حج ٹریننگ لازمی قرار،پاکستانی میڈیکل اسٹاف بھیجنے کا فیصلہ

پاکستان سے سرکاری وپرائیویٹ سکیم کے تحت آئندہ سال حج پر جانیوالوں کیلئے حج ٹریننگ لازمی قرار دی گئی۔پرائیویٹ حج ٹور آپریٹرز کی سخت مانیٹرنگ کی جائے گی ، شکایات کی صورت میں بھاری جرمانے کیساتھ بلیک لسٹ بھی کیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق روڈ ٹو مکہ حج کی سہولت اسلام آباد اورکراچی ایئرپورٹس پرمیسر ہوگی، عازمین کو حج سے متعلق مکمل تربیت دی جائے گی جس میں لاجسٹک، حج کے طریقہ کار ،لباس اور دیگر امور شامل ہوں گے۔

ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں تشکیل، مالیاتی نگرانی کا موثر نظام لاگو، حج ناظم سکیم جاری اور شکایات کی ازالہ کیلئے شفاف نظام رائج کیا جائے گا۔ سرکاری سکیم کے تحت 1 لاکھ 19 ہزار 210 جبکہ پرائیویٹ سکیم کے تحت 60 ہزارعازمین حج کی سعادت حاصل کریں گے۔سرکاری حج سکیم کے لیے 38 تا 42 دن کا روایتی طویل پیکیج اور 20 تا 25 دن کا مختصر پیکیج فراہم کیا جائیگا جبکہ سعودی عرب سے منظور شدہ ویکسین لگوانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ادھروزارتِ مذہبی امور نے حج 2025ء کے دوران عازمینِ حج کیلئے پاکستانی میڈیکل اسٹاف بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ۔ وزارت کے اعلامیہ کے مطابق بھرتی کا عمل این ٹی ایس کے ذریعے مکمل کیا جائے گا اور امیدوار اپنی درخواستیںمنگل تک جمع کروا سکتے ہیں۔حج کے دوران عازمین کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے وزارت 98 ڈاکٹرز، فارماسسٹس اور 196 پیرامیڈیکل اسٹاف سعودی عرب بھیجے گی۔ اعلامیے کے مطابق امیدوار کی عمر 25 سے 55 سال کے درمیان ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی کم از کم تین سال کا سرکاری سروس تجربہ اور سروس میں حاضر ہونا لازمی ہے۔

بھرتی کیلئے امیدوار کو اپنے متعلقہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سے فٹنس سرٹیفکیٹ بھی جمع کرانا ہوگا۔ وزارت نے کہا ہے کہ دل، شوگر یا ہائی بلڈ پریشر کے حامل افراد اہل نہیں ہوں گے۔مزید بتایا گیا ہے کہ 30 فیصد کوٹہ خواتین میڈیکل اسٹاف کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ منتخب افراد حج کے دوران سعودی عرب میں ڈیوٹیاں سرانجام دیں گے۔وزارتِ مذہبی امور نے واضح کیا ہے کہ سعودی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو فوری وطن واپس بھیج دیا جائے گا۔ میڈیکل مشن کی تعیناتی وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق کی جائے گی۔