لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے بدل دو نظام تحریک کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے ملک گیر احتجاجی جلسوں اور دھرنوں کا اعلان کردیا۔یہ اعلان انہوں نے لاہور میں جماعت اسلامی کے 3 روزہ اجتماع عام کے آخری روز ملک بھر سے آئے شرکا سے اپنے خطاب میں کیا ۔
انہوں نے کہا کہ چند لوگوں کو انکے منصب سے معذول کرکے نظام بدلیں گے،عدلیہ کے جعلی نظام کو ختم کریں گے، چند لوگ آئین میں تبدیلیاں کرکے اپنی لوٹ مار کا تحفظ چاہتے ہیں لیکن انہیں 25 کروڑ عوام کے سامنے جوابدہ بنائیں گے، آئین کی بالادستی و تحفظ کیلئے تحریک چلائیں گے ، قومی انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہونے تک ہمارا کوئی امیدوار نہیں ہوگا۔
غزہ منصوبے کو نہیں مانتے،پاکستان کی خارجہ پالیسی آزاد خارجہ پالیسی ہونی چاہیے، ہم دوستی کریں گے تو عزت و وقار کے ساتھ کریں گے، ٹرمپ کی ثالثی میں کشمیر پر کوئی سمجھوتہ کیا تو قوم اسے قبول نہیں کرے گی، امریکا کی غلامی اختیار کرکے ہم نے خود کو تباہ کرلیا ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے موجودہ حالات بھی اسی کا نتیجہ ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان نے فلسطین پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے عالمی استحکام فورس کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا، ہم صرف آزاد اور خودمختار فلسطین چاہتے ہیں، جس کسی نے پاکستان کی فلسطین پالیسی سے انحراف کیا تو اسے نشان عبرت بنا دیں گے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے روڈمیپ پر عمل کیا جائے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عام انتخابات کے اعلان تک کسی انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے، نواز شریف! عوام اب ہارس ٹریڈنگ کی حقیقت کو پوری طرح سمجھ چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شہریوں نے دیکھ لیا ہے کہ کون اپنے موقف پر ڈٹا رہتا ہے اور کون اپنے عوامی مینڈیٹ کو بیچ دیتا ہے، اسی لیے ہر جگہ حافظ نعیم الرحمن کی حمایت بڑھ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حافظ نعیم نے اس وقت سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا جب دوسرے سودے بازی میں مصروف تھے، عوام اپنا فیصلہ کر چکے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وڈیرا صاحب! سندھ کے لوگ ناانصافی پر مبنی غیر منصفانہ کم از کم مزدوری کے خلاف متحد ہو کر حافظ نعیم الرحمن کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سالوں سے محنت کش طبقے کو نظر انداز کیا جاتا رہا، لیکن آج سندھ ہمت کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ مطالبہ کر رہا ہے جو ہر محنتی پاکستانی کا حق ہے،عزت، احترام اور منصفانہ اجرت۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ تحریک صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں، یہ لوگوں، خاندانوں اور ہمارے صوبے کے مستقبل کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ نظم و ضبط کے بغیر تحریکیں ختم ہوجاتی ہیں، قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ دنیامیں اب ظلم کا نظام ختم ہونا چاہیے، فلسطین میں انسانیت کا قتل عام ہو رہا ہے، دنیا بھر کے مظلوموں کو اکٹھا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ دنیا کے معاملات چند لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں، انسانیت سسک رہی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اپنے مقامی حالات میں کام کرے گی، ظلم کے خلاف آواز اٹھائے گی، جبر کا سامنا کرے گی، لیکن ہم قوم پرست ہیں نہ تقسیم پیدا کریں گے، ہم پاکستان سے کیوں شکوہ کریں؟ پاکستان کسی وڈیرے، جرنیل یا سیاستدان کی جاگیر نہیں، ہر بلوچ، سندھی، کشمیری، پٹھان، ہزارے وال، پنجابی اور مہاجر سمیت یہاں بسنے والی تمام قومیتوں کا ہے۔

