کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنمائوں کو سیکورٹی واپس دے دی گئی۔ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول، وفاقی وزیر مصطفی کمال، فاروق ستار اور انیس قائم خانی کو سیکورٹی واپس دے دی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی سے بھی پیپلزپارٹی کے رہنما کا رابطہ ہوا اور انہیں بھی سیکورٹی واپس ملنے کا امکان ہے۔
دریں اثناء نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفی کمال کا کہنا تھا کراچی جیسا اہم شہر سندھ حکومت جیسی نااہل صوبائی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہونا چاہیے، کراچی کو فی الفور وفاق کا حصہ بنایا جائے، وفاق ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کراچی کو کنٹرول کرسکتا ہے، وفاق کو آرٹیکل 148 کے تحت کراچی کو کنٹرول میں لینا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا گل پلازا کا سانحہ ہوا، لوگ شہید ہوگئے، گل پلازہ کی غفلت اور کارکردگی پر ہم نے اسے ظلم کہا، ظلم کوظلم کہنے پر یہ رویہ ہے تو دوبارہ کہتا ہوں کراچی کو ان کے چنگل سے آزاد کرایا جائے۔ رہنمائوں سے سیکورٹی واپس لینے سے متعلق سوال پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مجھ سے بھی سیکورٹی واپس لے لی گئی ہے۔
علاوہ ازیں کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی گل پلازہ سانحے پر جوڈیشل کمیشن بنائے ورنہ کراچی کو وفاق کے حوالے کردیں۔فاروق ستار نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت کے پاس کوئی جواب نہیں یہ جوڈیشل کمیشن بنانے میں جتنی تاخیر کریں گے اتنا دلدل میں پھنسیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ آپ کو چین سے سونے دے گا نہ جینے دے گا، نپولین کی طرح گل پلازہ تمہارا واٹر لو ثابت ہوگا۔
قبل ازیںسندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے وزرا سے سیکورٹی واپس نہیں لی گئی اور اس حوالے سے پھیلایا جانے والا تاثر بے بنیاد ہے۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کیا ایم کیو ایم کے وزرا نے وفاق میں سیکورٹی لے کر جانی تھی؟۔
وفاقی وزرا اسلام آباد میں ایک ایک سپاہی کے ساتھ گھومتے ہیں جبکہ کراچی میں ایم کیو ایم کے وزرا کو دس، دس سپاہی فراہم کیے گئے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم کی سیاست دفن ہو چکی ہے اور عوام نے اس جماعت کو مسترد کر دیا ہے۔
سانحہ گل پلازہ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جس گھر میں افسوس کا ماحول ہوتا ہے لوگ وہاں تعزیت کے لیے آتے ہیں، پروپیگنڈا کرنے نہیں، آج سے شہدا اور متاثرین کے گھروں میں چیکس خود پہنچائے جا رہے ہیں اور جو لوگ پروپیگنڈا کر رہے ہیں ان کے جھوٹے بیانیے کو مسترد کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حافظ نعیم الرحمان اور ان کی جماعت نے ہمیشہ منفی سیاست کی ہے اور چیزوں کو بگاڑنے والوں میں شامل رہے ہیں، حافظ نعیم الرحمان کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دینا چاہیے، تاہم احتجاج کرنا ہر ایک کا جمہوری حق ہے، احتجاج ضرور کریں، اگر غیر جمہوری انداز اختیار کیا گیا تو حکومت کارروائی کرے گی۔
شرجیل میمن نے فاروق ستار کو الیکشن لڑنے کا چیلنج بھی دے دیا۔پی پی رہنما نے کہا کہ فاروق ستار کو مقابلے کا شوق ہے تو دونوں اپنے حلقوں سے الیکشن لڑ لیتے ہیں، ایم کیو ایم جعلی مینڈیٹ پر آئی ہمارا مینڈیٹ جعلی نہیں۔
ادھر وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنمائوں سے پولیس سیکورٹی واپس لینے کی خبروں کی تردید کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنمائوں سے سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی، جن افراد کو قانون اور سیکورٹی کے پیش نظر سیکورٹی دی گئی ہے وہ فراہم کی جا رہی ہے، مصطفی کمال اور خالد مقبول صدیقی اسلام آباد میں ہیں، کسی بھی شخص کو دی گئی سیکورٹی واپس نہیں لی گئی۔

