رپورٹ: علی ہلال
یمن کے صوبہ حضرموت میں دسمبر 2025ء کے آخری دنوں میں سامنے آنے والی فوجی اور سیاسی کشیدگی محض جنگِ یمن کے روزمرہ واقعات کا حصہ نہیں بلکہ یہ اس چنگاری کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کے بارے میں یمنی امور کے ماہرین طویل عرصے سے خبردار کرتے آ رہے تھے۔
آج حضرموت میں جو کچھ ہو رہا ہے یعنی متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل (STC) اور حکومتِ یمن و سعودی عرب کے حمایت یافتہ حلف قبائلِ، حضرموت کے درمیان جھڑپیں اور متقابل عسکری تیاری،درحقیقت یمن کی جغرافیائی، سب سے بڑی انعامی حیثیت پر کنٹرول کی جنگ کا نقطہ عروج ہے۔ جہاں جنوبی عبوری کونسل فوجی طاقت کے ذریعے زمینی حقائق مسلط کر کے جنوبی یمن پر مکمل کنٹرول اور بالآخر یمن کی تقسیم کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے، وہیں قبائل الائنس حضرموت اور حضرموت نیشنل کونسل ایک مضبوط رکاوٹ کے طور پر سامنے کھڑے ہیں۔ انہیں سعودی عرب کی واضح علاقائی حمایت حاصل ہے جو اماراتی اثر و رسوخ کے تحت کسی ایک فریق کی اجارہ داری کو روکنا چاہتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ حضرموت کی اسٹریٹجک اہمیت کیا ہے اور مختلف طاقتیں اس پر کیوں نظریں جمائے بیٹھی ہیں؟
درس نظامی کے طالب علموں کے لیے حضرموت کا نام غیرمانوس نہیں ہے بلکہ نحو کی ابتدائی کتاب میں لفظ مفرد و مرکب کی تعریف اور مثالوں میں حضرموت اور بعلبک ہی کو پیش کیا جاتا ہے۔ بعلبک آج کل کے لبنان کا شہر ہے جو گزشتہ دنوں اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنا ہوا تھا جبکہ یمن کا صنعاءاور حضرموت بھی گزشتہ کئی برس سے عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ حضرموت یمن کا مشرقی دروازہ کہلاتا ہے۔ یمن کے حال اور مستقبل کو سمجھے بغیر حضرموت کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صوبہ نہ صرف رقبے کے لحاظ سے یمن کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہے بلکہ بحرِعرب تک رسائی، تیل و گیس کے وسیع ذخائر اور مقامی و علاقائی طاقتوں کے سنگم پر واقع ایک اہم ثقافتی و انسانی مرکز بھی ہے۔ حضرموت یمن کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہے اور بحرِعرب و بحرِہند سے متصل ہے۔ اس کا محلِ وقوع اسے خلیج، مشرقی افریقہ اور ایشیا کے درمیان بحری تجارت کی ایک کلیدی کڑی بناتا ہے۔
یہ صوبہ تقریباً 1,90,000 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے جو یمن کے کل رقبے کا قریباً ایک تہائی بنتا ہے۔ آبادی لگ بھگ 10 لاکھ 28 ہزار نفوس پر مشتمل ہے جبکہ حضرمی برادریاں خلیجی ممالک، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقی افریقہ میں بھی آباد ہیں۔ حضرموت کی سعودی عرب کے ساتھ ایک طویل اور حساس زمینی سرحد ہے جس میں ’منفذالودیعہ‘ جیسا اہم اسٹریٹجک راستہ شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاض حضرموت کو اپنی قومی سلامتی کا پچھلا دفاعی حصار سمجھتا ہے۔ سعودی عرب کسی ایسی مسلح قوت کوجو اس کے دائرہ اثر سے باہر ہو، وادی اور صحرا پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں۔
حضرموت کی ساحلی پٹی 360 کلومیٹر سے زیادہ طویل ہے جو اسے باب المندب جیسے مصروف اور غیرمستحکم بحری راستے سے ہٹ کر ایک متبادل اسٹریٹجک برتری فراہم کرتی ہے۔ یہ ساحل بین الاقوامی شپنگ روٹس کا حصہ ہے جو ایشیا، یورپ اور امریکا کو ملاتے ہیں اور موجودہ حالات میں توانائی اور تجارت کی سلامتی کے تناظر میں اس کی اہمیت دوچند ہوچکی ہے۔ مکلا بندرگاہ حضرموت کی سب سے اہم بندرگاہ ہے جبکہ الشحر اور الضبہ بندرگاہیں خام تیل کی ترسیل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین، بشمول فنانشل ٹائمز کے مطابق حضرموت کی بندرگاہیں اس صورت میں متبادل راستہ بن سکتی ہیں اگر اہم آبی گزرگاہیں بند ہوجائیں۔ حضرموت کا ساحلی اور وادی علاقہ زرعی اعتبار سے زرخیز ہے جہاں گندم، جو، کھجور اور ترش پھل پیدا ہوتے ہیں۔ اسی کے ساتھ بحرِعرب کی قربت ماہی گیری کو ایک مضبوط معاشی شعبہ بناتی ہے۔مکلا ساحلی خطے کا مرکزی شہر ہے۔سیﺅن اور تریم وادی حضرموت کے اہم شہر ہیں۔یہ صوبہ سعودی عرب اور سلطنتِ عمان کے درمیان واقع ہونے کے باعث صدیوں سے تجارت اور ثقافتی تبادلوں کا مرکز رہا ہے، جس کے اثرات مشرقی افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا تک پھیلے ہوئے ہیں۔
حضرموت کی جغرافیائی ساخت عسکری طور پر دو حصوں میں منقسم ہے۔ روایتی طور پر امارات کی حمایت یافتہ النخبة الحضرمیة اور جنوبی عبوری کونسل کے زیرِاثر وادی اور صحرا (سیون) حکومتِ یمن سے وابستہ پہلا فوجی ریجن اور حلف قبائل حضرموت کے کنٹرول میں ، جو سعودی جھکاو رکھتے ہیں۔ یہی تقسیم آج کے تنازعے کا اصل مرکز ہے جہاں ساحلی قوتیں وادی اور صحرا پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ حضرموت کی اقتصادی حیثیت بھی اس تنازعے کی بڑی وجہ ہے۔ یہ یمن کے قدرتی وسائل سے مالا مال ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ جنگ سے قبل حضرموت یمن کی تیل پیداوار کے نصف سے زائد کی ذمہ دار تھا۔بعض تخمینوں کے مطابق حضرموت یمن کے 80 فیصد تک تیل ذخائر رکھتا ہے، اسی لیے اسے”یمن کی بند خزانہ گاہ“ کہا جاتا ہے۔ یہی وسائل اسے کسی بھی حکمران قوت کے لیے معاشی ریڑھ کی ہڈی بناتے ہیں۔
حضرموت کے ’المسیلة‘ کے تیل کے میدان جنگ سے قبل ریاستی بجٹ کا تقریباً 70 فیصد فراہم کرتے تھے۔ حالیہ کشیدگی کا بڑا حصہ انہی میدانوں اور ان کی سپلائی لائنز پر کنٹرول کے گرد گھومتا ہے۔ جنوبی عبوری کونسل کے نزدیک حضرموت کے بغیر کوئی ’جنوبی ریاست‘ معاشی طور پر قابلِ عمل نہیں۔ الضبہ آئل ٹرمینل ماضی میں حوثی حملوں کے باعث بند رہا مگر موجودہ تنازعے میں اصل سوال یہ ہے کہ ’برآمدی نلکا کس کے ہاتھ میں ہوگا‘۔ قبائل تیل کی آمدنی میں مقامی حصے اور ترقیاتی ضمانتوں کا مطالبہ کررہے ہیں۔ تیل کے علاوہ حضرموت کے بعض علاقوں میں سونا اور دیگر معدنی ذخائر بھی پائے جاتے ہیں۔ غیرملکی کمپنیاں سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ عدم استحکام نے ان وسائل کے استخراج کو روک رکھا ہے۔
حضرموت پر ہر فریق کیا چاہتا ہے….؟ جنوبی عبوری کونسل کا مقصد وادی حضرموت پر مکمل کنٹرول ہے، حضرموت کے بغیر جنوبی ریاست کا قیام ناممکن ہے جس کے لیے عبوری کونسل نے حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے تدریجی دباو، محدود عسکری کارروائیاں اور قبائلی صفوں میں دراڑیں ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے۔ قبائل الائنس کا نعرہ: ’حضرموت اپنے فیصلے کا خود مالک‘ ہے۔ یہ گروپ تیل کی بندش کی دھمکی دے رہاہے۔تیسرے نمبر پر سعودی عرب ہے جس کا مقصد سرحدی سلامتی اور جنوبی یمن میں طاقت کا توازن ہے۔ چوتھے نمبر پر یمنی حکومت ہے جو سب سے کمزور گروپ ہے۔ اس کا کردار نہایت کمزورہے، داخلی اختلافات کا شکار ہے۔ پانچویں نمبر پر متحدہ عرب امارات ہے جس کا ہدف ساحلی اور بندرگاہ پر غلبہ ہے۔ دسمبر 2025ءکے آخر میں یمنی حکومت نے امارات کے ساتھ دفاعی معاہدہ منسوخ کر کے تمام اماراتی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا جسے حضرموت اور المہرة میں بڑھتے تناو کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا جارہا ہے۔

