کورٹ نے نادرا حکام کو ہدایت کی کہ وہ 10 روز کے اندر درخواست گزار کی پوری فیملی کے قانونی دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیں اور عدالت کو رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے واضح کیا کہ پاکستانی شہریوں کی فیملی ٹری میں غیر ملکی افراد کی شمولیت ایک سنگین معاملہ ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
کیس کی مزید سماعت بعد کی تاریخ تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

