لاہور : محکمہ قانون نے گورنر پنجاب کی منظوری کے بعد گاڑیوں کے جرمانوں کے حوالے سے نیا آرڈیننس جاری کیا ہے۔ نئے قوانین کے مطابق مختلف ٹریفک خلاف ورزیوں پر سخت جرمانے نافذ کیے جائیں گے۔
تیز رفتاری پر موٹرسائیکل کو 2ہزار روپے جرمانہ ہو گا،موٹر کار کو تیز رفتاری پر 5ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا، ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی پر موٹرسائیکل کو 2ہزار جرمانہ ہوگا، سگنل کی خلاف ورزی پر تھری ویلر کو 3ہزار روپے جرمانہ ہوگا ، ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی پر کار کو 5 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔
2000 سی سی گاڑیوں کو سگنل کی خلاف ورزی پر 10 ہزار جرمانہ ہوگا، 2000 سی سی سے زاید کی گاڑیوں کوسگنل خلاف ورزی پر 15 ہزار جرمانہ ہوگا، اوور لوڈنگ پر تھری ویلر کو 3ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا،اوورلوڈنگ پر 2ہزار سی سی سے کم گاڑیوں کو 5ہزار روپے جرمانہ ہوگا،اوور لوڈنگ پر 2ہزار سی سی سیزائدگاڑیوں کو 10ہزار روپے جرمانہ ہوگا، ٹرالر کو اوورلوڈنگ پر 15ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا۔دھواں چھوڑتی موٹرسائیکل کو 2ہزار روپے جرمانہ ہوگا،تھری ویلر گاڑی کو دھواں چھوڑنے پر 3ہزار روپے جرمانہ ہوگا،بڑی گاڑی کو دھواں چھوڑنے پر 8ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا،ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو دھواں چھوڑنے پر 15 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔
آرڈیننس میں بتایاگیا ہے کہ بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی چلانے پر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور جیل ہوگی،اوور اسپیڈنگ پرجرمانے میں 300فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے، ون ویکی خلاف ورزی پر 6ماہ قید یا 50 ہزار روپے تک جرمانہ ہوگا۔اس کے علاوہ کم عمرڈرائیونگ کی سزا دگنی ہو گی اور والدین بھی ذمہ دار ہوں گے، پیلی نمبرپلیٹ یا جعلی نمبرپلیٹ پرسخت سزائیں ہوں گی، دوبارہ خلاف ورزی پر اضافی جرمانہ کیا جائیگا، نان اسٹینڈرڈ شیشوں پر 6ماہ تک قید کی سزا ہوگی، گاڑی کی رجسٹریشن، دستاویزات ساتھ نہ رکھنے پربھی سخت کارروائی ہوگی۔
چالان دستاویز کی ٹکٹنگ اب مکمل طور پر الیکٹرانک ہوگی اورگاڑی میں ڈرائیورکے ساتھ فرنٹ سیٹ پربیٹھنے والے کے لیے بھی بیلٹ لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔محکمہ قانون کا کہنا ہے کہ آرڈیننس کے نفاذ سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں کمی آئے گی اور شہریوں کی حفاظت بہتر ہوگی۔
پنجاب میں موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترامیم کا نفاذ ہوگیا، گورنر پنجاب کی منظوری کے بعد صوبائی موٹر وہیکل آرڈیننس 2025 نافذ کر دیئے گئے۔موٹر وہیکل آرڈیننس کے مطابق پنجاب میں گاڑیوں، ڈرائیونگ لائسنس اور ٹریفک سسٹم میں بڑے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔

