کے پی حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کی تیاری مکمل کر لی، ن لیگ کاساتھ دینے کا اعلان

خیبرپختونخوا حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کے لئے تیاری مکمل کرلی، وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کے ضم کے لئے مختص فنڈز کے اعداد و شمار جمع کر لئے گئے ہیں ، خیبرپختونخوا حکومت کو اے آئی پی اور اے ڈی پی کیلئے گزشتہ چند سالوں کے دوران 557 ارب روپے کم ملے ہیں، اے آئی پی میں 531 اور اے ڈی پی میں 26 ارب روپے کم ملے ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کے لئے تیاری مکمل کرلی،وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کے ضم کے لئے مختص فنڈز کے اعداد و شمار جمع کر لئے گئے ہیں۔

دستاویز کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کو اے آئی پی اور اے ڈی پی کے لیے گزشتہ چند سالوں کے دوران 557 ارب روپے کم ملے ہیں، اے آئی پی میں 531 اور اے ڈی پی میں 26 ارب روپے کم ملے ہیں ، اے آئی پی کے لئے گزشتہ 7 سالوں کے دوران 700 ارب روپے جاری کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

وعدے کے مطابق گزشتہ 7 سالوں کے دوران جاری ہونے والے 700 ارب روپے کا صرف 24 فیصد ہی جاری ہوسکا ہے، وفاقی حکومت نے 700 ارب روپے جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا جس میں صرف 215 ارب روپے مختص کئے گئے،مختص فنڈز میں گزشتہ 7 سالوں کے دوران صرف 168 ارب روپے جاری ہوسکے، 2018ـ19 سے 2024ـ25ء تک 531 ارب روپے کم ملے ہیں، وفاق کی جانب سے کم فنڈز جاری ہونے سے صوبائی حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا ہیں ، فاٹا انضمام کے 7 سال بعد بھی وہاں ترقی خواب ہے،اے ڈی پی کے لئے بھی 150 ارب مختص تو کئے گئے لیکن اس میں بھی صرف 123 ارب جاری ہوسکے ہیں،گزشتہ 6 سالوں کے دوران ضم اضلاع اے ڈی پی میں تقریبا 27 ارب روپے کم ملے ہیں۔

ادھرن لیگ کے پی نے این ایف سی معاملے پر پی ٹی آئی حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کردیا۔ مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر خیبر پختونخوا اسمبلی سردار شاہجہان یوسف نے کہا ہے کہ این ایف سی کے حوالے سے ہماری پارٹی صوبائی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ صوبائی وزیر مینا خان اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سردار شاہجہان یوسف کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ سے متعلق باقی صوبوں کے ساتھ بھی بات کریں گے۔ فاٹا انضمام کے بعد ان کے فنڈز نہیں آئے، نیشنل فنانس کے حوالے سے ہماری پارٹی کے پی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔

رکن پیپلزپارٹی احمد کنڈی کا کہنا تھا کہ وسائل کی تقسیم کے حوالے سے ہمارا مقف واضح ہے، 4 دسمبر سے قبل میٹنگ ہوگی، تمام صوبوں سمیت وفاق کے ساتھ لابنگ کریں گے۔رکن اے این پی ارباب عثمان کا کہنا تھا کہ اے این پی سیاست سے بالاتر ہو کر پختونخوا کا حق مانگتی ہے، اس معاملے میں صوبائی حکومت کے ساتھ ہیں، ہمارے صوبے کو فیئر شیئرز سے زیادہ دیا جائے، صوبے کے حقوق کے لیے ہم متفق ہیں۔

صوبائی وزیر مینا خان کا کہنا تھا کہ4دسمبر این ایف سی اجلاس میں خیبرپختونخوا کا مقدمہ پیش کریں گے، صوبیکا پہلے 14.2 حصہ بنتا تھا، فاٹا انضمام کے بعد 19.4 فیصد بنتا ہے، وفاق کے ذمہ صوبے کے بقایا جات فوری ادا کیے جائیں، وفاق اور باقی صوبوں کے ساتھ بھی بات کریں گے۔